ایران: سزائے موت کے بڑھتے واقعات پر انسانی حقوق کمشنر کو تشویش
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے ایران میں سزائے موت اور پھانسیوں کی تعداد میں اضافے پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سزا کو عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور اختلاف رائے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ہائی کمشنر نے ایران کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پھانسیوں پر عملدرآمد فوری طور پر روک دیں اور سزائے موت کے مکمل خاتمے کی جانب عملی پیش رفت کریں۔
اطلاعات کے مطابق، رواں سال مارچ سے اب تک قومی سلامتی سے متعلق الزامات میں کم از کم 56 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے جن میں 27 ایسے لوگ بھی شامل ہیں جن پر سال کے آغاز میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں شرکت اور ان میں پرتشدد کارروائیاں کرنے کے الزامات تھے۔
اسی نوعیت کے الزامات میں مزید 100 سے زیادہ لوگوں کو سزائے موت کا خطرہ لاحق ہے جبکہ منشیات سے متعلق مقدمات میں بھی تشویش ناک رفتار سے سزائے موت پر عملدرآمد جاری ہے۔
حق زندگی کی سلبی
ہائی کمشنر نے کہا ہے کہ ایران میں ایسے مقدمات کی منصفانہ سماعت اور قانونی تقاضوں کی ضمانتوں کا فقدان انتہائی تشویش کا باعث ہے۔
اطلاعات کے مطابق بعض ملزموں سے تشدد اور دیگر ناروا سلوک کے ذریعے اعترافات جرم کروائے گئے۔ کئی افراد کو مبینہ طور پر سر عام پھانسی دی گئی اور بعض افراد کو گرفتاری کے صرف چند ہفتوں بعد ہی تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ 12 ملزم ایسے ہیں جنہیں بند کمرے میں محض تین گھنٹے کی سماعت کے بعد سزائے موت سنائی گئی۔
وولکر ترک نے کہا ہے کہ سزائے موت حق زندگی کے بنیادی اصول سے متصادم اور انسانی وقار کے منافی ہے۔ آج کی مہذب دنیا میں ایسی سزا کی کوئی گنجائش نہیں۔