کانگو: ایبولا پھیلاؤ کے دوران ویکسین تیاری کی کوششیں تیز
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بتایا ہے جمہوریہ کانگو میں پھیلنے والے بنڈی بگیو ایبولا وائرس کے موثر علاج اور اس کے خلاف پہلی مخصوص ویکسین تیار کرنے کی کوششیں کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہیں جبکہ ملک میں اس بیماری سے متاثرہ مریضوں اور ان کی اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، یکم اگست تک 3,748 افراد ایبولا کا شکار ہو چکے تھے جن میں 1,657 مریضوں کی موت واقع ہو گئی ہے جبکہ 708 صحت یاب ہو چکے ہیں۔
بنڈی بگیو کے لیے دنیا کی پہلی مخصوص ویکسین کی ابتدائی آزمائش 24 جولائی کو برطانیہ میں شروع ہوئی جبکہ دوسرا آزمائشی مرحلہ اس ہفتے کینیڈا میں شروع ہو رہا ہے۔
حالیہ وبا کے گڑھ صوبہ ایتوری میں بھی مختلف ادویات اور طریقہ ہائے علاج کی آزمائش جاری ہے۔ صوبائی دارالحکومت بونیا میں ایبولا سے متاثرہ مریضوں کے لیے 100 بستروں پر مشتمل ایک نیا طبی مرکز بھی قائم کر دیا گیا ہے۔
ویکسین کی آزمائش
'ڈبلیو ایچ او' میں شعبہ تحقیق و ترقی کے قائمقام سربراہ ڈاکٹر واسی مورتی نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ اس مرتبہ ایبولا کی وبا کے آغاز کے بعد تحقیقی کام نسبتاً زیادہ تیزی سے شروع کیا گیا ہے کیونکہ اس سے پہلے ہی متعلقہ ضابطے اور منصوبے تیار کیے جا چکے تھے۔
ان کا کہنا ہے کہ تاحال بنڈی بگیو وائرس کے لیے کوئی ایسا علاج، حفاظتی دوا یا ویکسین موجود نہیں جس سے ملنے والے تحفظ اور تاثیر کی سائنسی طور پر تصدیق ہو چکی ہو۔ اس حوالے سے حالیہ تحقیق کے واضح اور حتمی نتائج سامنے آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔
اس وائرس کے خلاف ویکسین کی تیاری کے ابتدائی مرحلے کی آزمائشیں سفید نیولوں اور بندروں پر کی جا رہی ہیں۔ ادارہ ان تجربات کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کرے گا کہ آیا ویکسین کی انسانوں پر آزمائش ہونی چاہیے یا نہیں۔ 'ڈبلیو ایچ او' کے تکنیکی مشاورتی گروپ نے گزشتہ جمعہ کو اپنا اجلاس منعقد کیا اور توقع ہے کہ وہ اپنی سفارشات رواں ہفتے جاری کرے گا۔
دوا کے تجربات
صوبہ ایتوری میں ایک ایسی دوا کی آزمائش بھی جاری ہے جو ممکنہ طور پر وائرس سے متاثرہ افراد میں بیماری کو روک سکتی ہے۔
اس دوا پر جمہوریہ کانگو کے قومی ادارہ حیاتیاتی تحقیق کی قیادت میں کام ہو رہا ہے جس میں اب تک 25 سے زیادہ لوگ شامل ہو چکے ہیں۔ ان میں وائرس کے انتہائی خطرے سے دوچار افراد کو 10 روز تک منہ کے ذریعے کھائی جانے والی دوا دی جا رہی ہے تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہ دوا بیماری کے آغاز کو روک سکتی ہے یا نہیں۔
وبا کے اعلان کے بعد ایتوری میں اب تک تین آزمائشی مراکز قائم کیے جا چکے ہیں جبکہ چوتھا مرکز بھی اسی ہفتے کھولنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ ان مراکز میں مریضوں کو محفوظ ماحول میں رکھا جاتا ہے اور ان کی مسلسل نگرانی کی جاتی ہے تاکہ ادویات کی افادیت کا درست اندازہ لگایا جا سکے۔
یو این اقدامات
پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ (یو این ایچ سی آر) متاثرہ علاقوں میں سکریننگ، انفیکشن سے بچاؤ، عوامی آگاہی اور صحت و صفائی کا سامان فراہم کر رہا ہے۔
جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا کی سرحد پر 'ڈبلیو ایچ او' اور 'ڈبلیو ایف پی' کے تعاون سے ایک موبائل لیبارٹری قائم کی گئی ہے جہاں ایبولا کے ٹیسٹ کا نتیجہ تقریباً ایک گھنٹے میں مل جاتا ہے۔ اس کی بدولت 94 ہزار سے زیادہ افراد کو بروقت تشخیصی سہولت میسر آ رہی ہے۔
عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) ایبولا سے متاثرہ خاندانوں کے چھوٹے بچوں کے لیے خصوصی نرسریاں چلا رہا ہے۔
کانگو میں اقوام متحدہ کا امن مشن(مونوسکو) شہریوں کے تحفظ، مقامی آبادی میں آگاہی پھیلانے اور طبی مراکز کی سکیورٹی بڑھانے میں 'ڈبلیو ایچ او' اور شراکت داروں کی مدد کر رہا ہے۔
امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کا دفتر (اوچا) کانگو اور اس کے ہمسایہ ممالک میں وبا سے نمٹنے اور پیشگی تیاریوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہنگامی فنڈ (سی ای آر ایف) کے ذریعے 60 ملین ڈالر جاری کر رہا ہے۔