انسانی کہانیاں عالمی تناظر

روس و یوکرین جنگ میں بچوں کے تحفظ اور عالمی قوانین کے احترام کا مطالبہ

یوکرین میں ایک تباہ شدہ اسکول جس میں کتابوں کے ڈھیر ہیں اور ایک ٹوٹا ہوا ڈیسک، جو تعلیم اور روزمرہ کی زندگی پر جنگ اور جنسی تشدد کے اثرات کی علامت ہے۔
© Ximena Borrazás یوکرین کے شہر خیرسون کے ایک تباہ شدہ سکول کے کونے میں بچوں کی کتابیں پڑی ہیں۔

روس و یوکرین جنگ میں بچوں کے تحفظ اور عالمی قوانین کے احترام کا مطالبہ

امن اور سلامتی

روس اور یوکرین کی جانب سے حالیہ دنوں ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے تک فضائی حملوں اور ڈرون کارروائیوں میں درجنوں بچوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔ عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو جنگی کارروائیوں سے تحفظ دینے کے لیے موثر اقدامات اٹھائیں۔

یونیسف کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند روز میں روس اور یوکرین کے مختلف علاقوں میں ہونے والے حملوں میں بچوں کے ہلاک و زخمی ہونے کے واقعات بڑھتے جا رہے ہیں۔ 

سوموار کو روس کے علاقے کراسنودارپر ہونے والے حملے میں سات افراد ہلاک ہوئے جن میں تین بچے بھی شامل تھے جبکہ تقریباً 40 افراد زخمی ہوئے۔ اس سے ایک روز قبل روس کے جنوب مغربی علاقے بیلگورودمیں کھیل کے میدان کے قریب ڈرون حملے کے نتیجے میں 13 سالہ لڑکی ہلاک ہو گئی جبکہ سات اور نو سال مر کی دو لڑکیاں زخمی ہوئیں۔

دوسری جانب، یوکرین میں گزشتہ سات روز کے دوران ہونے والے روسی حملوں میں کم از کم چھ بچوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں۔

کھیل، سمندر اور گھر

نیپرو میں کم از کم تین بچے اپنے پورے خاندان کے ساتھ مارے گئے جبکہ سومے میں پانچ اور دس سال عمر کی دو لڑکیوں اور ایک الگ واقعے میں آٹھ سال کے ایک لڑکے کی ہلاکت ہوئی۔ ادارے کے مطابق اس عرصہ کے دوران کم از کم 19 بچے زخمی بھی ہوئے۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ کھیل کا میدان ہو، ساحل سمندر یا گھر، بچوں کا حق ہے کہ وہ جہاں بھی رہیں خود کو محفوظ محسوس کریں۔ 

ادارے نے متحارب فریقین سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں جن میں بچوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ بھی شامل ہے۔