انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بنگلہ دیش: روہنگیا پناہ گزینوں کی بے وطنی سے نمٹنا مشترکہ ذمہ داری

پھنسے ہوئے روہنگیا کشتی کے لوگ مئی 2015 کو انڈمان سمندر میں بہتی ہوئی ایک لاوارث اسمگلروں کی کشتی کے عرشے پر بیٹھے ہیں۔
UNHCR/Christophe Archambault گزشتہ سال 6,500 سے زیادہ روہنگیا پناہ گزینوں نے خطرناک سمندری راستوں پر سفر کیا جن میں تقریباً 900 افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔

بنگلہ دیش: روہنگیا پناہ گزینوں کی بے وطنی سے نمٹنا مشترکہ ذمہ داری

انسانی حقوق

انسانی حقوق پر  اقوام متحدہ کے ماہرین نے بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کے لیے جاری امدادی سرگرمیوں کو فوری مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس بحران سے نمٹنا عالمی برادری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ روہنگیا پناہ گزینوں کی بے وطنی اور طویل عرصہ سے جاری مہاجرت نے انہیں انسانی سمگلنگ کے سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے جس کے متاثرین کو نہایت تباہ کن نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔

Tweet URL

روہنگیا افراد میانمار میں مظالم سے بچنے اور بہتر زندگی کی تلاش میں خطرناک سمندری سفر اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، خدشہ ہے کہ جون کے اواخر میں ملکی ریاست راخائن سے روانہ ہونے والی روہنگیا پناہ گزینوں کی دو کشتیاں حالیہ دنوں میانمار کے ساحل کے قریب سمندر میں ڈوب گئی ہیں جن پر تقریباً 500 مسافر سوار تھے۔

 انسانی سمگلنگ کا خطرہ

بنگلہ دیش میانمار سے آنے والے تقریباً 12 لاکھ روہنگیا پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ محفوظ اور قانونی نقل مکانی کے محدود مواقع، تعلیم تک ناکافی رسائی اور حصول معاش پر پابندیاں ان لوگوں کے لیے انسانی سمگلنگ کے خطرات میں اضافہ کر رہی ہیں۔ پناہ گزین کیمپوں میں رہنے والی خواتین اور لڑکیوں کے لیے انسانی سمگلنگ اور صنفی بنیاد پر تشدد کے خطرات کہیں زیادہ ہیں۔ اندازاً ہر چار میں سے ایک خاتون یا لڑکی اس طرح کے تشدد کا شکار ہو چکی ہے۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تعلیم، روزگار اور بہتر مستقبل کے مواقع کی کمی سے انسانی سمگلروں، مسلح گروہوں اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ یہ عناصر روہنگیا بچوں اور نوجوانوں کو ملازمت، تعلیم یا شادی کے جھوٹے وعدوں کے ذریعے اپنے جال میں پھنساتے ہیں اور بعض اوقات انہیں اپنی صفوں میں شامل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

سمندر میں 900 ہلاکتیں

گزشتہ سال 6,500 سے زیادہ روہنگیا پناہ گزینوں نے خطرناک سمندری راستوں پر سفر کیا جن میں تقریباً 900 افراد ڈوب کر ہلاک ہو گئے۔ ان میں تقریباً 66 فیصد تعداد خواتین اور بچوں کی تھی۔ ایسا سفر اختیار کرنے والے ہر سات میں سے ایک شخص بحیرہ انڈیمان یا خلیج بنگال میں ہلاک یا لاپتہ ہوا جو مہاجرت کے کسی راستے پر انسانی نقصان کی سب سے بلند شرح ہے۔

بحیرہ انڈیمان اور خلیج بنگال سے بچائے جانے والے روہنگیا پناہ گزینوں کو کئی روز تک پولیس تھانوں میں حراست میں رکھا جاتا ہے جہاں انہیں قانونی معاونت، نفسیاتی و سماجی مدد اور مناسب طبی سہولیات میسر نہیں ہوتیں۔

ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ انسانی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور اس دوران متاثرہ افراد کے حقوق، صنفی حساسیت اور ان کی بحالی کو مدنظر رکھا جائے۔ روہنگیا پناہ گزینوں کی بے وطنی کے مسئلے کا خاتمہ کرنا ضروری ہے اور ان کی روزگار، تعلیم، صحت کی سہولیات، نقل و حرکت کی آزادی اور جامع تحفظ کی خدمات تک رسائی یقینی بنائی جانا چاہیے۔

ماہرین اس مسئلے پر بنگلہ دیش کی حکومت سے رابطے میں ہیں۔

غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار

غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔