انسانی کہانیاں عالمی تناظر

گرمی کی لہر اور مہنگا ایندھن غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب

ایک سپر مارکیٹ کے گلیارے میں مشرق وسطیٰ کا آدمی سرخ ٹوکری کے ساتھ خریداری کرتے ہوئے کھانے پینے کی اشیاء کا جائزہ لے رہا ہے۔
WFP/ Ali Jadallah چاول کی قیمتیں تقریباً مستحکم رہیں تاہم گندم کی عالمی قیمت میں 5.8 فیصد اضافہ ہوا۔

گرمی کی لہر اور مہنگا ایندھن غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا سبب

معاشی ترقی

عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے بتایا ہے کہ شدید گرمی کی لہروں اور جغرافیائی و سیاسی کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتیں اور زرعی منڈیاں متاثر ہوئی ہیں جس کے نتیجے میں گزشتہ ماہ بنیادی ضرورت کی غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ادارے کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی میں اہم غذائی اجناس کی قیمتوں میں جولائی 2025 کے مقابلے میں ایک فیصد اضافہ ہوا۔ 

  • بنیادی خوراک کی قیمتیں اب بھی 2025 کی سطح سے زیادہ ہیں۔
  • شدید گرمی کی لہریں اور موسمی کیفیت ایل نینو فصلوں کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔
  • مسلح تنازعات اور جغرافیائی سیاست نے منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
  • بعض علاقوں میں بہتر فصلوں کے باوجود دنیا بھر میں کروڑوں افراد اب بھی بھوک کا شکار ہیں۔

چینی، گندم اور مکئی کی بڑھتی قیمت

'ایف اے او' کے مطابق، جولائی میں چینی کی قیمت میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کی بنیادی وجہ یورپی یونین میں مسلسل گرم اور خشک موسم کے باعث پیداوار میں ممکنہ کمی کے خدشات اور ایشیا کے اہم پیداواری ممالک میں ایل نینو سے متعلق موسمی حالات تھے۔

Tweet URL

جون کے مقابلے میں اناج کی عالمی قیمتوں میں 3.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے سال کے آغاز میں ہونے والی کمی کا رجحان ختم ہو گیا۔ جولائی 2025 کے مقابلے میں اناج کی قیمتیں اب 6.9 فیصد زیادہ ہیں۔

اگرچہ چاول کی قیمتیں تقریباً مستحکم رہیں تاہم گندم کی عالمی قیمت میں 5.8 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کی وجہ روس کے یوکرین پر جاری حملوں کے باعث بحیرہ اسود کے راستے برآمدات میں آنے والی رکاوٹیں اور مختلف ممالک میں حالیہ شدید گرمی کے باعث فصلوں کی متوقع پیداوار میں کمی آنے کے خدشات ہیں۔

مکئی کی عالمی قیمت میں 3.6 فیصد اضافہ ہوا جس کا سبب امریکہ کے بعض حصوں میں گرم اور خشک موسم کے باعث پیداوار کے خدشات اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے۔

خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ

سبزیوں سے حاصل ہونے والے خوردنی تیلوں کی عالمی قیمتوں کا اشاریہ جون 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جس میں دو فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ 'ایف اے او' کے مطابق، اس اضافے کی اہم وجوہات انڈونیشیا میں بائیو ڈیزل صنعت کی بڑھتی ہوئی طلب اور خام تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ ہیں۔

امریکہ میں بھاری طلب کے باعث سویا بین کے تیل کی قیمت بڑھی جبکہ سورج مکھی اور ریپ سیڈ کے تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی۔

شدید غذائی عدم تحفظ

بڑے پیمانے پر بھوک کا سامنا کرنے والے افریقی ملک ملاوی میں گزشتہ دو برس کے مقابلے میں خوراک تک رسائی میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ اس کی بڑی وجہ گزشتہ زرعی موسم میں حاصل ہونے والی اچھی فصل تھی۔ تاہم ملک میں تقریباً 19 لاکھ افراد اب بھی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جسے غذائی تحفظ کے مراحل کی مربوط درجہ بندی (آئی پی سی) کے مطابق بحرانی درجے کی بھوک قرار دیا گیا ہے۔ 

ماہرین کے مطابق اکتوبر 2026 سے مارچ 2027 کے درمیان آنے والے غذائی قلت کے موسم میں صورتحال مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے جس کے نتیجے میں 26 لاکھ افراد بحرانی درجے کی بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ 

'آئی پی سی' کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خوراک کی بلند قیمتوں، مہنگائی اور بنیادی غذائی اجناس کی اوسط سے کم پیداوار کے نتیجے میں شدید غذائی عدم تحفظ بڑھ رہا ہے جبکہ ایل نینو کی حالیہ پیش گوئی کے تناظر میں حالات پر نظر رکھنا ضروری ہے۔