انسانی کہانیاں عالمی تناظر

کانگو: ایبولا سے 300 بچے ہلاک جبکہ ویکسین بارے حوصلہ افزا پیش رفت

حفاظتی پوشاک میں ایک محفوظ اور باوقار تدفین کرنے والی ٹیم کے ارکان جمہوری جمہوریہ کانگو کے صوبہ اٹوری کے روامپارا میں ایبولا کے علاج کے مرکز میں ایک لاش کو ٹرک میں لوڈ کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
© UNOCHA/Ramatoulaye Mussa Maz کانگو میں ایبولا سے مرنے والے ایک شخص کو دفنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔

کانگو: ایبولا سے 300 بچے ہلاک جبکہ ویکسین بارے حوصلہ افزا پیش رفت

صحت

جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) کے مشرقی علاقے میں ایبولا کی وبا کے باعث 300 سے زیادہ بچوں کی اموات ہو چکی ہیں۔ طبی ماہرین نے ایبولا وائرس کی نایاب قسم بنڈی بگیو سے پھیلنے والی اس وبا کو روکنے کے لیے پہلے سے موجود ایک ویکسین کی آزمائش کے لیے سفارش کی ہے۔

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، مرض سے بری طرح متاثرہ صوبے ایتوری میں اس وبا کا سب سے زیادہ بوجھ خواتین اور بچوں پر پڑ رہا ہے۔ اس علاقے میں مسلح تنازعات کے باعث تقریباً 10 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں 80 فیصد تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال(یونیسف) نے کہا ہے کہ اگرچہ مصدقہ مریضوں میں بچوں کا حصہ تقریباً 25 فیصد ہے لیکن مجموعی اموات میں ان کا تناسب تشویشناک طور سے تقریباً ایک تہائی ہے۔

ویکسین کی آزمائش

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایک مشاورتی پینل نے سفارش کی ہے کہ اس بیماری کی معروف قسم 'ایبولا زائر' کے خلاف استعمال ہونے والی ارویبو ویکسین کی بنڈی بگیو وائرس کے خلاف باقاعدہ آزمائش ہونی چاہیے۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ جانوروں پر ہونے والی ابتدائی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ ویکسین بنڈی بگیو وائرس کے خلاف کسی حد تک تحفظ فراہم کر سکتی ہے اور خصوصاً اس بیماری سے ہونے والی اموات میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ 

ماہرین نے اس ویکسین کی حفاظت، دستیابی، تاثیر اور عملی استعمال کے امکانات کا بھی جائزہ لیا اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ تصدیق شدہ مریضوں کے قریبی رابطے میں آنے والے افراد کو یہ ویکسین دینے میں کوئی حفاظتی خدشہ موجود نہیں۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا ہے کہ بنڈی بگیو وائرس کے لیے خصوصی طور پر تیار کی جانے والی ویکسین اب بھی بہترین اور ترجیحی حل ہو گی۔

بنیادی طبی سہولیات سے محرومی

اقوام متحدہ نے رواں ہفتے کے آغاز میں خبردار کیا تھا کہ اس وبا نے بنیادی طبی خدمات کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے۔ ادارے کے نائب ترجمان فرحان حق نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ سب سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں گزشتہ چند ماہ کے دوران طبی مراکز سے رجوع کرنے والوں کی تعداد 40 فیصد کم ہو گئی ہے،کیونکہ لوگ ایبولا کے خوف سے ہسپتالوں کا رخ کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے آبادی(یو این ایف پی اے) نے خبردار کیا ہے کہ بیماری کا خوف اور پہلے سے دباؤ کا شکار طبی نظام بہت سی حاملہ خواتین کو طبی امداد حاصل کرنے سے روک رہا ہے۔

وبا شروع ہونے کے بعد ایتوری میں زچگی کے دوران ہونے والی اموات تقریباً دوگنا بڑھ گئی ہیں۔ ہر ہفتے تقریباً چھ خواتین حمل یا زچگی سے متعلق پیچیدگیوں کے باعث موت کے منہ میں جا رہی ہیں جبکہ حمل کے دوران ایبولا کا انفیکشن تقریباً ہر صورت میں بچہ ضائع ہونے کا سبب بنتا ہے۔

مرض کے خلاف آگاہی مہم

امدادی اداروں نے زور دیا ہے کہ وبا پر قابو پانے کے لیے مقامی آبادی کا اعتماد بحال کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے لیے کانگو کی وزارت صحت اور اس کے شراکت دار اداروں نے مقامی سطح پر 13 ہزار سے زیادہ کارکن تعینات کیے ہیں۔

ان کارکنوں نے اب تک 24 لاکھ سے زیادہ لوگوں تک ایبولا سے بچاؤ اور بیماری کی بروقت تشخیص سے متعلق معلومات پہنچائی ہیں جبکہ پانچ لاکھ سے زیادہ گھروں کے دورے بھی کیے گئے تاکہ غلط اطلاعات کا توڑ ہو سکے اور لوگوں کو بروقت علاج کی ترغیب دی جا سکے۔