انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سوڈان: ڈرون حملوں سے شہریوں اور امدادی کارروائیوں کو خطرہ، اوچا

سوڈان میں ایک عارضی بستی میں پناہ گزین اور بے گھر افراد، عارضی خیموں اور سامان کے ساتھ ایک خشک زمین پر پھیلے ہوئے ہیں۔
© UNOCHA/Mohamed Elgoni دارفور بدامنی سے بے گھر لوگ پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں (فائل فوٹو)۔

سوڈان: ڈرون حملوں سے شہریوں اور امدادی کارروائیوں کو خطرہ، اوچا

امن اور سلامتی

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے خبردار کیا ہے کہ سوڈان میں جاری ڈرون حملے شہریوں کی زندگی کے لیے مہلک خطرہ بن چکے ہیں اور جنگ سے متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی رسائی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔

یہ انتباہ ریاست شمالی دارفور کی بستی غارہ الزاویہ میں ایک مہلک ڈرون حملے کے بعد جاری کیا گیا ہے جہاں اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (او ایچ سی ایچ آر) کے مطابق، 35 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق، اتوار کو سوڈانی مسلح افواج (ایس اے ایف) نے اس حملے میں مقامی پنچایت کو نشانہ بنایا۔

Tweet URL

اوچا نے بتایا ہے کہ حالیہ دنوں ریاست شمالی کردفان کے دارالحکومت العبید میں ہونے والے نئے ڈرون حملوں نے نہ صرف شہریوں بلکہ بنیادی ڈھانچے اور امدادی کارروائیوں کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

اوچا کے سربراہ ٹام فلیچر نے کہا ہے کہ امدادی ادارے شمالی کردفان میں جنگ سے متاثرہ خاندانوں تک امداد پہنچانے کی کوششیں تیز کر رہے ہیں اور جونہی موقع ملے گا امداد کی فراہمی کو العبید اور اس کے گرد و نواح تک وسعت دی جائے گی۔

انہوں نے متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لائیں، شہریوں کو تحفظ دیں اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی ممکن بنائیں۔ اوچا نے عطیہ دہندگان سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ سوڈان کے لیے انسانی امداد میں مزید تعاون کریں۔ ادارے کے مطابق، رواں سال ملک کو درکار 2.9 ارب ڈالر کے امدادی وسائل میں سے اب تک صرف 1.2 ارب ڈالر ہی موصول ہوئے ہیں۔

جنگ بندی کے لیے سفارتی کوششیں

اقوام متحدہ اور شراکت داروں نے سوڈان میں جنگ کے خاتمے کے لیے گزشتہ ہفتے دوبارہ مشاورت کی ہے۔ اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے بتایا ہے کہ اس مشاورت میں سوڈان کے لیے سیکرٹری جنرل کے ذاتی ایلچی کے دفتر، افریقی یونین، بین الحکومتی افریقی ترقیاتی ادارہ (آئی جی اے ڈی)، عرب لیگ اور یورپی یونین کی نمائندگی شامل تھی۔

ایتھوپیا کے دارالحکومت ادیس ابابا میں جون کے دوران ہونے والی ابتدائی مشاورت کے بعد حالیہ دنوں سوڈان کی سیاسی قیادت سے مزید بات چیت کی گئی اور ان مذاکرات میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز اور آرا پر تبادلہ خیال کیا گیا جن میں اعتماد سازی کے اقدامات بھی شامل تھے۔

سنجیدہ مذاکرات کا مطالبہ

سوڈان کے لیے سیکرٹری جنرل کے نمائندے پیکا ہاویستو تمام متعلقہ فریقین سے رابطے میں ہیں۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات اور جنگ بندی کے حصول کے لیے سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات کیے جائیں۔

اتوار کو انہوں نے سوڈان کے وزیر خارجہ محی الدین سالم سے فون پر گفتگو کی جس میں ملک کی حالیہ صورتحال اور ان کے آئندہ دورہ خرطوم کی تیاریوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس دوران چاڈ میں مقیم سوڈانی طلبہ کے امتحانات کے انعقاد کو ممکن بنانے کی کوششوں پر بھی بات ہوئی۔ 

پیکا ہاویستو ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے سربراہ حمدان دقلو (حمیدتی) سے بھی رابطے میں ہیں تاکہ تنازع کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے عملی اقدامات پر پیش رفت کی جا سکے۔ وہ ان کوششوں کے سلسلے میں رواں ہفتے ترکیہ کا دورہ بھی کریں گے۔