انسانی کہانیاں عالمی تناظر

موسمیاتی خطرے کی گھنٹی ہر سمت سے بج رہی ہے: سائمن سٹیئل

بیلاروس میں جنگل کی آگ کا ایک ڈرامائی رات کا منظر، جس میں روشن اورنج شعلوں کے ساتھ ایک تاریک آسمان کے خلاف اونچے پنوں کے درختوں کے خاکوں کو روشن کیا جاتا ہے۔
© UNDP in Belarus ریکارڈ توڑ جنگلاتی آگ نے لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے۔

موسمیاتی خطرے کی گھنٹی ہر سمت سے بج رہی ہے: سائمن سٹیئل

موسم اور ماحول

دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی سے جنم لینے والی آفات خوفناک حدود پار کر رہی ہیں جبکہ کوئلہ، تیل اور گیس جلانے سے ہونے والا نقصان روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی خطرے کا الارم ہر سمت سے بج رہا ہے اور اس پر توجہ دیتے ہوئے بہتری کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن سٹیئل نے کہا ہے کہ فرانس، سپین اور یورپ کے دیگر علاقوں میں بھڑکنے والی ریکارڈ توڑ جنگلاتی آگ نے لاکھوں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کر دیا ہے اور علاقائی و قومی معیشتوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ 

یہ آگ گرمی کی ہولناک لہروں کے بعد آئی ہے جنہوں نے زمین کو خشک بنا دیا۔ اس ہفتے درجہ حرارت میں مزید اضافے کی پیش گوئی کے ساتھ موسمیاتی بحران کی انسانی اور معاشی قیمت اب ملکی سطح کی ہنگامی صورت حال کے برابر ہو چکی ہے۔

شمالی افریقہ میں درجہ حرارت 49 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب پہنچ رہا ہے جس سے زندگیاں اور روزگار شدید خطرے میں ہیں جبکہ ہسپتالوں اور بجلی کے نظام پر بھی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ چلی میں مہلک طوفانوں نے گھروں اور زندگیوں کو تباہ کر دیا ہے۔ جاپان میں بھی حدت کے نئے ریکارڈ قائم ہو رہے ہیں جہاں 40 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ درجہ حرارت کا طویل ترین سلسلہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

UNFCCC کے ایگزیکٹو سکریٹری سائمن اسٹیل چھوٹے جزیرے کی ترقی پذیر ریاستوں کے لیے موسمیاتی مالیات پر ایک کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں۔
UN Photo/Eskinder Debebe موسمیاتی تبدیلی پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن کے ایگزیکٹو سیکرٹری سائمن سٹیئل۔

موسمیاتی تباہی کے سائنسی شواہد

سائمن سٹیئل کا کہنا ہے کہ یہ بڑھتی ہوئی آفات اب زمین پر اربوں انسانوں کے لیے روزمرہ حقیقت بن چکی ہیں جو تیزی سے مزید گرم ہوتی جا رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسانیت اب بھی حیاتیاتی ایندھن سے ماحول دوست اور قابل تجدید توانائی کی طرف منتقلی اور جنگلات کے تحفظ کے لیے پیش رفت کی مطلوبہ رفتار سے بہت پیچھے ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ سائنسی شواہد بالکل واضح اور غیر مبہم ہیں۔ کوئلہ، تیل اور گیس کی بے تحاشا کھپت سے پیدا ہونے والی عالمی حدت گرمی کی طویل لہروں، شدید سیلاب اور تباہ کن طوفانوں کو پہلے سے کہیں زیادہ متواتر، شدید اور نقصان دہ بنا رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کا حل بھی اتنا ہی واضح ہے: کوئلے، تیل اور گیس پر انحصار کو تیزی سے ختم کیا جانا چاہیے، قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو بڑے پیمانے پر فروغ دیا جائے اور ان لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جائے جو اس بحران کے بدترین اثرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان میں کمزور اور ترقی پذیر ممالک کہیں زیادہ نقصان اٹھا رہے ہیں جنہیں اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے مطلوبہ رفتار اور پیمانے پر مالی، تکنیکی اور عملی تعاون فراہم کرنا ضروری ہے۔