جنوبی سوڈان: انتخابات سے قبل بڑھتے انسانی امدادی و سلامتی کے مسائل
اقوام متحدہ نے جنوبی سوڈان کو درپیش سیاسی، انسانی اور سلامتی کے بحران کی وجہ سے مقررہ وقت پر آزادانہ، پرامن اور مشمولہ انتخابات کے انعقاد سے متعلق گہرے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
ملک میں اقوام متحدہ کے معاون مشن (انمس) کی سربراہ انیتا کیکی گبیہو نے ملکی صورتحال پر سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رواں سال دسمبر میں متوقع انتخابات کی تیاریاں جاری ہیں اور یہ عمل ایک ایسے پیچیدہ ماحول میں آگے بڑھ رہا ہے جہاں سیاسی اعتماد کمزور ہے، سلامتی کی صورت حال غیر مستحکم ہے اور انسانی بحران شدت اختیار کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امن معاہدے پر عملدرآمد ایسے اقدامات کے باعث بری طرح متاثر ہوا ہے جن سے شمولیت اور قومی اتفاق رائے کے بارے میں خدشات پیدا ہوئے ہیں، جبکہ حزب اختلاف کی اہم جماعتوں کو سیاسی عمل سے خارج رکھنے کے باعث عبوری حکومتی دور کے بقیہ مرحلے پر اعتماد کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
سلامتی کے تشویشناک حالات
انیتا گبیہو نے ملکی فوج اور حزب اختلاف کی جماعت سوڈان پیپلز لبریشن موومنٹ کے درمیان جاری مسلح جھڑپوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور متعدد ریاستوں میں مختلف برادریوں کے درمیان تشدد کے سلسلے کو بھی خطرناک قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال جنوری سے جون کے دوران تشدد کے باعث چار لاکھ 20 ہزار سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں جن میں اکثریت جونگلی ریاست سے تعلق رکھتی ہے جہاں تشدد زوروں پر ہے۔
سنگین ہوتا انسانی بحران
انہوں نے بتایاکہ ، ملک میں تقریباً 71 لاکھ افراد غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں سے پیدا ہونے والی آفات کے باعث ہزاروں مزید افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔
جنوبی سوڈان اس وقت سوڈان میں جاری مسلح تنازع سے فرار ہو کر آنے والے تقریباً 14 لاکھ افراد کی بھی میزبانی کر رہا ہے، جس سے ملک کے محدود وسائل اور انسانی امدادی نظام پر مزید دباؤ آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وبائی امراض بھی کمزور نظام صحت پر اضافی بوجھ ڈال رہے ہیں۔ ہیضے کی وبا بدستور ایک بڑا مسئلہ ہے اور جنوری سے جولائی کے دوران اس کے 13 ہزار سے زیادہ مریض سامنے آئے جبکہ حکام ہمسایہ ملک جمہوریہ کانگو سے ایبولا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ کی روک تھام میں بھی مصروف ہیں۔
ملک میں امدادی کارکنوں کو بھی بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ رواں سال اب تک 36 کارکن ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے 391 واقعات ریکارڈ کیے گئے جو گزشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
امید افزا پیش رفت
انیتا گبیہو نے چند مثبت پیش ہائے رفت کا ذکر بھی کیا جنہیں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے 7 مئی کو حکومت کی جانب سے نئی عسکری کارروائیوں سے گریز کے عزم کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اعتماد سازی کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ اس عزم کی بنیاد 2017 کے جنگ بندی معاہدے پر ہونی چاہیے۔
انہوں نے سوڈان سے فرار ہونے والے لوگوں کے لیے اپنی سرحدیں کھلی رکھنے پر بھی جنوبی سوڈان کی تعریف کی حالانکہ ملک شدید معاشی اور انسانی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پالیسی نے بڑی تعداد میں کمزور اور بے سہارا افراد کو تحفظ اور پناہ فراہم کی ہے جس کے لیے جنوبی سوڈان بین الاقوامی حمایت کا مستحق ہے۔
سلامتی کونسل سے 4 مطالبات
خطاب کے اختتام پر انیتا کیکی گبیہو نے سلامتی کونسل کو 4 اہم مطالبات پیش کیے۔
- اول: جنوبی سوڈان میں جاری لڑائی بند کرائی جائے کیونکہ مسلسل تشدد شہریوں کی جانوں کے لیے خطرہ، باہمی اعتماد کے لیے نقصان دہ اور پرامن سیاسی انتقال اقتدار کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
- دوم: شہریوں اور امدادی کارکنوں کا تحفظ یقینی اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔
- سوم: حقیقی، بامعنی اور مشمولہ سیاسی مکالمہ دوبارہ شروع کیا جائے جس میں سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی، مذہبی رہنماؤں، خواتین، نوجوانوں اور دیگر متعلقہ فریقین کی نمائندگی ہو۔
- چہارم: آزادانہ اور قابل بھروسہ انتخابات کے انعقاد کے لیے درکار کم از کم شرائط کا غیر جانبدارانہ اور حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے۔