میانمار: ریڈ کراس نمائندے کی نظربند آنگ سان سوچی سے ملاقات کا خیرمقدم
اقوام متحدہ نے بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے نمائندے کی میانمار میں نظربند سابق ریاستی مشیر آنگ سان سوچی سے ملاقات کا خیرمقدم کرتے ہوئے ان کی رہائی کا مطالبہ دہرایا ہے۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا ہے کہ ادارے کو اس بات کا علم ہے کہ 'آئی سی آر سی' کے نمائندے نے میانمار میں آنگ سان سوچی سے ان کی حراست گاہ میں ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات 'آئی سی آر سی' کے قیدیوں سے ملاقات سے متعلق مقررہ اصولوں اور طریقہ کار کے مطابق کی گئی۔
نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے موقع پر فرحان حق نے کہا کہ اقوام متحدہ اس پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے زور دیتا ہے کہ ناجائز طور پر زیر حراست تمام افراد کو فوری اور غیر مشروط رہا کیا جائے کیونکہ معتبر، شفاف اور قابل اعتماد سیاسی عمل کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی غرض سے یہی بنیادی شرط ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میانمار کے لیے سیکرٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ جولی بشپ بھی آنگ سان سوچی کی صورتحال سے متعلق آزادانہ اور قابل تصدیق معلومات فراہم کرنے کا مطالبہ کر چکی ہیں۔ انہوں نے مئی میں اپنے دورہ میانمار کے دوران بھی اس مطالبے کو دہرایا تھا۔
بحران کے حل کی شرائط
فرحان حق نے کہا کہ اقوام متحدہ زور دیتا آیا ہے کہ میانمار کے بحران کا کوئی بھی پائیدار سیاسی حل فوری جنگ بندی، تشدد کے خاتمے اور تمام متعلقہ فریقین کے درمیان حقیقی اور جامع مذاکرات کے عزم پر مبنی ہونا چاہیے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ سیکرٹری جنرل بھی زور دے چکے ہیں کہ میانمار کے تمام متعلقہ فریقین اور اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی کے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ ایسے طریقہ کار تلاش کیے جا سکیں جن کے ذریعے اقوام متحدہ اور اس کے شراکت دار، خصوصاً جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم (آسیان) میانمار میں عوام کے مفاد میں مسئلے کے پرامن حل تک پہنچنے کی کوششوں میں موثر تعاون کر سکیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی جانب سے کیے گئے مطالبات کے مطابق ہیں۔