لبنان: سہ فریقی معاہدے کے بعد بھی اسرائیلی عسکری کارروائیاں جاری
لبنان کے لیے اقوام متحدہ کی عبوری امن فورس (یونیفل) نے ملک میں اسرائیل کی جانب سے فوجی کارروائیوں میں بڑے پیمانے پر اضافے کی اطلاع دی ہے جو اسرائیل، لبنان اور امریکہ کے درمیان جون میں طے پانے والے معاہدے کے بعد سب سے بڑی عسکری سرگرمی ہے۔
یونیفل کے مطابق، بدھ کو اسرائیلی فوج نے لبنان کی حدود میں 113 گولے اور میزائل داغے جو 21 جون کے بعد ایک ہی دن میں ریکارڈ کی گئی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ اس دوران حزب اللہ کی جانب سے راکٹ یا گولہ باری کا مشاہدہ نہیں کیا گیا۔ یہ کشیدگی جمعرات کو بھی برقرار رہی جب اسرائیلی افواج کی جانب سے 120 گولے اور میزائل داغے گئے۔
بدھ کو اسرائیلی طیاروں کی جانب سے لبنانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے 49 واقعات ریکارڈ کیے گئے جبکہ ان کی مجموعی پرواز کا دورانیہ 131 گھنٹوں سے تجاوز کر گیا جو 23 جون کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ مغربی سیکٹر میں واقع قصبہ منصوری کے قریب تین فضائی حملے بھی کیے گئے جن میں سے دو حملے یونیفل کی ایک چوکی کے شمال مشرق میں ہوئے جبکہ جمعرات کو رات 12 بجے سے شام 4 بجے تک لبنانی فضائی حدود کی مزید 29 مرتبہ خلاف ورزی ہوئی۔
اطلاعات کے مطابق رات کے وقت صور کے قریب واقع قصبے برج الشمالی پر ہونے والے فضائی حملوں میں آٹھ افراد زخمی ہوئے جبکہ نبطیہ کے قصبے تبنین پر فضائی حملے میں ایک شخص ہلاک اور 12 دیگر زخمی ہو گئے۔
اسرائیلی فوج کی سرگرمیاں
یونیفل نے کہا ہے کہ وہ میڈیا میں آنے والی ان اطلاعات سے آگاہ ہے کہ منصوری میں ایک دھماکے کے نتیجے میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب اسرائیلی فوجی ایک عمارت کو مسمار کرنے سے قبل اس میں داخل ہوئے تھے۔
فورس نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کے مطابق، رابطہ کاری کے موجودہ نظام کے ذریعے اپنے دائرہ کار میں غیر مجاز عسکری ڈھانچوں، بشمول سرنگوں سے متعلق سرگرمیوں کی نگرانی اور ان سے متعلق اطلاعات کا جائزہ لیتی رہے گی۔
رواں ہفتے اسرائیلی افواج نے مشرقی اور مغربی سیکٹر کے علاوہ دریائے لیطانی کے شمالی علاقوں سے بھی بڑے پیمانے پر گولہ باری کی۔ فورس نے دونوں سیکٹروں میں غیر معمولی عسکری سرگرمی ریکارڈ کی جس میں عسکری سازوسامان کی نقل و حمل، وسیع پیمانے پر انجینئرنگ کا کام اور بھاری انصرامی نقل و حرکت شامل تھی۔
یونیفل نے سوموار کو اسرائیلی گشتی کشتیوں کو لبنانی علاقائی پانیوں میں داخل ہوتے اور بعد ازاں واپس جنوب کی جانب جاتے ہوئے بھی دیکھا۔
مخدوش انسانی حالات
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ منصوری سے تقریباً 30 خاندان نقل مکانی کرکے جنوبی شہر صور پہنچ گئے ہیں۔ یہ تمام خاندان اس وقت اجتماعی پناہ گاہوں میں یا اپنے رشتہ داروں کے ہاں مقیم ہیں جبکہ امدادی اداروں نے ان کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی امدادی کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔
امدادی اداروں نے یہ بھی بتایا ہے کہ وادی بقاع کے مغربی علاقے میں تقریباً 90 فیصد بے گھر خاندان اپنے دیہات کو واپس لوٹ چکے ہیں، تاہم ان میں سے بیشتر کا کہنا ہے کہ جنگ کے دوران ان کے مکانات یا کاروباری مراکز کو شدید نقصان پہنچا۔ مقامی آبادی کو سکولوں اور پانی کی فراہمی کے نظام کو پہنچنے والے نقصانات، روزگار کے ذرائع میں رکاوٹوں اور سلامتی کے بڑھتے ہوئے مسائل کا سامنا ہے۔
اوچا نے کہا ہے کہ بے گھر خاندانوں، واپس آنے والے افراد اور پناہ گزینوں کی میزبان آبادی کی بحالی، امداد کی فراہمی اور ابتدائی تعمیرنو سے متعلق اقدامات ناگزیر ہیں۔