انسانی کہانیاں عالمی تناظر

آبنائے ہرمز بندش سے عالمی تجارت بری طرح متاثر، رپورٹ

ایک صاف آسمان کے نیچے صنعتی والوز اور پیلے رنگ کے پائپوں والے پائپ لائن سسٹم کے ساتھ قدرتی گیس اسٹیشن۔
© Adobe Stock/Photocreo Bednare آبنائے ہرمز کے ذریعے مائع قدرتی گیس یا ایل این جی کی برآمدات میں 95 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

آبنائے ہرمز بندش سے عالمی تجارت بری طرح متاثر، رپورٹ

امن اور سلامتی

ایران جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز بند ہونے سے عالمی تجارت بری طرح متاثر ہوئی ہے جس سے 12 اہم اشیا کی برآمدات میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔ ماہرین اقتصادیات نے کہا ہے کہ اس کے اثرات صرف سامان کی نقل و حمل متاثر ہونے تک محدود نہیں بلکہ کہیں زیادہ وسیع ہیں۔

بین الاقوامی تجارتی مرکز (آئی ٹی سی) کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی برآمدات میں 95 فیصد جبکہ یوریا کھاد کی برآمدات میں 83 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ رپورٹ میں جاپان کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ یہ ملک اپنی خام تیل کی درآمدات کا 91 فیصد ان ممالک سے حاصل کرتا ہے جن کا انحصار آبنائے ہرمز پر ہے اور اپریل میں اسے اپنی مجموعی درآمدات میں 64 فیصد کمی کا سامنا رہا۔ 

یہ مرکز عالمی تجارتی تنظیم(ڈبلیو ٹی او) اور اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) کا مشترکہ ادارہ ہے جس نے اپریل 2026 کے تجارتی اعداد و شمار کا جائزہ لے کر یہ رپورٹ تیار کی ہے۔ 

اس میں بتایا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی میں آنے والی عارضی کمی کے باعث جہاز رانی کی مکمل بحالی کی امید ضرور پیدا ہوئی ہے، تاہم آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت اب بھی معمول سے خاصی کم ہے اور واضح نہیں کہ اس راستے پر مکمل اور پائیدار بحالی کب اور کیسے حالات میں ممکن ہو گی۔

عالمی نظام کی کمزوری

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس صورت حال کے معاشی اثرات صرف مال بردار جہازوں تک محدود نہیں۔ انکٹاڈ کے مطابق، توانائی کی بڑھتی قیمتیں، بحری مال برداری کے کرایوں میں اضافہ، بحری ایندھن کی لاگت اور انشورنس پریمیئم میں اضافے جیسے عوامل پیداوار اور نقل و حمل کے اخراجات کو بھی بڑھا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، بحری جہازوں کا متبادل راستوں پر منتقل ہونا ترسیل کے دورانیے کو طویل کر دیتا ہے جبکہ متبادل بندرگاہوں اور تجارتی راستوں پر بھی غیر معمولی دباؤ اور رش پیدا ہو جاتا ہے۔

ان تمام اضافی اخراجات کا بوجھ بالآخر صارفین پر آتا ہے اور ان کے لیے اشیائے ضروریہ مہنگی ہو جاتی ہیں۔ کھاد کی قیمتوں میں اضافہ زرعی پیداوار اور غذائی اجناس کی قیمتوں پر بھی منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے اور کمزور معیشتوں کے لیے اس کے اثرات کہیں زیادہ ہوتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں نے یہ حقیقت واضح کر دی ہے کہ عالمی سطح پر توانائی، کھاد اور صنعتی خام مال کی سپلائی غیرمعمولی حد تک ایک ہی بحری گزرگاہ پر منحصر ہے جو عالمی سپلائی چین کی ایک نمایاں کمزوری ہے۔