بچوں کو اپنا دودھ پلانے کے لیے ماؤں کو ضروری تحفظ کی کمی، یو این
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن اب بھی لاکھوں ماؤں اور خاندانوں کو ایسی ضروری سہولتیں، رہنمائی اور تحفظ میسر نہیں جو محفوظ اور صحت مند انداز سے دودھ پلانے کے لیے ناگزیر ہیں۔
عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے زور دیا ہے کہ نظام ہائے صحت، کام کی جگہوں اور مقامی سطح پر لوگوں کو ماؤں اور نومولود بچوں کی بہتر معاونت کے لیے مزید موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
دونوں اداروں نے دودھ پلانے سے متعلق معیاری مشاورت اور زچگی کے دوران قانونی تحفظ کی فراہمی کے علاوہ ماں کے دودھ کے متبادل مصنوعات کی بڑے پیمانے پر تشہیر کے خلاف سخت اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ مطالبات بچوں کے لیے ماں کے دودھ کی افادیت کو اجاگر کرنے کے لیے یکم سے سات اگست تک منائے جانے والے عالمی ہفتے کے موقع پر کیے گئے ہیں۔
سادہ، موثر اور صحت بخش دودھ
ماں کا دودھ بچوں کی صحت کے تحفظ کا سب سے آسان، قدرتی اور موثر ذریعہ ہے۔ یہ نومولود اور کم عمر بچوں کو ضروری غذائیت فراہم کرتا ہے، ان کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے، کئی سنگین بیماریوں سے بچاتا ہے اور ذہنی و دماغی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
ماؤں کے لیے بھی دودھ پلانے کے بے شمار فوائد ہیں۔ اس سے چھاتی اور بیضہ دانی کے سرطان سمیت کئی غیر متعدی بیماریوں اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے خطرات میں کمی آتی ہے۔
یونیسف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل اور 'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بچوں کے لیے ماں کا دودھ انتہائی اہم ہے۔ اگر آزمودہ اور موثر اقدامات میں سرمایہ کاری کی جائے تو ہر بچے کو زندگی کا بہترین آغاز فراہم کیا جا سکتا ہے۔
صاف، محفوظ اور دستیاب غذا
دونوں اداروں کے مطابق، اگر دنیا بھر میں دودھ پلانے کے عمل کو مزید فروغ دیا جائے تو ہر سال تقریباً چار لاکھ بچوں اور ایک لاکھ 40 ہزار ماؤں کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
اداروں نے سفارش کی ہے کہ بچے کو اس کی پیدائش کے پہلے ہی گھنٹے میں ماں کا دودھ پلانا شروع کیا جائے، پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ دیا جانا چاہیے اور اس کے بعد مناسب اضافی غذا کے ساتھ کم از کم دو سال یا اس سے زیادہ عرصہ تک دودھ پلانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے۔
سست رو پیش رفت
زندگی کے پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ پینے والے بچوں کی شرح 2012 میں تقریباً 37 فیصد تھی جو اب بڑھ کر 47 فیصد سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اسی طرح، دو سال کی عمر تک دودھ پلانے کی شرح بھی 38 فیصد سے بڑھ کر 50 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
تاہم یونیسف اور 'ڈبلیو ایچ او' کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت عالمی اہداف کے حصول کے لیے ناکافی ہے اور بہت سے ممالک اب بھی مطلوبہ رفتار سے پیچھے ہیں۔ دودھ پلانے میں معاون طبی خدمات تک رسائی اب بھی محدود ہے، متعلقہ قوانین پر یکساں عملدرآمد نہیں ہو رہا جبکہ خدمات کا معیار بھی ناکافی ہے۔
دونوں اداروں نے کہا ہے کہ دنیا ابھی دودھ پلانے سے متعلق اپنے اہداف کے حصول کی راہ پر درست سمت میں گامزن نہیں ہے۔ تاہم، شواہد واضح ہیں کہ طبی نظام کے ذریعے ماہرین کی رہنمائی، مقامی سطح پر مشاورت، زچگی کے دوران قانونی تحفظ اور ماں کے دودھ کے متبادل فارمولا دودھ کی گمراہ کن تشہیر کی روک تھام جیسے اقدامات کم لاگت اور موثر ہیں۔
منافع بخش سرمایہ کاری
یونیسف اور 'ڈبلیو ایچ او' نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنائیں تاکہ ماؤں اور نومولود بچوں کو پیدائش سے پہلے، دوران زچگی اور بعد از زچگی معیاری رہنمائی اور معاونت فراہم کی جا سکے۔
دونوں اداروں نے حکومتوں سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ مقامی سطح پر مشاورتی خدمات کو وسعت دی جائے، تنخواہ کے ساتھ زچگی کی رخصت اور کام کی جگہوں پر ماؤں کے حقوق اور سہولتوں کو یقینی بنایا جائے، ماں کے دودھ کے متبادل مصنوعات کی تشہیر سے متعلق بین الاقوامی ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل کرایا جائے اور ہنگامی یا بحرانی حالات میں بھی دودھ پلانے میں معاونت کا سلسلہ برقرار رکھا جائے۔
معاشی اعتبار سے بھی یہ ایک انتہائی فائدہ مند سرمایہ کاری ہے کیونکہ دودھ پلانے کے فروغ پر خرچ کیے جانے والے ہر ایک ڈالر کے بدلے میں اوسطاً 59 ڈالر کا معاشی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔