انسانی کہانیاں عالمی تناظر

مشکلات کے باوجود آئی ایم او نے گزشتہ سال لاکھوں افراد کو مدد پہنچائی

یوگنڈا کے ایک مہاجر کیمپ میں افریقی بچوں کا ایک گروپ مسکراتا ہوا، صابن کی سلاخیں اٹھائے ہوئے، پس منظر میں ایک آدمی امداد تقسیم کر رہا ہے۔
© MDPD یوگنڈا میں پناہ لینے والے سوڈانی مہاجر بچے اس سال عیدالفطر پر تحائف لے کر خوش ہیں۔

مشکلات کے باوجود آئی ایم او نے گزشتہ سال لاکھوں افراد کو مدد پہنچائی

مہاجرین اور پناہ گزین

عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے اپنی نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ گزشتہ سال جنگوں، قدرتی آفات، انسانی ضروریات میں غیرمعمولی اضافے اور امدادی وسائل میں کمی سے عبارت رہا جس میں ادارے نے 170 ممالک اور خطوں میں ایک کروڑ 78 لاکھ افراد کو ضروری مدد فراہم کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ، ہیٹی، میانمار، یوکرین اور افریقہ کے ساہل خطے جیسے بحران زدہ علاقوں پر خصوصی توجہ دیتے ہوئے 73 لاکھ افراد کو رہائش سے متعلق مدد فراہم کی گئی، 42 لاکھ بنیادی طبی معائنوں اور مشاورت کی خدمات مہیا کی گئیں جبکہ 51 لاکھ افراد کو صاف پانی، صفائی اور حفظان صحت کی سہولتیں دی گئیں۔

Tweet URL

براہ راست امدادی سرگرمیوں کے علاوہ، ادارے کی جمع کردہ معلومات کی بدولت 21 امدادی منصوبوں کی تیاری میں رہنمائی میسر آئی جس سے حکومتوں اور امدادی اداروں کو ضرورت مند علاقوں اور افراد تک امداد کو زیادہ موثر انداز سے پہنچانے میں مدد ملی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر امدادی وسائل میں مسلسل کمی آ رہی ہے اور ان حالات میں امدادی سرگرمیوں کو مربوط بنانا، ان میں ہم آہنگی پیدا کرنا اور مستند شواہد کی بنیاد پر فیصلے لینا پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ 

'آئی او ایم' کا ثابت قدم کردار

'آئی او ایم' کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل یوگوچی ڈینیئلز نے کہا ہے کہ جنگوں، قدرتی آفات، بیماریوں کے پھیلاؤ اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے انسانی ضروریات میں جس قدر اضافہ کر دیا ہے اس کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی جبکہ امدادی وسائل میں غیر معمولی حد تک کمی آ گئی ہے۔ 

تاہم، ان کا کہنا ہے کہ تمام مشکلات کے باوجود ادارہ ہر اس مقام پر موجود رہا جہاں لوگوں کو اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔

1951 میں قائم ہونے والا 'آئی او ایم' مہاجرین اور بے گھر ہو جانے والے افراد کو انسانی امداد فراہم کرتا ہے، حکومتوں کو مہاجرت کے انتظام سے متعلق محفوظ و موثر حکمت عملی تشکیل دینے میں معاونت فراہم کرتا اور یقینی بناتا ہے کہ لوگوں کی نقل مکانی باوقار، محفوظ اور منظم انداز میں ہو۔