انسانی کہانیاں عالمی تناظر

فیس بک پر ملازمت کے جھانسے میں آنے والی کو ٹیکسی ڈرائیور نے بچا لیا

لمبے سیاہ بالوں والی ایک عورت بالکونی میں کھڑی ہے، سمندر اور آسمان کو دیکھ رہی ہے۔
© IOM صوفیہ کو ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کے حکام تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔

فیس بک پر ملازمت کے جھانسے میں آنے والی کو ٹیکسی ڈرائیور نے بچا لیا

از کینڈی سیرنٹ (آئی او ایم)
مہاجرین اور پناہ گزین

وینزویلا کی 27 سالہ صوفیہ* اپنے کمسن بیٹے کی تنہا پرورش کر رہی تھیں مگر ان کے لیے مواقع تیزی سے محدود ہوتے جا رہے تھے۔ برسوں تک انہوں نے گھر گھر جا کر جسمانی صفائی کی مصنوعات فروخت کیں، لیکن معاشی بحران کے باعث گاہک کم ہوتے گئے اور ان کی آمدنی بھی ختم ہونے لگی۔

قرض بڑھنے لگا تو انہوں نے نئے روزگار کی تلاش شروع کی۔ اسی دوران انہیں فیس بک مارکیٹ پلیس پر ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو میں ملازمت کا ایک اشتہار نظر آیا جس میں سفر کے تمام اخراجات اور پہنچتے ہی کام ملنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔

واٹس ایپ پر خود کو ویلنٹینا کے نام سے متعارف کرانے والی ایک خاتون نے ان سے رابطہ کیا۔ فون پر گفتگو نے اس پیشکش کو مزید قابل اعتماد بنا دیا اور صوفیہ کو یقین ہو گیا کہ انہیں ملازمت ملنے والی ہے۔

اغوا اور استحصال

صوفیہ اس بات سے بے خبر تھیں کہ وہ انسانی سمگلروں کے جھانسے میں آ چکی ہیں۔ ٹرینیڈاڈ پہنچنے کے بعد جلد ہی انہیں اندازہ ہو گیا کہ ان سے کیے گئے تمام وعدے جھوٹے تھے اور انہیں جنسی استحصال کے لیے انسانی سمگلنگ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

وہ کئی ہفتوں تک اپنے اغوا کاروں کے قبضے میں رہیں۔ انہیں دھمکایا جاتا رہا اور یہاں تک مجبور کیا گیا کہ وہ وینزویلا کی دیگر خواتین کو بھی جھوٹے وعدوں کے ذریعے پھنسائیں، مگر انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتی تھیں کہ کوئی اور بھی اسی اذیت سے گزرے۔

غروب آفتاب کے وقت پورٹ آف اسپین، ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کا فضائی منظر، پس منظر میں شہر کی اسکائی لائن، ساحلی پانی اور پہاڑوں کے ساتھ۔
© Unsplash/Renaldo Matamoro ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کا دارالحکومت پورٹ آف سپین۔

غیر معمولی موقع

صوفیہ اس دور کو یاد نہیں کرنا چاہتیں، لیکن ایک دن نے ان کی زندگی بدل دی۔

اس روز انہیں کچرا پھینکنے کے لیے باہر بھیجا گیا۔ انہوں نے ضروری سامان سمیٹا، موقع دیکھ کر وہاں سے نکلیں اور ایک ٹیکسی میں بیٹھ گئیں۔

ٹیکسی میں موجود ایک ڈومینیکن خاتون نے محسوس کر لیا کہ وہ سخت پریشان ہیں۔ صوفیہ نے انہیں اپنی پوری کہانی سنائی تو اس خاتون نے قریبی پولیس سٹیشن جانے اور واقعے کی اطلاع دینے کا مشورہ دیا جس سے صوفیہ نے اتفاق کیا۔

پولیس سٹیشن پہنچنے کے بعد انہیں پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ وہ محفوظ ہیں اور انسانی سمگلروں کے چنگل سے نکل آئی ہیں۔

نئی زندگی کا سفر

صوفیہ کے فرار کے بعد ملکی حکام اور عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے ان کی مدد کی۔

ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو کے محکمہ انسداد انسانی سمگلنگ نے انہیں طبی معائنے، صحت کی سہولتیں اور نفسیاتی معاونت فراہم کی جبکہ 'آئی او ایم' نے ہنگامی خوراک، محفوظ رہائش، ذہنی صحت کی خدمات اور پیشہ وارانہ تربیت کے ذریعے انہیں دوبارہ معمول کی زندگی کی طرف لوٹنے میں مدد دی۔

اسی شراکت داری کے تحت انسانی سمگلنگ سے نمٹنے والے اہلکاروں کی تربیت اور عوامی آگاہی کی مہمات بھی چلائی جا رہی ہیں تاکہ لوگ ان خطرات کو بروقت پہچان سکیں جنہیں صوفیہ نظر انداز کر بیٹھی تھیں۔

عورت کے ہاتھ ایک میز پر سفید کپ اور طشتری پکڑے ہوئے ہیں۔
© IOM انسانی سمگلر صوفیہ جیسے متاثرین کو نوکری کا جھانسہ دے کر پھنساتے ہیں۔

مستقبل کی امید

صوفیہ نے اپنے خاندان کو بھی حقیقت سے آگاہ کر دیا۔ ان کا سات سالہ بیٹا آج بھی ان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ وہ اپنی تعلیم دوبارہ شروع کرنا، یونیورسٹی جانا اور اپنے بیٹے کے لیے محفوظ مستقبل بنانے کی خواہاں ہیں۔

وہ چاہتی ہیں کہ ان کی کہانی دوسروں کے لیے تنبیہ بنے۔ ان کا کہنا ہے کہ آن لائن نظر آنے والا ہر موقع حقیقی نہیں ہوتا، اس لیے بیرون ملک جانے سے پہلے ہر پیشکش کی اچھی طرح تصدیق کرنی چاہیے۔

وہ بتاتی ہیں کہ مشکل ترین حالات میں بھی انہوں نے امید کا دامن نہیں چھوڑا۔ ان کے نزدیک خود پر یقین ہی انسان کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا ہے اور سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے ہمت نہیں ہاری بلکہ انسانی سمگلروں کے چنگل سے نکل کر اپنی زندگی دوبارہ اپنے ہاتھ میں لے لی۔

٭ شناخت خفیہ رکھنے کے لیے نام تبدیل کیا گیا ہے۔