غزہ: جنگ بندی کے باوجود 300 دنوں میں کم ازکم 300 بچے ہلاک
عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے بتایا ہے کہ گزشتہ اکتوبر میں حماس اور اسرائیل کے مابین جنگ بندی معاہدے کے بعد اب تک 300 ایام میں کم از کم 300 بچے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ غزہ کی پوری آبادی ایک تہائی علاقے تک محدود ہے جہاں لوگ تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے اور کچرے کے ڈھیروں پر مقیم ہیں۔
مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے لیے یونیسف کے علاقائی ڈائریکٹر ایڈورڈ بیگبیڈر نے کہا ہے کہ اگر جنگ بندی کے باوجود روزانہ ایک بچہ ہلاک ہو رہا ہے تو ایسی جنگ بندی بچوں کے تحفظ میں ناکام ہے۔ سیکڑوں دیگر بچے زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بہت سے شدید زخمی ہیں۔
انہوں نے غزہ کے لیے امریکہ کے مجوزہ نئے امن منصوبے سے متعلق اطلاعات پر تبصرہ کرتے ہوئے جنگ بندی کے امکانات اور انسانی امداد میں اضافے کے حالیہ اعلانات کا خیرمقدم کیا تاہم ان کا کہنا ہے کہ غزہ کے بچوں سے متعلق یہ سوالات اہم ہیں کہ آیا قتل و غارت بند ہوگی؟ کیا امداد بڑے پیمانے پر ان تک پہنچے گی؟ کیا ہسپتال دوبارہ فعال ہوں گے اور پانی کی فراہمی بحال ہوگی؟ کیا بچے ستمبر میں محفوظ طریقے سے سکولوں کو واپس جا سکیں گے؟
انہوں نے کہا ہے کہ غزہ کے بچے پہلے بھی بہت سے وعدے سن چکے ہیں۔ اس مرتبہ ضروری ہے کہ معاہدے صرف اعلانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی صورت اختیار کریں۔
غیرمعمولی انسانی المیہ
یونیسف سمیت اقوام متحدہ کے متعدد اداروں نے دوبارہ خبردار کیا ہے کہ غزہ بھر میں بچے شدید غذائی قلت، بیماریوں، غیر محفوظ پانی اور نکاسی آب کے تباہ شدہ نظام جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
جنگ کے عرصہ میں اقوام متحدہ غزہ کے عوام کی مدد کے لیے مسلسل سرگرم رہا ہے، لیکن بارہا اپیلوں کے باوجود نہ تو مطلوبہ مقدار میں امداد پہنچ سکی ہے اور نہ ہی خونریزی کا سلسلہ رکا ہے۔
یونیسف کے طبی عملے نے بتایا ہے کہ روزانہ بھوک اور تھکن سے نڈھال مائیں شدید غذائی قلت کا شکار اپنے بچوں کو علاج کے لیے طبی مراکز میں لا رہی ہیں۔
قبل از وقت پیدائش میں اضافہ
امدادی سامان کی مسلسل کمی کے باعث قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے جبکہ نوزائیدہ بچوں کی بڑی تعداد تشویشناک حالت میں ہے۔ یونیسف کی ترجمان لوسی ویٹریج نے کہا ہے کہ ہسپتالوں میں انکیوبیٹرز کی شدید کمی ہے اور بعض مقامات پر تین نومولود بچوں کو ایک ہی انکیوبیٹر میں رکھا جا رہا ہے۔
غزہ میں صرف چند روز قبل پیدا ہونے والے بچے بھی زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان کی پیدائش ایسے ہسپتالوں میں ہو رہی ہے جو جزوی طور پر فعال ہیں اور جہاں طبی آلات اور ادویات کی شدید قلت ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا موجودہ حالات کو جنگ بندی کہتی ہے لیکن غزہ کے خاندان آج بھی اپنے بچوں کو دفنا رہے ہیں۔
شہریوں کی بڑھتی ہلاکتیں
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے کہا ہے کہ غزہ پر فضائی حملوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتیں ہو رہی ہیں اور طبی سامان کے ذخائر سمیت بنیادی شہری ڈھانچے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
زرد لکیر کے اطراف جاری عسکری کارروائیاں اور غزہ کے دیگر علاقوں میں ہونے والے حملے شہری زندگی کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔ پناہ گاہیں تباہ ہو رہی ہیں، لوگ دوبارہ نقل مکانی پر مجبور ہیں اور جان بچانے والی خدمات تک رسائی مزید محدود ہو گئی ہے۔
10 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی کا اعلان ہونے کے بعد اب تک 1,209 افراد ہلاک جبکہ 3,943 زخمی ہو چکے ہیں۔
اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیاں
کشیدگی کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار ادارے جہاں اور جب ممکن ہو امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گزشتہ ہفتے غزہ شہر میں تقریباً 3,000 عارضی پناہ گاہوں کی مرمت اور بہتری کا کام کیا گیا جبکہ 9,000 خاندانوں میں باورچی خانے کا سامان، ترپالیں، کمبل، گدے، شمسی روشنیاں اور کپڑے تقسیم کیے گئے۔
اوچا نے کہا ہے کہ امدادی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور عارضی رہائش گاہوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ لکڑی، رسیاں، مزید شمسی روشنیاں اور دیگر آلات بروقت غزہ پہنچائی جائیں۔
یونیسف نے گزشتہ روز غزہ میں 600 سے زائد صندوقوں پر مشتمل امدادی سامان پہنچایا جس میں بچوں کے کھیل کا سامان، بستے اور صابن شامل تھے۔ یہ سامان نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل تقسیم کیا جائے گا۔ اس وقت ڈھائی لاکھ سے زیادہ بچے موسم گرما کی تعلیمی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں تاکہ انہیں معمول کی زندگی کا احساس مل سکے اور جنگ کے باعث ہونے والے تعلیمی نقصان کا کسی حد تک ازالہ ہو۔