انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایل نینو سے حدت اور بارشوں میں اضافے کا امکان، ڈبلیو ایم او کا انتباہ

ساگوارو کیکٹی کے ساتھ صحرائی منظر نامے پر متعدد بجلی گرنے والے مون سون طوفان کی ایک جامع تصویر۔
© WMO/Edward Mitchell امریکہ میں طوفان باد و باراں۔

ایل نینو سے حدت اور بارشوں میں اضافے کا امکان، ڈبلیو ایم او کا انتباہ

موسم اور ماحول

عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر کے موسموں کو متاثر کرنے والا طاقتور موسمیاتی رجحان ایل نینو آئندہ ماہ مزید شدت اختیار کر جائے گا جس کے نتیجے میں دنیا کے بیشتر حصے معمول سے زیادہ حدت اور بے قاعدہ بارشوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

ادارے کی تازہ ترین ماہانہ عالمی موسمیاتی پیش گوئی کے مطابق، بحر الکاہل میں ایک طاقتور ایل نینو تشکیل پا رہا ہے جو اگست سے اکتوبر کے دوران مزید مضبوط ہو گا اور دنیا کے مختلف حصوں میں شدید موسمی حالات کو جنم دے گا جس کے نتیجے میں:

  • دنیا کے بیشتر علاقوں میں معمول سے زیادہ حدت متوقع ہے۔
  • بعض خطوں میں معمول سے زیادہ بارشیں ہوں گی، جبکہ دیگر علاقوں میں خشک سالی کا خطرہ بڑھ جائے گا۔
  • بحر اوقیانوس کے استوائی حصے میں سمندر کی سطح کا درجہ حرارت اوسط سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
  • یہ موسمی پیش گوئیاں بروقت تیاری، پیشگی حفاظتی اقدامات اور بہتر فیصلہ سازی کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

شدید حدت اور گرمی کی لہریں

'ڈبلیو ایم او' کے مطابق، مختلف موسمیاتی نمونوں سے حاصل ہونے والی پیش گوئیاں ظاہر کرتی ہیں کہ متعدد زیرنگرانی سمندروں میں پانی کی سطح کے درجہ حرارت کی موسمی اوسط میں 2.9 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ ایل نینو شدت اختیار کر رہا ہے جبکہ زمین پہلے ہی شدید گرمی کی لہروں اور تباہ کن جنگلاتی آگ کی لپیٹ میں ہے جبکہ سمندروں کی حدت بھی نئی ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ 

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ ایل نینو اب صرف دروازے پر دستک نہیں دے رہا بلکہ گھر کے اندر داخل ہو چکا ہے اور گرمی میں مزید اضافہ کر رہا ہے جبکہ یہ محض آغاز ہے۔

معدنی ایندھن سے بگڑتا بحران

سیکرٹری جنرل کا کہنا ہے کہ کوئلہ، تیل اور قدرتی گیس جیسے حیاتیاتی ایندھن اس موسمیاتی بحران کو مزید بھڑکا رہے ہیں، لہٰذا ان کے استعمال اور پیداوار میں مزید توسیع کا سلسلہ رک جانا چاہیے۔ کوئلے، تیل اور گیس کا استعمال مستقبل کو مزید خطرناک اور آتش گیر بنا دے گا۔

اگر لوگوں کے تحفظ اور اس بحران کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے جا سکے تو خطرات مزید مہلک ہو جائیں گے۔ ابتدائی مرحلہ گزر چکا ہے اور اب دنیا اصل بحران کا انتظار کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔

تحفظ زندگی کے لیے پیشگی اقدامات

'ڈبلیو ایم او' متاثرہ ممالک کی مدد کے لیے اپنے رابطے کے نظام، موسمی معلومات کی فراہمی اور ابتدائی انتباہی نظام کو مزید مضبوط بنا رہا ہے تاکہ حکومتیں، امدادی ادارے، زراعت و صحت جیسے شعبے اور کمزور و حساس آبادی بروقت تیاری کر سکیں۔

'ڈبلیو ایم او' کی سیکرٹری جنرل سیلسٹ ساؤلو نے کہا ہے کہ ایل نینو دنیا کے ایسے موسمی مظاہر میں سے ایک ہے جن پر سب سے زیادہ نظر رکھی جاتی ہے، لیکن صرف پیش گوئیاں خطرات کو نہیں ٹالتیں بلکہ بروقت انسانی اقدامات ہی آفات سے بچاتے ہیں۔

یہ ایل نینو ایسے وقت آ رہا ہے جب سمندروں کا درجہ حرارت غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے اور عالمی حدت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود حکومتوں اور آبادیوں کے پاس موقع موجود ہے کہ وہ ممکنہ خطرات کا پیشگی اندازہ لگا کر بروقت اقدامات کریں۔

انہوں نے واضح کیا ہے کہ آج جو فیصلے لیے جائیں گے وہی تعین کریں گے کہ کل دنیا موسمی شدت کا مقابلہ کیسے کرے گی۔ 'ڈبلیو ایم او' اور رکن ممالک پرعزم ہیں کہ مستند، قابل اعتماد اور موثر موسمی معلومات بروقت ایسے لوگوں تک پہنچیں جنہیں ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔