ایل نینو سے پانچ کروڑ مزید لوگوں کو غذائی قلت کا سامنا، ڈبلیو ایف پی
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ طاقتور ہوتے موسمیاتی مظہر ایل نینو کے باعث دنیا بھر کے انتہائی کمزور اور غیر محفوظ علاقوں میں مزید پانچ کروڑ افراد شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔
ادارے نے بتایا ہے کہ اس ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے وہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر آٹھ ممالک میں امدادی سرگرمیوں کو تیز کر رہا ہے تاکہ ان آبادیوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے جو پہلے ہی غربت، مسلح تنازعات، بے روزگاری اور متواتر موسمی آفات کا سامنا کر رہی ہیں۔
سیلاب، خشک سالی اور شدید طوفانوں کے آنے سے پہلے ہی حفاظتی اقدامات کرنا اس منصوبے کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ادارے کے قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارل سکو نے کہا ہے کہ لوگوں کو جس قدر جلد ان موسمی دھچکوں کے لیے تیار کیا جائے گا اتنی ہی زیادہ جانیں بچانے اور لوگوں کے روزگار و ذرائع معاش کو محفوظ بنانے میں مدد ملے گی۔
رپورٹ کے مطابق ایل نینو کی شدت ستمبر سے دسمبر 2026 کے درمیان عروج پر پہنچنے کا امکان ہے تاہم آئندہ فصلوں پر اس کے اثرات کے باعث بہت سے ممالک میں اس کے نتائج 2027 تک محسوس کیے جائیں گے۔
شدید غذائی عدم تحفظ کا خطرہ
'ڈبلیو ایف پی' نے کہا ہے کہ کہ 10 سال قبل آنے والے ایل نینو نے دنیا بھر میں 6 سے 10 کروڑ افراد کے غذائی تحفظ کو متاثر کیا تھا۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق رواں سال آنے والا ایل نینو آئندہ سال کے اختتام تک مزید چار کروڑ 90 لاکھ افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ سے دوچار کر سکتا ہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں پہلے ہی غذائی عدم تحفظ کا شکار ممالک میں شدید غذائی قلت کا شکار افراد کی مجموعی تعداد 22 کروڑ 50 لاکھ سے بڑھ کر 27 کروڑ 40 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔
اندازہ ہے کہ وسطی امریکہ اور افریقہ کے جنوبی علاقے موسمی شدت کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثر ہوں گے جبکہ مشرقی افریقہ، جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں بھی نمایاں منفی اثرات متوقع ہیں۔
ایل نینو کے اثرات ہر ملک میں یکساں نہیں ہوتے۔ بعض ممالک پہلے ہی معمول سے کم بارشوں، سیلاب اور غیر معمولی گرمی کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ دیگر ممالک میں آئندہ کاشت اور فصلوں کی کٹائی کے موسم کے دوران حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔
- لاطینی امریکہ اور غرب الہند
اس خطے میں غذائی عدم تحفظ میں سب سے زیادہ اضافہ متوقع ہے جہاں ایک کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔ وسطی امریکہ کے ممالک میں غذائی عدم تحفظ میں 83.1 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
- مشرقی اور جنوبی افریقہ
ایسے علاقوں میں شدید خطرات لاحق ہیں جہاں آئندہ بارشوں کا موسم زرعی پیداوار کے لیے نہایت اہم ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ لوگوں کی غذائی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
افریقہ کے جنوبی ممالک خاص طور پر اس لیے زیادہ متاثر ہوں گے کہ وہاں بڑی آبادی بارش پر منحصر چھوٹے پیمانے کی زراعت کے ذریعے اپنی ضروریات پوری کرتی ہے۔
- ایشیا اور الکاہل
اس خطے میں پہلے سے کمزور ممالک میں ایل نینو کے نمایاں اثرات متوقع ہیں جہاں 82 لاکھ مزید افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہو سکتے ہیں۔
مغربی اور وسطی افریقہ
غذائی عدم تحفظ میں 12 فیصد اضافہ متوقع ہے جس سے تقریباً 60 لاکھ مزید افراد متاثر ہوں گے۔
'ڈبلیو ایف پی' اور اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) پہلے ہی عالمی برادری سے اپیل کر چکے ہیں کہ خطرے سے دوچار ممالک اور آبادیوں کی بروقت مدد کی جائے تاکہ ہنگامی صورتحال پیدا ہونے سے پہلے ہی زندگیوں، روزگار اور خوراک کو بچایا جا سکے۔
پیشگی تیاری اور نقصان سے تحفظ
'ڈبلیو ایف پی' اور اقوام متحدہ کے دیگر ادارے 50 سے زیادہ ممالک میں پیشگی حفاظتی منصوبوں پر عمل کر رہے ہیں اور حکومتوں و مقامی آبادیوں کی صلاحیت بڑھائی جا رہی ہے تاکہ وہ ممکنہ خطرات کا بہتر انداز میں مقابلہ کر سکیں۔
'ڈبلیو ایف پی' نے رواں سال مئی میں جنوبی سوڈان، چاڈ، موریطانیہ، یوگنڈا، گوئٹے مالا اور ایل سلواڈور میں پیشگی امدادی منصوبے فعال کیے ہیں، جن کے تحت ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر سے زیادہ ہنگامی امداد فراہم کی گئی جس سے تقریباً پانچ لاکھ افراد مستفید ہوئے۔
ادارے نے کہا ہے کہ موسمیاتی آفات کے خلاف پیشگی حفاظتی پروگراموں پر خرچ کیا جانے والا ہر ڈالر مستقبل میں تین سے سات ڈالر تک کے ممکنہ نقصانات اور امدادی اخراجات کی بچت کرتا ہے۔