انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوگنڈا: شہری آزادیوں پر قدغن اور اداروں میں فوج کے بڑھتے کردار پر تشویش

کمپالا، یوگنڈا کی ایک پرہجوم گلی، جس میں گلی کے دکاندار، ٹریفک اور عمارتیں ہیں۔
IMF/Esther Ruth Mbabazi یوگنڈا کے دارالحکومت کمپالا کا ایک منظر۔

یوگنڈا: شہری آزادیوں پر قدغن اور اداروں میں فوج کے بڑھتے کردار پر تشویش

انسانی حقوق

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے یوگنڈا میں اختلاف رائے کو دبانے، قانون کی حکمرانی کمزور ہونے، اداروں میں فوج کے بڑھتے کردار اور محدود ہوتی شہری آزادیوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عوامل ملک میں خوف کی فضا کو جنم دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ حکام اختلاف رائے پر مبنی ہر آواز کو نشانہ بنا رہے ہیں اور بنیادی آزادیوں پر پابندیوں کو سخت کیا جا رہا ہے۔ ان حالات میں تنقیدی آوازیں خاموش ہوتی جا رہی ہیں۔

Tweet URL

ہائی کمشنر کے دفتر (او ایچ سی ایچ آر) کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق، رواں سال 15 جنوری کو ہونے والے عام انتخابات کے بعد حکومت کے مخالف سمجھے جانے والے افراد کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

انتخابات کے بعد حزب اختلاف کے کم از کم 50 رہنما اور کارکن، انسانی حقوق کے پانچ محافظ اور پانچ صحافیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی۔ ان میں جبری گمشدگی، تشدد، ناروا سلوک اور ایسے قوانین کے تحت گرفتاری یا حراست شامل ہے جو بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار سے مطابقت نہیں رکھتے۔

سول سوسائٹی پر دباؤ

دفتر کے مطابق، جنوری 2026 سے اب تک سول سوسائٹی کی 10 نمایاں تنظیموں کی سرگرمیاں معطل کی جا چکی ہیں جبکہ دیگر کو سخت نگرانی اور بعض مواقع پر ہراسانی کا سامنا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق، ایسے معاملات میں فوج کا کردار بڑھ رہا ہے جو عموماً شہری اداروں کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔ اس دوران بعض ذرائع ابلاغ کو بھی عارضی طور پر اپنی سرگرمیاں بند کرنا پڑیں۔

مئی 2026 میں نافذ کیے گئے 'تحفظ خودمختاری قانون' کے تحت سول سوسائٹی کی تنظیموں کے لیے بین الاقوامی مالی معاونت حاصل کرنے اور غیر ملکی اداروں کے ساتھ روابط رکھنے پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اس قانون کی خلاف ورزی پر 10 سال تک قید سمیت سخت سزائیں دی جا سکیں گی۔

وولکر ترک کا کہنا ہے کہ، ان اقدامات کے نتیجے میں ایسا ماحول پیدا ہو رہا ہے جہاں لوگ خوف کے باعث خود ہی اظہار رائے سے گریز کر رہے ہیں جس سے عوامی مباحثہ محدود ہو رہا ہے اور معاشرے میں تقسیم مزید گہری ہوتی جا رہی ہے۔

قانون کی عملداری

ہائی کمشنر نے یوگنڈا کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون، افریقی چارٹر اور یوگنڈا کے آئین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے تاکہ ایسا ماحول قائم رہے جہاں سول سوسائٹی آزادانہ طور پر کام کر سکے، ہر شخص بلا خوف اپنی رائے کا اظہار کر سکے اور عوامی معاملات میں موثر انداز میں حصہ لے سکے۔

انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اختیارات کی آئینی تقسیم اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے اور شہری اداروں میں فوجی مداخلت سے گریز کیا جائے۔

وولکر ترک نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ یوگنڈا اپنے قدرتی وسائل سے پیدا ہونے والے معاشی مواقع سے بہتر انداز میں فائدہ اٹھائے اور بین الاقوامی مالی تعاون سے بنیادی مسائل کے حل کی جانب پیش رفت کرے تاکہ ایسی معیشت تشکیل دی جا سکے جو انسانی حقوق کے اصولوں پر قائم ہو اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اقوام متحدہ کا دفتر یوگنڈا میں انسانی حقوق کے احترام کے فروغ اور تحفظ کے لیے حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔