انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنگ میں شہری علاقوں کو نشانہ بنانے پر روس اور یو کرین کی مذمت

امدادی کارکنان اور تماشائی یوکرین کے شہر کیف میں ایک رہائشی علاقے میں شدید طور پر تباہ شدہ اپارٹمنٹ کی عمارت اور الٹنے والی سرخ کار کے قریب کھڑے ہیں، جو حملے کے نتیجے کو دکھا رہے ہیں۔
© UNOCHA یوکرین کے دارالحکومت کیئو میں جنگ کی تباہی کا ایک منظر۔

جنگ میں شہری علاقوں کو نشانہ بنانے پر روس اور یو کرین کی مذمت

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے روسی فوج کی جانب سے یوکرین کے دارالحکومت کیئو اور دیگر شہروں میں حالیہ دنوں بڑے پیمانے پر کی جانے والی گولہ باری اور ڈرون حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ان حملوں میں درجنوں شہری ہلاک و زخمی ہوئے جبکہ شہری تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچا۔

سیکرٹری جنرل کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انہیں یوکرین میں جاری جنگ کے مسلسل پھیلاؤ پر سخت تشویش ہے جس کے اثرات اب روس کے علاقوں تک بھی پہنچ رہے ہیں۔ سیکرٹری جنرل نے روس کے مختلف علاقوں پر یوکرین کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کی بھی مذمت کی ہے جن میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ 

ترجمان نے کہا ہے کہ، حالیہ حملے گنجان آباد علاقوں پر بڑھتی گولہ باری کے تشویشناک سلسلے کا حصہ ہیں جس کے باعث یوکرین میں شہریوں کی ہلاکتوں میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے۔ شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور ایسے حملے فوری طور پر بند ہونا چاہییں۔

بحری سلامتی کو خطرات

سیکرٹری جنرل نے بحیرہ اسود اور بحیرہ آزوف میں جہاز رانی کی سلامتی اور تحفظ کو لاحق بڑھتے ہوئے خطرات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے جس کے اثرات عالمی غذائی تحفظ پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

انتونیو گوتیرش نے متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے مطابق جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنائیں اور بندرگاہوں اور سمندری بنیادی ڈھانچے کو تحفظ دیں۔ 

انہوں نے کشیدگی ختم کرنے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا ہے کہ مکمل، فوری اور غیر مشروط جنگ بندی عمل میں لائی جائے تاکہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے منشور اور متعلقہ قراردادوں کے مطابق منصفانہ، پائیدار اور جامع امن کی راہ ہموار ہو۔