غزہ: اسرائیلی فضائی حملوں میں بچوں سمیت درجنوں شہری ہلاک، اوچا
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران غزہ میں اسرائیل فضائی حملوں، گولہ باری اور فائرنگ کے نتیجے میں بچوں سمیت درجنوں شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔
'اوچا' کے مطابق، حملوں میں الاقصیٰ ہسپتال کے قریبی علاقے کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں ادویات اور طبی آلات کو ذخیرہ کرنے کی ایک عمارت تباہ ہو گئی۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، اس حملے میں بڑی مقدار میں اہم سامان بھی ضائع ہو گیا۔ تاہم حملے کی جگہ ہسپتال کے قریب ہونے کے باوجود عمارت کو معمولی نقصان پہنچا۔
اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے غزہ کی وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ علاقے میں گزشتہ ماہ 150 سے زیادہ شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ رواں سال کے آغاز سے اب تک کسی ایک ماہ میں ہونے والی ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
طبی سازوسامان کی قلت
'اوچا' کے مطابق، زیادہ تر حملے غزہ کے وسط میں کیے گئے جو اگرچہ پورے علاقے کے نصف سے بھی کم رقبے پر مشتمل ہے لیکن غزہ کی 21 لاکھ آبادی میں سے بیشتر اسی جگہ مقیم ہے۔ اوچا نے کہا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ لازمی ہے اور انہیں نشانہ بنانا ممنوع ہے۔
اقوام متحدہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ طبی مراکز پر کبھی حملہ نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی انہیں کسی طرح کی عسکری سرگرمی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔
دریں اثنا، اقوام متحدہ کے شراکت دار اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مالی وسائل کی مسلسل کمی کے باعث غزہ میں ضروری طبی سامان کی قلت بدستور برقرار ہے۔ اس میں ذیابیطس کے مریضوں کے لیے انسولین اور امراض قلب میں استعمال ہونے والی ادویات سمیت دیگر ناگزیر طبی اشیا بھی شامل ہیں اور ان حالات میں مریضوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔