داعش اب بھی عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ، اقوام متحدہ
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ داعش اب بھی بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ اگرچہ دہشت گردی کے خلاف مسلسل کارروائیوں سے تنظیم کی اعلیٰ قیادت کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن یہ اب بھی خود کو قائم رکھنے اور بدلتے حالات سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد دہشت گردی کی ڈائریکٹر اوغولجيرين نياز برديفا نے سلامتی کونسل کو داعش کے بارے میں سیکرٹری جنرل کی 23ویں رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ داعش سلامتی کے اعتبار سے کمزور علاقوں اور طویل عرصہ سے جاری مسلح تنازعات سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ افریقہ کے بعض حصوں، خصوصاً ساہل کے علاقے اور جھیل چاڈ کے طاس میں اس تنظیم سے لاحق خطرات کہیں زیادہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، داعش سے وابستہ متعدد تنظیموں نے اپنی عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کیا ہے، اپنی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے اور نئے حربے اختیار کیے ہیں۔ داعش۔مغربی افریقہ اس وقت دنیا بھر میں اس تنظیم کی سب سے زیادہ سرگرم شاخ ہے جس نے ڈرون حاصل کرنے اور انہیں استعمال کرنے کی صلاحیت بھی حاصل کر لی ہے۔
شام، عراق اور جنوبی ایشیا کے حالات
اوغولجيرين برديفا نے شام کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں سیاسی اور سلامتی کے حوالے سے تبدیلیاں دہشت گردی کے خطرات کی نوعیت کو بدل رہی ہیں۔ گزشتہ فروری میں الہول کیمپ بند ہونے کے بعد سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا کیونکہ وہاں رہنے والے ہزاروں افراد کا اب تک کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
عراق میں انسداد دہشت گردی کارروائیوں سے داعش کی صلاحیت کو نمایاں طور پر محدود کیا گیا ہے تاہم ان کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے مضبوط اور جوابدہ ریاستی ادارے، موثر نظام انصاف، سابق جنگجوؤں کی بحالی اور معاشرے میں ان کے دوبارہ انضمام کے پروگرام اور ایسے اسباب کا خاتمہ ضروری ہے جو داعش کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے سکتے ہیں۔
جنوبی ایشیا کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ داعش۔خراسان اب بھی تنظیم کی سب سے زیادہ طاقتور شاخوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ گروہ افغانستان سے باہر حملوں کی منصوبہ بندی یا ان کی ترغیب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے اور مقامی سطح پر عدم استحکام سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کو وسعت دے رہا ہے۔
اوغولجيرين برديفا نے کہا کہ داعش کے خلاف حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھنے کے لیے انسدادی اقدامات کا تسلسل، علاقائی اور عالمی تعاون میں اضافہ اور بین الاقوامی قانون پر مبنی جامع حکمت عملی اختیار کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے اس معاملے میں عالمی برادری کے لیے تین اقدامات تجویز کیے۔
اول: بین الاقوامی تعاون کا فروغ
ڈائریکٹر نے کہا کہ کوئی بھی ملک اکیلا اس خطرے کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ داعش سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو عملی اقدامات میں ڈھالنا ہو گا جن میں معلومات کا تبادلہ، سرحدی انتظام کو مضبوط بنانا، فوجداری انصاف میں تعاون، مالیاتی تحقیقات اور مربوط کارروائیاں شامل ہیں۔
دوم: ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کا سدباب
انہوں نے خبردار کیا کہ داعش اور اس سے وابستہ گروہ مصنوعی ذہانت، مواصلاتی نظام، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، ورچوئل اثاثوں اور ڈرون کا استعمال بڑھا رہے ہیں۔ چنانچہ نئی ٹیکنالوجی کے موثر ضابطے، نگرانی اور نجی شعبے سمیت بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جبکہ انہی جدید ذرائع کو انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔
سوم: بین الاقوامی قانون کی پاسداری
انہوں نے زور دیا کہ انسداد دہشت گردی کے تمام اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون، انسانی حقوق کے عالمی قانون اور مہاجرین سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونے چاہییں۔
جدید ٹیکنالوجی اور دہشت گردی
اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کمیٹی کی نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر کارمین کینٹور نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ دہشت گرد تنظیمیں سوشل میڈیا، خفیہ پیغام رسانی کی ایپس، آن لائن گیمنگ پلیٹ فارم اور مصنوعی ذہانت کے آلات کو استعمال کر کے اپنا پروپیگنڈا پھیلا رہی ہیں، نئے افراد کو بھرتی کر رہی ہیں، مالی وسائل اکٹھے کر رہی ہیں اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہی ہیں۔
کارمین کینٹور نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ دہشت گردی اور منظم جرائم کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات سے نمٹنے میں اب بھی کئی خلا موجود ہیں جو انسداد دہشت گردی کی کوششوں کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنتے جا رہے ہیں۔ انہوں نے دو ایسے شعبوں کی نشاندہی کی جن پر کام کرنے کی فوری ضرورت ہے۔
اس حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد مقاصد کے لیے ڈرون کے استعمال اور انہیں مسلح بنانے کے رجحان سے نمٹنے کی ضرورت جو افریقہ کے بعض علاقوں میں خاص طور پر نمایاں نظر آتا ہے۔
دوسرا اہم شعبہ دہشت گردی کے خلاف معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانا، سمندری تنصیبات کا تحفظ اور سمندری سلامتی کو انسداد دہشت گردی کے فریم ورک کا حصہ بنانا ہے۔
کارمین کینٹور نے کہا کہ ہر خطے کے مقامی حالات دہشت گردی کے خطرے کی نوعیت متعین کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ صرف عسکری یا سکیورٹی اقدامات یا کسی ایک خطے پر توجہ مرکوز کرنے سے داعش کے خطرے پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ اس کے لیے مسلسل بین الاقوامی تعاون اور جامع حکمت عملی درکار ہے۔