انسانی کہانیاں عالمی تناظر

غزہ: بے پناہ انسانی ضروریات لیکن امدادی کارروائیوں میں معمولی بہتری

غزہ میں لوگ پانی کے کنٹینرز بھرنے کے لیے یو این ڈی پی کا سبز پانی کا ٹرک گرد جمع ہوتے ہیں۔
UN News اقوام متحدہ کا ادارہ ’یو این ڈی پی‘ غزہ میں لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم کر رہا ہے (فائل فوٹو)۔

غزہ: بے پناہ انسانی ضروریات لیکن امدادی کارروائیوں میں معمولی بہتری

انسانی امداد

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ حالیہ دنوں غزہ میں ضروری امدادی سامان کی ترسیل کسی حد تک بہتر ہوئی ہے تاہم انسانی ضروریات بدستور انتہائی وسیع ہیں اور آبادی کے بڑے حصے کا انحصار امداد پر ہے۔

گزشتہ مہینے اقوام متحدہ اور اس کے شراکت داروں نے جون کے مقابلے میں 33 فیصد زیادہ امدادی سامان غزہ پہنچایا۔ اس دوران مجموعی طور پر مختلف النوع سامان کے 55 ہزار صندوق علاقے میں آئے جو تقریباً 35 ہزار میٹرک ٹن یا 2,600 ٹرکوں کے برابر ہے۔ 

اوچا کے مطابق، اس سامان کا تقریباً 60 فیصد خوراک پر مشتمل تھا جبکہ عارضی رہائش کے لیے درکار چیزوں، پانی، صفائی اور حفظان صحت کی اشیا اور طبی سازوسامان کی کچھ مقدار بھی غزہ بھیجی گئی اور نجی شعبے نے بھی اضافی سامان درآمد کیا۔

امدادی اداروں نے کہا ہے کہ گاڑیوں کے فاضل پرزوں اور انجن کے تیل کی غزہ میں ترسیل کے لیے مزید اجازت ناموں کی ضرورت ہے کیونکہ تمام امدادی سرگرمیاں گاڑیوں اور بیک اپ جنریٹروں پر منحصر ہیں جن کی مسلسل دیکھ بھال ضروری ہوتی ہے۔ اگر انجن کا تیل درآمد کرنے کی درخواستیں مسلسل مسترد ہوتی رہیں اور نجی شعبے کے ذریعے معیاری تیل کی محدود مقدار ہی دستیاب رہی، تو ہسپتالوں، پانی کی فراہمی کے مراکز اور تنوروں جیسی بنیادی محدود یا مکمل طور پر بند ہونے کا خدشہ ہے۔

تباہ شدہ عمارتوں میں اضافہ

ادارے نے یہ بھی بتایا ہے کہ غزہ میں پائیدار تعمیراتی اور رہائشی مواد کی آمدپر پابندیاں بھی برقرار ہیں۔ غزہ کے 21 لاکھ سے زیادہ شہریوں کی اکثریت اب بھی بے گھر ہے اور نہایت کٹھن حالات میں زندگی گزار رہی ہے۔ اکتوبر میں جنگ بندی کا اعلان ہونے کے بعد غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کی تعداد میں مزید 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

اوچا نے کہا ہے کہ غزہ کی 82 فیصد عمارتیں حملوں میں کسی نہ کسی حد تک متاثر ہو چکی ہیں۔ مجموعی طور پر دو لاکھ سے زیادہ عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے جن میں سے اندازاً دو تہائی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔

مغربی کنارے میں تشدد

اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے بتایا ہے کہ انسانی امداد فراہم کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے جمعے کو یروشلم میں واقع قلندیہ پناہ گزین کیمپ کا دورہ کیا جہاں انہوں نے اسرائیلی فوج کی دو روزہ کارروائی کے بعد متاثرہ خاندانوں کی ضروریات کا مشترکہ جائزہ لیا۔ اس موقع پر متعدد لوگوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے ان کے گھروں میں قیام کے دوران دروازوں، کھڑکیوں اور گھریلو سامان کو نقصان پہنچا جبکہ بہت سے لوگوں کو بھاری مالی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔

فلسطینی ہلال احمر سوسائٹی کے مطابق، اس دو روزہ کارروائی کے دوران 50 سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ ترجمان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار متاثرہ افراد کی فوری مدد کے لیے امدادی وسائل اور تعاون جمع کرنے میں مصروف ہیں۔