گھروں اور سکولوں پر اسرائیلی بمباری سے غزہ شہریوں کے لیے غیر محفوظ
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کے مسلسل حملوں سے شہریوں کی زندگی کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ ان کارروائیوں میں سکولوں اور عارضی تعلیمی اداروں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ:
- منگل کو غزہ شہر میں اسرائیلی فوج نے ایک خیمہ نما کمرہ جماعت پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چھٹی جماعت کا ایک طالب علم گولی لگنے سے زخمی ہو گیا۔
- سوموار کو بیت لاہیہ میں اسرائیلی فوج نے متعدد مکانات اور چار سکولوں پر مشتمل ایک تعلیمی کمپلیکس میں موجود آخری باقی رہ جانے والے سکول کو مسمار کر دیا۔
- مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی علاقے الخلیل میں بھی اسرائیلی حکام نے ایک سکول کے بعض حصے منہدم کر دیے جہاں ایک ہزار سے زیادہ فلسطینیوں پر علاقہ چھوڑنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سکولوں پر حملوں اور فائرنگ کے واقعات میں اضافہ تشویش ناک ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ لازمی ہے اور انہیں کسی صورت نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ تعلیمی ادارے اور تدریسی مقامات طلبہ اور اساتذہ دونوں کے لیے محفوظ اور پرامن ماحول کی صورت میں برقرار رہنے چاہئیں۔
زیرقبضہ علاقے میں توسیع
دو سالہ جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بیشتر حصہ تباہ یا شدید متاثر ہو چکا ہے لیکن شہری تنصیبات پر حملے اب بھی جاری ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے بیت لاہیہ پر حملوں کے بعد امدادی اداروں نے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
اسرائیلی فوج نے اس علاقے میں کنکریٹ کی نئی رکاوٹیں نصب کر دی ہیں جس سے اکتوبر کی جنگ بندی میں طے شدہ حدود سے آگے ممنوعہ علاقوں میں مزید توسیع ہو گئی ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق، اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد اب تک غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 1,209 افراد ہلاک اور 3,943 زخمی ہو چکے ہیں۔
سکولوں کی مسماری کا حکم
مقبوضہ مغربی کنارے میں 80 سے زیادہ فلسطینی سکولوں کو مسمار کرنے کے احکامات جاری کیے جا چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق، امسال اقوام متحدہ کے تعلیمی شراکت داروں نے مغربی کنارے میں 60 ہزار سے زیادہ طلبہ کو امدادی اور تعلیمی خدمات مہیا کی ہیں۔ اس سلسلے میں 30 سکولوں کو مرمت اور بحال کیا گیا۔
خطرات سے دوچار علاقوں میں 2,600 سے زیادہ طلبہ اور تعلیمی عملے کو سفری سہولتیں اور حفاظتی خدمات فراہم کی گئیں۔ طلبہ کو تعلیمی اخراجات کے لیے نقد امداد، نفسیاتی و سماجی معاونت اور قانونی مدد بھی مہیا کی گئی۔
ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ ان تمام امدادی اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے دستیاب مالی وسائل انتہائی ناکافی ہیں جس کے باعث ان کوششوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔