انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ہیٹی: گینگ وار میں ایذا رسانی اور جنسی تشدد کا بے رحمانہ استمعال

پورٹ-او-پرنس، ہیٹی میں ایک خاتون پناہ گاہ کے فرش پر سو رہی ہے، اس کے آس پاس اس کے سامان اور دیگر بے گھر افراد ہیں۔
© UNOCHA/Giles Clarke تشدد کی لہر میں بے گھر ہونے والی خاتون دارالحکومت پورٹ او پرنس کی ایک دکان میں پناہ لیے ہوئے ہے۔

ہیٹی: گینگ وار میں ایذا رسانی اور جنسی تشدد کا بے رحمانہ استمعال

از ڈینیئل ڈکنسن
امن اور سلامتی

ہیٹی میں جرائم پیشہ مسلح جتھے شہریوں کو دانستہ اور بڑے پیمانے پر ہولناک اذیتوں سے دوچار کر رہے ہیں اور ان کے بیشتر متاثرین صرف غلط وقت پر غلط جگہ موجود ہونے کے باعث قتل و غارت اور جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں۔

یہ بات ہیٹی میں انسانی حقوق کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کے مقرر کردہ ماہر ولیم اونیل نے یو این نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہی ہے۔ ملکی صورتحال پر ان کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، 15 مارچ سے 31 جولائی تک دارالحکومت پورٹ او پرنس کے صرف دو علاقوں میں ہی کم از کم 613 افراد ہلاک اور 375 زخمی ہوئے۔ ان میں 111 خواتین اور 77 بچوں سمیت ایک تہائی سے زیادہ ایسے افراد تھے جن کا کسی جتھے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔

ان مسلح جتھوں نے پورٹ او پرنس کے بیشتر حصوں اور گرد و نواح کے علاقوں پر اپنا تسلط قائم کر رکھا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس عرصہ میں 176 سے زیادہ خواتین اور لڑکیاں ان مسلح گروہوں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ متعدد واقعات میں اس جرم کو حریف گینگ کے زیراثر علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو سزا دینے کے لیے بطور ہتھیار استعمال کیا گیا۔ 

اس عرصہ کے دوران 18 ہزار سے زیادہ لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ ہیٹی میں اقوام متحدہ کے سیاسی مشن کی جانب سے جاری کردہ اس رپورٹ میں انسانی حقوق کے مبصرین نے کئی ہولناک واقعات بھی درج کیے ہیں۔

قتل و غارت کا دائمی سلسلہ

  • رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 13 جون کو ہیٹی اور سکاٹ لینڈ کے درمیان ورلڈ کپ فٹ بال میچ کے فوراً بعد تقریباً 300 افراد پر مشتمل عوامی ہجوم کو ایک مسلح جتھے نے فائرنگ کا نشانہ بنایا۔ اس حملے میں کم از کم 61 افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں کم از کم سات بچے بھی شامل تھے جن میں سب سے کم عمر بچے کی عمر صرف سات سال تھی۔
  •  17 سال عمر کے دو لڑکوں کو ایک جتھے کے سربراہ نے اس الزام میں گولیاں مار کر قتل کر دیا کہ وہ مخالف جتھے کو معلومات فراہم کرتے تھے۔
  • ایک 71 سالہ معمر شخص کو صرف کھانا مانگنے کی جرات کرنے پر قتل کر دیا گیا۔
  • ایک خاتون کو جتھے کے ارکان نے راستے میں روک کر پوچھ گچھ کی۔ خوف کے باعث وہ کوئی جواب نہ دے سکی اور اسے مخالف جتھے کی مخبر قرار دے کر موقع ہی پر قتل کر دیا گیا۔
  • 15 سے 17 سال کی عمر کے 17 لڑکوں کو اس شبے میں پھانسی دے کر قتل کر دیا گیا کہ وہ مخالف جتھے کے لیے کام کرتے ہیں۔ 
پورٹ او پرنس، ہیٹی میں گرینڈ قبرستان میں ایک تدفین کے دوران پیل بیئرز ایک تابوت اٹھائے ہوئے ہیں۔
©UNOCHA /Giles Clarke ہیٹی کی گینگ وار میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنسی تشدد کی ہولناک داستانیں

  • پانچ نقاب پوش مسلح افراد نے تین بچوں کی ماں کو اس کے گھر میں بندوقوں کے بٹ مار کر زخمی کیا اور پھر اسے بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
  • ایک خاتون کے گھر کو مسلح افراد نے آگ لگا دی جس میں اس کا شوہر اور دو سالہ بیٹی جل کر ہلاک ہو گئے۔ بعدازاں ان لوگوں نے خاتون کو اس کے 10 سالہ بیٹے کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
  • متعدد متاثرہ خواتین نے بتایا کہ مسلح افراد انہیں راستے میں اغوا کر کے جنگل میں لے گئے اور ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔