پاکستان: سوات دہشتگرد حملے کی یو این سلامتی کونسل کی طرف سے مذمت
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان میں پولیس سٹیشن پر دہشت گرد حملے کی سخت مذمت کی ہے جس میں کم از کم 16 شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔
کونسل کے ارکان نے پاکستان کی حکومت، متاثرہ خاندانوں اور عوام سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد اور مکمل صحت یابی کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
سلامتی کونسل کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی اپنی تمام صورتوں اور مظاہر کے ساتھ بین الاقوامی امن و سلامتی کو درپیش سنگین ترین خطرات میں سے ایک ہے۔ ایسی قابل مذمت کارروائیوں کا ارتکاب کرنے والے، منصوبہ سازوں، ان کے لیے مالی معاونت فراہم کرنے والوں اور ان سرپرستوں کو قانون کے کٹہرے میں لا کر ان کا احتساب کیا جانا چاہیے۔
یہ خودکش حملہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضلع سوات کی تحصیل کبل میں ہوا جس کی ذمہ داری دہشت گرد تنظیم پاکستان تحریک طالبان نے قبول کی ہے۔ حملے میں ہلاک ہونے والے بیشتر لوگ عام شہری تھے۔
دہشتگردی کے خلاف تعاون کا مطالبہ
سلامتی کونسل کے ارکان نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی ہر کارروائی ایک مجرمانہ اور ناقابل جواز فعل ہے خواہ اس کے محرکات کچھ بھی ہوں اور یہ کہیں بھی اور کسی بھی فرد یا گروہ کی جانب سے کی جائے۔
ارکان نے زور دیا ہے کہ تمام ممالک اقوام متحدہ کے منشور، انسانی حقوق کے عالمی قانون، مہاجرین سے متعلق بین الاقوامی قانون اور دیگر کے تحت ہر ممکن ذریعے سے دہشت گردی کا مقابلہ کریں جس سے بین الاقوامی امن و سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
کونسل نے تمام ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے اس سلسلے میں حکومت پاکستان کے ساتھ فعال تعاون کریں۔