انسانی کہانیاں عالمی تناظر

امدادی کٹوتیوں اور مہنگی ادویات سے ایڈز کے دوبارہ پھیلاؤ کا خدشہ

ایک آدمی کے ہاتھ میں دو گلابی اور سفید گولیاں اور دوسرے ہاتھ میں پانی کا سفید کپ۔
© UNAIDS دوا ہی ایڈز کے خلاف سب سے بڑا تحفظ ہے۔

امدادی کٹوتیوں اور مہنگی ادویات سے ایڈز کے دوبارہ پھیلاؤ کا خدشہ

صحت

اقوام متحدہ کی ایک نئی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایچ آئی وی سے بچاؤ کی نئی اور موثر ادویات تک مساوی رسائی یقینی نہ بنائی گئی اور اس مرض کے خلاف عالمی مالی معاونت میں کمی جاری رہی تو ایڈز کی وبا دوبارہ خطرناک صورت اختیار کر سکتی ہے۔

27 تا 31 جولائی برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں جاری 26ویں بین الاقوامی ایڈز کانفرنس کے آغاز سے قبل جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ:

  • 2025 میں 12 لاکھ افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہوئے۔
  • پانچ  لاکھ 70 ہزار افراد ایڈز سے متعلق بیماریوں کے باعث موت کے منہ میں چلے گئے۔
  • ایچ آئی وی میں مبتلا 22 فیصد افراد اب بھی علاج سے محروم ہیں۔
  • عالمی سطح پر ایچ آئی وی پروگراموں کے لیے دیے جانے والے مالی وسائل میں 18 فیصد کٹوتی ہوئی ہے جو 20 سال میں ہونے والی سب سے بڑی کمی ہے۔ 
  • لیناکاپاویر جیسی نئی دوا ایچ آئی وی سے بچاؤ میں تقریباً 100 فیصد موثر ثابت ہوئی ہے۔ 
  • وبا پر موثر قابو پانے کے لیے دو کروڑ افراد کو اینٹی ریٹرو وائرل ادویات پر مبنی حفاظتی علاج درکار ہے۔

ایڈز کے پھیلاؤ کا خطرہ

ایک جانب سائنس نے ایچ آئی وی سے بچاؤ کے ایسے علاج متعارف کرا دیے ہیں جو اپنی تاثیر کے اعتبار سے کسی ویکسین سے کم نہیں، تاہم دنیا بھر میں ان سہولیات کی فراہمی کے لیے درکار مالی وسائل تیزی سے کم ہوتے جا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو موجودہ پیش رفت ضائع ہو سکتی ہے اور ایڈز کی وبا دوبارہ سر اٹھا سکتی ہے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایڈزکا کہنا ہے کہ مالی وسائل کی بڑھتی ہوئی کمی کے باعث کئی ممالک بنیادی طبی خدمات محدود کرنے پر مجبور ہیں اور مقامی سطح پر اس بیماری کے خلاف کام کرنے والی تنظیمیں بند ہو رہی ہیں جبکہ انہوں نے ایچ آئی وی کے خلاف جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

دوا پر اجارہ داری

کانفرنس کا میزبان ملک برازیل اس تضاد کی نمایاں مثال ہے۔ اگرچہ اس نے لیناکاپاویر کی آزمائش اور تیاری میں اہم کردار ادا کیا لیکن اسے ان ممالک کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا جنہیں اس دوا کے کم قیمت جنیرک ورژن تیار کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔  لیناکاپاویر طویل اثر رکھنے والی دوا ہے جس کے لیے سال میں صرف دو انجیکشن درکار ہوتے ہیں۔ 

برازیلین انٹرڈسپلنری ایڈز ایسوسی ایشنکے نائب صدر ویریانو ٹیرٹو جونیئر نے کہا ہے کہ ادویات کی بلند قیمتوں اور کئی ممالک کو رضاکارانہ لائسنسنگ معاہدوں سے خارج کیے جانے کے باعث لاکھوں افراد کے لیے ان ادویات تک مساوی اور عالمگیر رسائی اب بھی ایک دور کا خواب ہے۔ ضروری ادویات سے متعلق ملکیتی حقوق نے اجارہ داری کو مضبوط کیا ہے اور عوامی علم کو نجی مفاد کے تابع بنا دیا ہے۔

برازیل سالانہ تقریباً 75 ڈالر فی مریض کی لاگت سے لیناکاپاویر تیار کر سکتا ہے جبکہ ملکیتی حقوق والی اس دوا کی قیمت 20 ہزار ڈالر سے زیادہ ہے جو برازیل کے سرکاری نظام صحت کے لیے ناقابل برداشت ہے۔

یو این ایڈز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ونی بیانیما نے کہا ہے کہ کسی دوا کی کامیابی کا اصل معیار اس کی ایجاد نہیں بلکہ سستی اور ہر ایک کے لیے قابل رسائی ہونا ہے۔ رسائی کے بغیر جدت محض ناانصافی کہلائے گی۔ اگر دنیا نئی ایچ آئی وی کے پھیلاؤ میں نمایاں کمی چاہتی ہے تو دو کروڑ افراد کو اینٹی ریٹرو وائرل ادویات پر مبنی حفاظتی علاج فراہم کرنا ضروری ہے۔

نئے مالیاتی نظام کی ضرورت

اگرچہ ایچ آئی وی کے نئے مریضوں کی تعداد اور ایڈز سے ہونے والی اموات گزشتہ تین دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں لیکن اس بیماری کے خلاف عالمی کوششیں اب بھی انتہائی نازک مرحلے میں ہیں۔ 2024 سے 2025 کے درمیان ایچ آئی وی پروگراموں کے لیے بین الاقوامی سطح پر مہیا کیے گئے مالی وسائل میں 1.5 ارب ڈالر سے زیادہ کمی آئی۔

اسی دوران عالمی ترقیاتی امداد میں 23 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جو تاریخ کی سب سے بڑی سالانہ کمی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ منفی اثر صحت کے شعبے خصوصاً ایچ آئی وی پروگراموں پر پڑا۔ دوسری جانب، 2025 کے دوران دنیا کے تین خطوں اور 21 ممالک میں ایچ آئی وی کے نئے مریضوں میں اضافہ دیکھا گیا۔

ونی بیانیما نے کہا ہے کہ اب دنیا کو بین الاقوامی امداد پر انحصار کے دور سے آگے بڑھنا اور ایسا نیا مالیاتی نظام اختیار کرنا ہو گا جس میں قرضوں کی تنظیم نو جیسے اقدامات شامل ہوں تاکہ حکومتیں اپنے لوگوں کے مستقبل اور صحت پر زیادہ سے زیادہ وسائل خرچ کر سکیں۔