انسانی کہانیاں عالمی تناظر

خلیج میں عسکری کشیدگی عالمی استحکام کے لیے خطرہ، یو این چیف

UN سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نیویارک میں United Nations ہیڈ کوارٹر میں پریس اسٹیک آؤٹ کے دوران ایک پوڈیم سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نیو یارک میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔

خلیج میں عسکری کشیدگی عالمی استحکام کے لیے خطرہ، یو این چیف

امن اور سلامتی

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ خلیجی خطے میں چھ ماہ قبل شروع ہونے والی عسکری کشیدگی اب علاقائی تنازع سے بڑھ کر عالمی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔

انہوں نے شام، اردن اور قبرص کے دورے سے واپسی کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس تنازع کے باعث آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیاں تقریباً مفلوج ہو چکی ہیں، غذائی اشیا اور کھادوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں جبکہ توانائی کی منڈیوں اور رسد کے عالمی نظام پر بھی اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

Tweet URL

دنیا بھر میں ایسے خاندانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو گھر کا چولہا جلانے کے لیے کڑی جدوجہد کر رہے ہیں، کسان بنیادی زرعی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہیں اور کمزور ریاستیں تباہی کے دہانے پر پہنچ رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کے نتیجے میں ساڑھے چار کروڑ افراد کو شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جبکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور عالمی اقتصادی نمو میں سست روی لاکھوں افراد کو غربت کی لکیر سے نیچے دھکیل سکتی ہے۔

غزہ مین مثبت پیش رفت

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ حالیہ دنوں کی واحد امید افزا خبر امریکہ کے صدر کی جانب سے اس معاہدے کا اعلان تھا جس کے تحت حماس کے ہتھیار ڈالنے اور اسرائیلی افواج کے غزہ سے انخلا پر اتفاق کیا گیا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ خطے کے تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی عمل میں آنی چاہیے اور آبنائے ہرمز اور باب المندب کے اطراف جہاز رانی کے حقوق اور آزادیوں کو مکمل طور پر بحال کیا جانا چاہیے۔

انتونیو گوتیرش نے اپنے دورہ شام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ایک ایسے ملک کو دیکھا جو برسوں کی تباہی کے بعد دوبارہ سنبھلنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی برادری کو یہ امید حقیقت میں بدلنے کے لیے تعاون کرنا ہو گا جس میں پابندیوں کا مکمل خاتمہ اور بحالی و تعمیر نو کے لیے مسلسل تعاون بھی شامل ہے۔

سنگین موسمیاتی خطرہ

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ انسانیت کو درپیش خطرات صرف جنگوں تک محدود نہیں۔ ایک اور بحران بھی تیزی سے شدت اختیار کر رہا ہے جو کسی سرحد کی پروا نہیں کرتا اور پوری دنیا میں لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کو تباہ کر رہا ہے۔ یہ موسمی کیفیت ایل نینو ہے جس کے اثرات غیر معمولی گرمی، وسیع پیمانے پر جنگلاتی آگ اور انسانی جانوں کے ضیاع کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس بحران سے نمٹنے کے لیے چار بنیادی شعبوں میں فوری اقدامات ناگزیر ہیں:

  • شدید گرمی کے مزید جان لیوا بننے سے پہلے لوگوں کو تحفط دیا جائے۔
  • کام کی جگہوں کو زیادہ محفوظ بنایا جائے تاکہ کارکن شدید گرمی کے اثرات سے محفوظ رہ سکیں۔
  • شہروں، عمارتوں اور بنیادی ڈھانچے کو اس انداز میں تعمیر و تبدیل کیا جائے کہ وہ بڑھتی حدت کا مقابلہ کر سکیں۔
  • موسمیاتی بحران کو ہوا دینے والے عوامل کا خاتمہ کیا جائے، خصوصاً حیاتیاتی ایندھن پر انحصار کم کیا جائے کیونکہ یہی اس بحران کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ شدید گرمی مستقبل کا کوئی دور دراز خطرہ نہیں بلکہ آج کی حقیقت ہے اور اس کی شدت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اگر لوگوں کے تحفظ اور اس بحران کی بنیادی وجوہات کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ پہلے سے کہیں زیادہ مہلک ثابت ہو گا۔