افغانستان میں خوراک کا سنگین بحران، 12 صوبوں میں بچے غذائی قلت کا شکار
افغانستان میں بھوک کا سنگین بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے جہاں ایک کروڑ 40 لاکھ افراد غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ ہمسایہ ممالک سے 60 لاکھ مہاجرین کی واپسی نے وسائل پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے اپنی نئی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ ملک کی ایک تہائی آبادی شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہے جبکہ ادارے کے پاس بڑھتے ہوئے بحران سے نمٹنے کے لیے مطلوبہ وسائل موجود نہیں۔ 12 صوبوں کے بچوں میں شدید غذائی قلت کی شرح خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔
ادارے کے مطابق، جنگوں، بے روزگاری، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، انسانی امداد کے لیے وسائل میں کمی اور تجارتی راستوں میں رکاوٹوں نے اس بحران کو کہیں زیادہ شدید بنا دیا ہے۔
بھوک کا شدید بحران
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ:
- افغانستان میں 10 فیصد ضرورت مند آبادی کو ہی 'ڈبلیو ایف پی' کی امداد تک رسائی ہے۔
- ملک کے 12 صوبوں شدید غذائی قلت سے متاثرہ بیشتر بچوں کی عمر دو سال سے کم ہے۔
- مالی وسائل کی کمی کے باعث 'ڈبلیو ایف پی' نے ملک بھر میں غذائی پروگرام محدود کر دیے ہیں۔
- موسم سرما سے پہلے انسانی بحران کو مزید بگاڑ سے بچانے کے لیے ادارے کو 50 کروڑ ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔
- ایران اور پاکستان سے افغان مہاجرین کی جبری واپسیوں نے بھوک کے بحران کو مزید بڑھا دیا ہے۔
- ستمبر 2023 سے اب تک تقریباً 60 لاکھ افغان شہری پاکستان اور ایران سے واپس بھیجے جا چکے ہیں۔
بچوں کی زندگی کو خطرہ
افغانستان میں 'ڈبلیو ایف پی' کے ڈائریکٹر جان ایلیف نے کابل سے جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں بحران کے باعث افغانستان کی تجارتی سرگرمیاں متاثر ہوئی ہیں، جس کے نتیجے میں بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں 20 سے 30 فیصد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ غریب لوگ اب خوراک خریدنے کی استطاعت کھو رہے ہیں۔
بچوں میں شدید غذائی قلت اب ملک کے ایک تہائی صوبوں میں تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ طبی مراکز میں ایسے بچوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ بدترین متاثرہ بچوں میں 80 فیصد کی عمر دو سال سے بھی کم ہے جن میں بیشتر اس قدر تاخیر سے ہسپتال پہنچتے ہیں کہ انہیں بچانا ممکن نہیں رہتا۔
امدادی فنڈ میں کمی کے باعث لاکھوں افغان بچے ایسے وقت مدد سے محروم ہو رہے ہیں جب ان کی زندگیاں خطرے میں ہیں جس کے نتیجے میں ایسی اموات ہو رہی ہیں جنہیں بروقت امداد سے روکا جا سکتا تھا۔
ایک ماں کی دردناک کہانی
جنوبی افغانستان میں صوبہ قندھار کے حالیہ دورے کے موقع پر 'ڈبلیو ایف پی' کے عملے کی ملاقات تین بچوں کی ماں فریدہ سے ہوئی جس کی زندگی ملک کے لاکھوں غریب خاندانوں کی نمائندگی کرتی ہے۔
فریدہ کے شوہر عمر رسیدہ خوانچہ فروش ہیں اور روزانہ ایک ڈالر سے بھی رقم کم کماتے ہیں۔ اس معمولی آمدنی میں یہ خاندان نہ تو غذائیت سے بھرپور خوراک خرید سکتا ہے، نہ علاج کرا سکتا ہے اور نہ ہی دیگر بنیادی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔ فریدہ کے دو بچے خون کی کمی (انیمیا) کا شکار ہیں جبکہ ان کا ایک چھ سالہ بیٹا شدید غذائی قلت کے باعث کئی ماہ سے سکول بھی نہیں جا سکا۔
جان ایلیف نے بتایا کہ جب وہ فریدہ سے بات کر رہے تھے تو ان کا شیر خوار بچہ بھوک سے رونے لگا۔ انہوں نے اپنے تھیلے سے بچے کا فیڈر نکالا۔ عام طور پر ایسی بوتل میں دودھ ہوتا ہے، مگر اس میں صرف ہلکی چائے تھی کیونکہ ان کے پاس دودھ خریدنے کے رقم نہ تھی۔
فریدہ نے بتایا کہ انہیں اکثر اپنے بچوں سے کہنا پڑتا ہے کہ کھانے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا۔ اس خاندان کے پاس اب صرف چائے اور روٹی ہی واحد خوراک ہے۔ اگر انہیں 'ڈبلیو ایف پی' کے کلینک سے خوراک نہ ملے تو ان کے بچے زندہ نہیں رہ پائیں گے۔
امدادی وسائل کی کمی
'ڈبلیو ایف پی' عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کے اشتراک سے ملک بھر کے طبی مراکز میں غذائی قلت کے شکار بچوں اور حاملہ و دودھ پلانے والی خواتین کا علاج کرتا ہے۔ امدادی وسائل کی کمی کے باعث بچوں کے لیے غذائیت والی خوراک کی تقسیم مئی 2025 میں مکمل طور پر بند کر دی گئی تھی۔
جان ایلیف نے کہا کہ امسال ادارہ شدید غذائی قلت کا شکار ہر سات میں سے ایک خاتون یا بچے کو ہی خوراک فراہم کر سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سات میں سے چھ افراد کو خالی ہاتھ واپس بھیجا جا رہا ہے۔
ادارے کے مطابق، اسے رواں سال ہنگامی غذائی امداد اور غذائیت کے پروگراموں کے لیے تقریباً 90 کروڑ ڈالر درکار ہیں۔ اس حوالے سے موسم سرما سے پہلے کا عرصہ انتہائی اہم ہے کیونکہ سردیوں میں بھوک عروج پر پہنچ جاتی ہے۔ امدادی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں بڑھتی ہوئی بھوک نہ صرف لوگوں کو ہجرت پر مجبور کرتی ہے بلکہ انتہاپسندی اور عدم استحکام کو بھی فروغ دیتی ہے جس کے اثرات ملک کی سرحدوں سے باہر بھی پھیل سکتے ہیں۔