سوڈان خانہ جنگی میں ایک اور نسل کا ضیاع، امینہ محمد
سوڈان میں جاری جنگ کو 1,200سے زیادہ روز ہو چکے ہیں اور اس دوران لاکھوں بچے تعلیم سے محروم، بے گھر اور اپنے حقوق کی سنگین پامالیوں کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لیے فوری اور موثر اقدامات کیے جائیں۔
نائب سیکرٹری جنرل نے سوڈان میں تعلیم کے تحفظ کے موضوع پر منعقدہ سلامتی کونسل کے غیررسمی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس جنگ نے سوڈان سے بہت کچھ چھین لیا ہے مگر سب سے بڑا نقصان بچوں کے مستقبل کا ہے کیونکہ انہیں تعلیم کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
کم از کم 80 لاکھ بچے تعلیمی اداروں سے باہر ہیں جبکہ اس بحران کا سب سے زیادہ اثر ان لاکھوں بچوں پر پڑا ہے جو بے گھر ہو گئے ہیں یا دوسرے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ جنگ سے بری طرح متاثرہ علاقے دارفور میں تقریباً تین چوتھائی سکول تباہ ہو چکے ہیں، شدید نقصان کا شکار ہوئے ہیں یا مکمل طور پر غیر فعال ہو گئے ہیں۔ والدین کہتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کے بجائے گھر میں رکھنا زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں۔
امینہ محمد نے بتایا کہ 2024 سے اب تک اقوام متحدہ نے سوڈان میں سکولوں پر 67 سے زیادہ حملوں کی تصدیق کی ہے جبکہ 154 سے زیادہ ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں تعلیمی اداروں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ تاہم اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
بچوں کے تحفظ اور وقار پر حملہ
امینہ محمد نے سکولوں پر حملوں کو بچوں کے تحفظ اور وقار پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات سے بچے نہ صرف محفوظ تعلیمی ماحول سے محروم ہو جاتے ہیں بلکہ اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ سماجی نشوونما کے مواقع بھی کھو دیتے ہیں۔
یہ حملے انہیں سکولوں میں فراہم کی جانے والی بنیادی سہولتوں، جیسا کہ غذائی پروگرام، طبی خدمات اور ذہنی صحت کی معاونت سے بھی محروم کر دیتے ہیں۔ سوڈان اپنی سابقہ جنگوں میں پہلے ہی ایک نسل کھو چکا ہے، اور اب اس کی ایک اور نسل ضائع ہونے کو ہے۔
دوسری نسل ضائع ہونے کا خدشہ
نائب سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ رواں سال اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے 10 لاکھ سے زیادہ سوڈانی بچوں کو کسی نہ کسی صورت میں دوبارہ تعلیمی سرگرمیوں سے جوڑنے میں کامیابی حاصل کی ہے، مگر یہ کوششیں موجودہ ضرورت کے مقابلے میں ناکافی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ جنگ مردوں نے شروع کی مگر اس کی سب سے بھاری قیمت خواتین اور بچے چکا رہے ہیں جن کا اس جنگ کو شروع کرنے میں کوئی کردار نہیں تھا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہتھیار رکھ دیے جائیں اور سوڈان کی ایک اور نسل کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔
امینہ محمد نے سلامتی کونسل کے ارکان پر زور دیا کہ وہ جنگ کے خاتمے، پائیدار امن کے قیام اور ایسے حالات پیدا کرنے کے لیے اپنی تمام تر کوششیں بروئے کار لائیں جن کے ذریعے سوڈان کے بچے دوبارہ تعلیم حاصل کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم نہ صرف جانیں بچاتی ہے بلکہ مستقبل بھی سنوارتی ہے۔ یہ آج بچوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے اور کل امن، بحالی اور استحکام کی بنیاد رکھتی ہے۔ سوڈان کے بچے جنگ کے خاتمے کے لیے 1,210 دن سے انتظار کر رہے ہیں اور اب ان کا انتظار ختم ہونا چاہیے۔