انسانی کہانیاں عالمی تناظر

طالبان دور: لباس اور حجاب پر بازپرس روزمرہ زندگی کی تلخ حقیقت، رپورٹ

ہمت آباد، فراہ، افغانستان میں خشک سالی اور غذائی عدم تحفظ سے متاثرہ ایک خاندان کے چار بچے، اپنے ایک کمرے کے گھر میں سرخ قالین پر بیٹھے، WFP کھانے کے راشن کا انتظار کر رہے ہیں۔ بائیں سے دائیں: کھر بی بی، رضیہ، زکیرہ، اور نسیم۔ وہ خشک سالی کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور خاندان کا حصہ ہیں۔
© WFP/Mohammad Hasib Hazinyar افغانستان میں خواتین، مذہبی و نسلی اقلیتوں اور اختلاف رائے رکھنے والوں کے لیے زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے۔

طالبان دور: لباس اور حجاب پر بازپرس روزمرہ زندگی کی تلخ حقیقت، رپورٹ

انسانی حقوق

افغانستان میں ایک خاتون کو صرف اس لیے تادیب کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ اکیلے گھر کا سودا سلف خریدنے آئی تھی جبکہ حکام اسے سامان بیچنے والے دکاندار کو گرفتار کر لیتے ہیں۔ ایک خاتون استاد کو صرف اس لیے کمرہ جماعت میں داخل ہونے سے روک دیا جاتا ہے کہ اس نے ویسی چادر نہیں اوڑھی تھی جس کا حکم دیا گیا ہے۔

یہ واقعات کوئی انفرادی یا غیر معمولی مثالیں نہیں بلکہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن (یوناما) کی نئی رپورٹ کے مطابق، طالبان کے زیراقتدار ملک میں روزمرہ زندگی کی تلخ حقیقت بن چکے ہیں۔ رپورٹ میں نہایت تفصیلاً اور تشویشناک انداز میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں خواتین، مذہبی و نسلی اقلیتوں اور اختلاف رائے رکھنے والوں کے لیے زمین تنگ ہوتی جا رہی ہے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے ماہرین برائے انسانی حقوق نے رواں سال اپریل سے جون تک ایسے متعدد واقعات ریکارڈ کیے جن میں لوگوں کو ان بالوں کے انداز پر گرفتار کیا گیا، رمضان کا روزہ توڑنے پر سرعام کوڑے مارے گئے اور 30 جون تک مسلسل 296ویں روز افغان خواتین کو اقوام متحدہ کے دفاتر میں داخلے سے محروم رکھا گیا۔

6 سے 8 جون کے درمیان صوبہ ہرات میں کم از کم 30 خواتین کو 'غیر مناسب حجاب' پہننے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اسی عرصہ میں دکانوں اور طبی مراکز کو ہدایت کی گئی کہ وہ کسی خاتون کو اس وقت تک اندر داخل نہ ہونے دیں جب تک اس کے ساتھ کوئی محرم مرد موجود نہ ہو۔ 

صوبہ لوگر میں ایک خاتون کو محرم (قریبی رشتہ دار) کے بغیر خریداری کرنے پر زبانی تنبیہ کی گئی، جبکہ جس دکاندار نے انہیں سامان فروخت کیا تھا، اسے تشدد کے بعد محکمہ 'امر بالمعروف و نہی عن المنکر' کے دفتر لے جایا گیا۔ مقامی عمائدین کی مداخلت پر اسے چند گھنٹوں بعد رہا کر دیا گیا لیکن اس سے تحریری ضمانت لی گئی کہ وہ آئندہ کسی غیر محرم خاتون کو سامان فروخت نہیں کرے گا۔

نوعمری کی شادی

اپریل میں طالبان حکام نے میاں بیوی کی علیحدگی سے متعلق ایک نیا ضابطہ جاری کیا جس کے مطابق عورت کی شادی اس کے ولی (سرپرست) کی اجازت سے مشروط قرار دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، یہ ضابطہ بالواسطہ طور پر کم عمری کی شادی کو جائز قرار دیتا ہے اور خواتین کے لیے طلاق یا علیحدگی کا حصول انتہائی مشکل بنا دیتا ہے۔

رپورٹ میں یاد دلایا گیا کہ 7 ستمبر 2025 سے افغان خواتین کو ملک بھر میں اقوام متحدہ کے دفاتر میں داخل ہونے کی اجازت نہیں خواہ وہ ملازم ہوں، ٹھیکیدار ہوں یا مہمان۔ اسی طرح دسمبر 2022 کے بعد خواتین اور طالبات پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے بھی بند ہیں۔

اعلیٰ تعلیم پر پابندی

اگرچہ مئی اور جون میں سرکاری یونیورسٹیوں کے داخلہ امتحانات پورے ملک میں منعقد ہوئے مگر ان میں صرف ایک لاکھ 20 ہزار مرد امیدوار ہی شریک ہوئے جبکہ کسی بھی خاتون کو امتحان میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔

محکمہ 'امر بالمعروف و نہی عن المنکر' کے اہلکاروں نے سکولوں کے معائنے کیے۔ ہرات میں ان خواتین اساتذہ کو لڑکیوں کے سکول میں داخل ہونے سے روک دیا گیا جنہوں نے حکام کی ہدایت کے مطابق مخصوص انداز میں چادر نہیں اوڑھی تھی اور انہیں خبردار کیا گیا کہ انہیں ملازمت سے برخاست کیا جا سکتا ہے۔

ناجائز گرفتاریاں اور جسمانی سزائیں

اقوام متحدہ نے کم از کم 389 افراد کو ناجائز طور پر گرفتار اور نظر بند کرنے اور 65 واقعات میں محکمہ امر بالمعروف کے اہلکاروں کی جانب سے لوگوں سے بدسلوکی کے واقعات بھی ریکارڈ کیے۔ ایسی بیشتر کارروائیاں خواتین کے حجاب، مردوں کی ترشی ہوئی داڑھی، مغربی طرز کے بالوں یا موسیقی سننے اور بجانے جیسے معاملات پر کی گئیں۔

اس عرصہ میں کم از کم 137 افراد (112 مرد اور 25 خواتین) کو عدالتی فیصلوں کے تحت جسمانی سزائیں دی گئیں جن میں رمضان کا روزہ توڑنے یا ناجائز تعلقات جیسے الزامات پر سرعام کوڑے مارنا بھی شامل تھا۔

سابق سرکاری اہلکاروں کو خطرہ

ملک میں سابق سرکاری عہدیدار اور افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سکیورٹی فورسز کے سابق اہلکار بھی مسلسل خطرات سے دوچار رہے۔

رپورٹ کے مطابق یکم اپریل سے 30 جون کے درمیان ایسے 29 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان سے بدسلوکی کے پانچ واقعات پیش آئے جبکہ آٹھ ہلاکتیں ریکارڈ کی گئیں۔ بیرون ملک سے زبردستی افغانستان واپس بھیجے جانے والے سابق سرکاری اہلکار اور فوجی بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خطرے سے دوچار ہیں۔ ہرات میں ایک سابق افغان فوجی افسر ایران سے جبراً وطن واپس بھیجے جانے کے بعد لاپتا ہو گیا۔

مذہبی آزادی پر رکاوٹیں

رپورٹ کے مطابق، 10 اپریل کو ہرات میں ایک شیعہ مزار کے سامنے پکنک منانے والے شہریوں پر حملے میں 12 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے۔ اس حملے کی ذمہ داری کسی گروہ نے قبول نہیں کی۔ جنوری سے اب تک بدخشاں میں اسماعیلی برادری کے متعدد جماعت خانوں کو بند کر دیا گیا اور عبادت گزاروں کو وہاں جانے سے روک دیا گیا۔

اسی طرح، شیعہ مسلمانوں کے اہم مذہبی تہوار عاشورہ کی تقریبات پر بھی مختلف پابندیاں عائد کی گئیں جن میں مذہبی پرچم لہرانے یا مذہبی اظہار کے باعث گرفتاریاں بھی شامل تھیں۔

ذرائع ابلاغ کے لیے مشکل حالات

رپورٹ میں صحافیوں کی گرفتاریوں، ذرائع ابلاغ کے اداروں کی معطلی اور متعدد ریڈیو سٹیشنوں کو بند کیے جانے کا تذکرہ بھی شامل ہے۔ 

ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان میں صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے اداروں کو انتہائی دشوار حالات کا سامنا ہے جہاں لائسنس کے سخت تقاضے، مالی مشکلات اور حکومتی مداخلتیں ان کے آزادانہ کام کی صلاحیت کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں۔