انسانی کہانیاں عالمی تناظر
خواتین اور بچوں کا ایک گروپ غروب آفتاب کے وقت ایک دیہی گاؤں میں ایک راستے پر چل رہا ہے، جس کے پس منظر میں سیلابی کھیتوں اور سادہ پناہ گاہیں ہیں۔

لاکھوں زندگیوں کو متاثر کرنے والا موسمیاتی رحجان ایل نینو کیا ہے؟

© UNHCR/ Santi Palacios جنوبی سوڈان میں ایل نینو سے متاثرہ ایک گاؤں۔

لاکھوں زندگیوں کو متاثر کرنے والا موسمیاتی رحجان ایل نینو کیا ہے؟

از ڈینیئل ڈکنسن
موسم اور ماحول

سمندری موسمی کیفیت ایل نینو کے باعث مشرقی اور جنوبی افریقہ میں لاکھوں افراد کی زندگیاں خطرات سے دوچار ہیں۔ اقوام متحدہ متاثرہ آبادی کو اس کے اثرات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری میں مدد دے رہا ہے۔

ایل نینو ایک قدرتی موسمیاتی رجحان ہے جس میں بحرالکاہل کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے اور اس طرح دنیا بھر کے موسمی نظام متاثر ہوتے ہیں۔ یہ کوئی نیا موسمی مظہر نہیں اور نہ ہی موسمیاتی تبدیلی اس کی وجہ ہے، البتہ موسمیاتی تبدیلی اس کے اثرات کو مزید شدید بنا سکتی ہے اور بنا رہی ہے۔

ماہرین موسمیات کے مطابق، آئندہ مہینوں میں ایل نینو مزید طاقت پکڑ سکتا ہے اور ممکنہ طور پر اس کے اثرات 2027 کے اوائل تک برقرار رہیں گے۔ جنوبی اور مشرقی افریقہ کے لاکھوں لوگوں کے لیے یہ صرف موسمی پیش گوئی نہیں بلکہ ایک سنگین انتباہ ہے۔

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ کار ٹام فلیچر کا کہنا ہے کہ دنیا کو آفات کا انتظار کرنے یا پیشگی تیاری اور مضبوطی پر سرمایہ کاری میں سے ایک انتخاب کرنا ہو گا۔ جو آبادیاں پہلے ہی ایل نینو کی تباہ کاریوں کا سامنا کر چکی ہیں ان کے لیے پیشگی تیاری زندگی اور موت کے درمیان فرق ثابت ہو سکتی ہے۔

زامبیا میں ایک کسان خشک سالی سے متاثرہ مکئی کے کھیت میں کھڑا ہے۔
© WFP/Gabriela Vivacqua زیمبیا کا ایک کسان خشک سالی سے متاثرہ مکئی کی فصل کا معائنہ کر رہا ہے۔

خطرہ کہاں اور کیسے بڑھتا ہے؟

ایل نینو ہر خطے کو یکساں طور پر متاثر نہیں کرتا۔ اس سے مشرقی افریقہ میں صومالیہ سے لے کر تنزانیہ تک  معمول سے کہیں زیادہ بارشیں ہوتی ہیں۔ اس طرح اچانک سیلاب آتے ہیں، دریا بپھر جاتے ہیں، لینڈ سلائیڈنگ ہوتی ہے، گھر زیر آب آ جاتے ہیں، سڑکیں بہہ جاتی ہیں اور سکولوں، ہسپتالوں تک رسائی منقطع ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب افریقہ کے جنوبی ممالک زیمبیا، جنوبی افریقہ، نمیبیا اور موزمبیق میں بارشیں کم ہوتی ہیں، فصلیں تباہ ہو جاتی ہیں، پانی کے ذخائر خشک ہونے لگتے ہیں اور مویشیوں کے لیے چراگاہیں ختم ہو جاتی ہیں۔

ایسے حالات میں سب سے زیادہ نقصان ان لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے جو پہلے ہی کمزور اور غیرمحفوظ ہوتے ہیں۔

متاثرہ خاندانوں کی داستان

زیمبیا کی کسان خاتون ایسنرٹ چونگانی بتاتی ہیں کہ 2024 میں آنے والی خشک سالی کے باعث ان کے خاندان کو مکئی کی ایک بالی بھی حاصل نہ ہو سکی۔ اس سے پہلے انہیں کبھی ایسی صورتحال سے واسطہ نہیں پڑا تھا۔ لوگ شدید بھوک کا شکار تھے۔ پہلے ان کی برادری ایک دوسرے کی مدد کرتی تھی مگر اب ہر شخص خود مشکلات میں گھر گیا۔

ملاوی کی مارتھا کالومبی کے شیر خوار بچے کو غذائی قلت کے باعث ہسپتال میں داخل کرنا پڑا۔ وہ کہتی ہیں کہ فصل تباہ ہونے کے بعد نہ صرف ان کا خاندان بلکہ پورا علاقہ خوراک سے محروم ہو گیا۔ ان کا بچہ ہر وقت روتا رہتا تھا۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ بھوک کا شکار ہے اور شدید غذائی قلت میں مبتلا ہو چکا ہے۔ انہیں خوف تھا کہ کہیں بچہ انتقال نہ کر جائے۔ یہ ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ صورتحال تھی۔

بھوک، بیماری، نقل مکانی

ایل نینو کے اثرات صرف خوراک کی کمی تک محدود نہیں رہتے۔ سیلاب پینے کے پانی کو آلودہ کر دیتا ہے جس سے ہیضہ اور پانی سے پھیلنے والی دیگر بیماریوں کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ کھڑا پانی مچھروں کی افزائش کا سبب بنتا ہے جس سے ملیریا کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔

بہت سے لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات ہمیشہ کے لیے بے گھر ہو جاتے ہیں۔

صومالیہ میں نو بچوں کی ماں عائشہ محمد کو 2023 کے سیلاب نے گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا۔ وہ کہتی ہیں کہ سیلاب کے بعد زندگی انتہائی مشکل ہو گئی۔ ان کے بچے بیمار پڑ گئے، مگر نہ تو وہ دوائیں خریدنے کی سکت رکھتی تھیں اور نہ ہی انہیں کسی مناسب طبی مرکز تک رسائی حاصل تھی۔

ایک ہاتھ میں ایک اسمارٹ فون ہے جس میں 'EWAA Early Warning and Anticipatory Action' موبائل ایپلیکیشن لوگو دکھایا گیا ہے، جس میں United Nations کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کا لوگو اسکرین کے نیچے دکھائی دے رہا ہے۔
UN News/Daniel Dickinson مڈغاسکر کا ایک کسان موسمی شدت کے بارے پیشگی اطلاع دینے والی ایپ سے مدد لے رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے اقدامات

اس تمام صورتحال میں ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ ایل نینو کی پیش گوئی کئی ماہ پہلے کی جا سکتی ہے جس سے امدادی اداروں کو بروقت تیاری کا موقع مل جاتا ہے، اور وہ اسی موقع سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

  • 2023 سے 2025 کے درمیان پیشگی امدادی اقدامات کے تحت آفات آنے سے پہلے ہی افریقہ کے جنوبی ممالک میں 30 لاکھ سے زیادہ جبکہ مشرقی افریقہ میں 55 لاکھ افراد تک مالی امداد اور دیگر سہولیات پہنچائی گئیں۔
  • مڈغاسکر میں جن خاندانوں کو خشک سالی سے پہلے نقد امداد اور خشک موسم برداشت کرنے والے بیج فراہم کیے گئے ان کی غذائی صورتحال ایسے خاندانوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر رہی جنہیں یہ سہولت نہ مل سکی۔
  • زیمبیا میں حکومت اور بین الاقوامی شراکت دار موسم کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنا رہے ہیں تاکہ خطرات کی بروقت نشاندہی ہو سکے۔
  • عالمی ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او) اور عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے مشترکہ طور پر 22 ممالک میں 88 لاکھ افراد تک امداد پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مدد میں نقد رقوم، سیلاب اور خشک سالی سے محفوظ زرعی معاونت، اور مویشیوں کو تحفظ دینے کے اقدامات شامل ہیں۔