جنگلی آگ کا دھواں وسیع علاقے میں مسائل صحت کا باعث، ڈبلیو ایچ او
جنگلوں میں بھڑکنے والی آگ کے اثرات کو عموماً اس تباہی سے ماپا جاتا ہے جو وہ اپنے پیچھے چھوڑ جاتی ہے، لیکن عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ اس آگ کا دھواں متاثرہ علاقوں سے کہیں دور رہنے والوں کی صحت کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
امسال موسم گرما میں یورپ اور شمالی امریکہ کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر جنگلوں کی آگ بے قابو ہو کر پھیل رہی ہے۔ اس سے پیدا ہونے والا دھواں سرحدوں اور بعض اوقات براعظموں کو بھی عبور کر جاتا ہے جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد مضر فضائی آلودگی کی زد میں آ جاتے ہیں۔
'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، موسمیاتی تبدیلی، گرمی کی طویل لہریں، خشک سالی اور زمین کے انتظام و استعمال کے بدلتے طریقے جنگلاتی آگ کے واقعات اور ان کی شدت میں اضافہ کر رہے ہیں جس سے طبی خطرات میں بھی تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔
اگرچہ ایسے بہت سے واقعات انسانی سرگرمیوں کے باعث پیش آتے ہیں لیکن موسمیاتی تبدیلی نے موسم کو زیادہ گرم اور خشک بنا دیا ہے جس سے آگ بھڑکنے اور اس کے تیزتر پھیلاؤ کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں اور اس سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی آگ سے دور واقع آبادیوں میں بھی کئی دنوں بلکہ ہفتوں تک برقرار رہ سکتی ہے۔
صحت پر مضر اثرات
جنگلاتی آگ سے اٹھنے والا دھواں مختلف گیسوں اور نہایت باریک ذرات کا پیچیدہ مرکب ہوتا ہے جو درختوں، پودوں، عمارتوں اور دیگر اشیا کے جلنے سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر آگ شہری یا صنعتی علاقوں تک پہنچ جائے تو اس سے مزید زہریلے مادے بھی فضا میں شامل ہو جاتے ہیں۔
پی ایم 2.5 کہلانے والے باریک ذرات سب سے زیادہ تشویش کا باعث ہیں جو پھیپھڑوں میں پہنچ کر خون میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان ذرات کی زد میں آنے سے کھانسی، آنکھوں اور گلے میں جلن، سر درد، سانس میں سیٹی کی آواز اور سانس پھولنے کے علاوہ دمہ سمیت دیگر دائمی بیماریوں کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
شیر خوار اور کم عمر بچے، معمر افراد، حاملہ خواتین، جسمانی معذور افراد اور مناسب حفاظتی انتظامات سے محروم لوگ اس دھویں کے مضر اثرات سے کہیں زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔
اسی طرح، امدادی کارکن اور کھلی فضا میں کام کرنے والے مزدور بھی مسلسل دھویں میں رہنے کی وجہ سے زیادہ خطرات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ جنگلاتی آگ صرف جسمانی صحت ہی نہیں بلکہ ذہنی صحت کو بھی متاثر کرتی ہے اور ہنگامی حالات کے دوران اور بعد میں ذہنی دباؤ، اضطراب اور نفسیاتی صدمے کا سبب بن سکتی ہے۔
دھویں سے بچنے کے طریقے
'ڈبلیو ایچ او' نے کہا ہے کہ دھوئیں کے مضر اثرات سے بچنےکے لیے فضائی معیار سے متعلق جاری ہونے والی اطلاعات پر نظر رکھنا اور متعلقہ حکام کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے خواہ آگ کہیں دور ہی کیوں نہ لگی ہو۔
'ڈبلیو ایچ او' کے یورپی مرکز برائے ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی و صحت کی عہدیدار ڈوروٹا یاروسنسکا کا کہنا ہے کہ کہیں آگ لگنے کی صورت میں دھویں کی بو محسوس ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس ہوا میں موجود ہے جو سانس کے ذریعے جسم میں جا رہی ہے۔
ایسی صورت میں، بالخصوص حساس یا زیادہ خطرے سے دوچار افراد کو اپنی حفاظت کے لیے دھویں سے بچنا چاہیے۔ ممکن ہے کہ دھویں کی بو محسوس نہ ہو لیکن اس کے اثرات ظاہر ہونے لگیں۔ علاوہ ازیں، ہوا کا رخ اچانک بدلنے سے جنگلاتی آگ بھی کسی اور سمت کو بڑھ سکتی ہے، اس لیے تازہ اطلاعات سے باخبر رہنا ضروری ہے۔
شدید دھویں کے دوران لوگ گھروں کے اندر رہیں اور دروازے اور کھڑکیاں بند رکھیں، البتہ اگر حکام انخلا کی ہدایت دیں تو فوراً اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اگر باہر جانا ناگزیر ہو ایف ایف پی 2 یا این 95 ماسک پہننے سے کسی حد تک تحفظ حاصل کیا جا سکتا ہے۔
دل یا پھیپھڑوں کے مریض، حاملہ خواتین اور ایسے تمام افراد کو فوری طور پر طبی مشورہ حاصل کرنا چاہیے جنہیں سانس لینے میں دشواری محسوس ہو۔