کانگو: ایبولا کے مریضوں میں اضافہ پر نئے یو این طبی مراکز کا قیام
جمہوریہ کانگو (ڈی آر سی) کے مشرقی علاقوں میں ایبولا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد میں گزشتہ ہفتے کے اختتام پر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے پیش نظر اقوام متحدہ کے تعاون سے علاقے میں علاج معالجے کے نئے مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق، 30 جولائی تک ملک میں ایبولا کے 3,605 مصدقہ مریض سامنے آ چکے ہیں، جن میں 1,587 افراد ہلاکت ہوئی ہے۔ یہ ملک کی تاریخ میں ایبولا کی سب سے بڑی وبا ہے جو مئی کے وسط میں پھوٹی تھی۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران 567 نئے مریض سامنے آئے اور 296 اموات ریکارڈ کی گئیں جو اب تک کسی ہفتے نئے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
گزشتہ دو ماہ کے دوران ایبولا مزید پانچ صوبوں تک پھیل گیا ہے اور اب 49 طبی زون اس سے متاثر ہیں جن میں سے 33 علاقوں میں نئے مریض سامنے آ رہے ہیں۔ صوبہ ایتوری سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ ہے جہاں ملک کے 88 فیصد مریض سامنے آئے اور 82.6 فیصد اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔
علاج معالجہ کے نئے مراکز کا قیام
ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، رواں ہفتے کانگو میں ایبولا کے علاج کا سب سے بڑا مرکز قائم کیا جائے گا جس میں 100 بستروں کی گنجائش ہو گی۔ یہ مرکز پہلے سے قائم ایبولا ٹرانزٹ سنٹر کی معاونت کرے گا۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ وبا پر قابو پانے کے لیے امدادی اور طبی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ ناگزیر ہے۔
عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) کے قائمقام سربراہ کارل سکو نے مشرقی کانگو کے دورے کے بعد کہا ہے کہ ایبولا تیزی سے پھیل رہا ہے اور ایسے لوگوں کو نشانہ بنا رہا ہے جو پہلے ہی جنگ اور بھوک جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس وبا پر قابو پانے میں مقامی برادریوں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے، لیکن انہیں بڑے پیمانے پر معاونت کی ضرورت ہے۔
خطرناک علاقے میں امدادی سرگرمیاں
وبا کے نتیجے میں سب سے زیادہ متاثرہ علاقے کو 'ریڈ زون' قرار دیا گیا ہے جہاں جان بچانے کے لیے امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اقوام متحدہ کے مختلف اداروں، امریکہ اور انٹرنیشنل میڈیکل کور (آئی ایم سی) کے تعاون سے ایتوری کے دارالحکومت بونیا میں بے گھر افراد کی ایک بستی میں ایبولا ٹرانزٹ سنٹر قائم کیا گیا ہے۔
اوچا نے کہا ہے کہ اس مرکز کی بدولت مشتبہ مریضوں کی جلد تشخیص ممکن ہو گی اور مصدقہ مریضوں کو فوری طور پر طبی مراکز منتقل کیا جا سکے گا۔
حاملہ خواتین کے لیے خطرات
'ڈبلیو ایچ او' نے خبردار کیا ہے کہ وبا کی رفتار، اس کا نئے علاقوں تک پھیلاؤ اور بلند شرح اموات تقاضا کرتے ہیں کہ امدادی کارروائیوں کو فوری اور وسیع پیمانے پر بڑھایا جائے۔ بدامنی، آبادی کی نقل مکانی، لوگوں کی مسلسل آمدورفت اور سرحد پار سفر امدادی کارروائیوں کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں اور وبا کے مزید علاقوں تک پھیلنے کا خطرہ بڑھ رہا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایتوری صوبے میں تشدد سے فرار ہونے والے تقریباً دو لاکھ 70 ہزار افراد مختلف عارضی کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں جہاں گنجان آبادی اور غیر صحت بخش حالات ایبولا کے پھیلاؤ کے لیے انتہائی سازگار ہیں۔
امدادی ٹیموں نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ ایبولا حاملہ خواتین میں مردہ بچوں کی پیدائش اور قبل از وقت زچگی کا سبب بن رہا ہے جس کے باعث حاملہ مریضوں کے لیے خصوصی طبی نگہداشت کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔