انسانی کہانیاں عالمی تناظر

پناہ کے متلاشی افراد سے 75 سال پہلے کیے گئے وعدے کا کڑا امتحان

ایک مسکراتی ہوئی جنوبی سوڈانی خاتون اپنی پیٹھ پر ایک بچہ اٹھائے ہوئے، پناہ گزین کیمپ میں UNHCR خیمے کے سامنے کھڑی ہے۔
© UNHCR/Blaise Sanyila دنیا بھر میں چار کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ مہاجرین بے گھر ہیں۔

پناہ کے متلاشی افراد سے 75 سال پہلے کیے گئے وعدے کا کڑا امتحان

مہاجرین اور پناہ گزین

مہاجرین سے متعلق عالمی کنونشن کی 75ویں سالگرہ پر پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ایچ سی آر) نے 'وعدہ' کے عنوان سے عالمی مہم شروع کی ہے جس کا مقصد حکومتوں، اداروں اور دنیا بھر کے لوگوں سے اس عہد کی تجدید کرانا ہے کہ وہ نقل مکانی پر مجبور ہونے والوں کے تحفظ کی ذمہ داری نبھائیں گے۔

یہ مہم ایسے وقت شروع کی گئی ہے جب دنیا بھر میں چار کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ مہاجرین بے گھر ہیں۔ مسلح تنازعات لاکھوں خاندانوں کو نقل مکانی پر مجبور کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں پناہ گزینوں کو تحفظ فراہم کرنے کے نظام اور انہیں پناہ دینے والے ممالک پر دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

Tweet URL

پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برہم صالح کی قیادت میں شروع کی گئی اس مہم کا مقصد 2027 میں ہونے والے عالمی فورم برائے مہاجرین سے قبل ان لوگوں کے تحفظ کے حق میں وسیع تر عالمی اتحاد قائم کرنا ہے۔ اس فورم میں سول سوسائٹی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک ہوں گے تاکہ پناہ حاصل کرنے کے حق اور تنازعات و مظالم کے بعد نئی زندگی کی تعمیر کے عزم کی توثیق کی جائے۔

75 سالہ وعدے کی تجدید

اس مہم کے ابتدائی 75 دستخط کنندگان میں اداکار اور انسان دوست شخصیات انجلینا جولی، کیٹ بلینشٹ، بین سٹیلر اور نوبیل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، مہاجر برادری کے نمائندے، کاروباری شخصیات، مذہبی رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن بھی اس اقدام کا حصہ بن چکے ہیں۔

یہ تمام دستخط کنندگان ایک ایسی دنیا کے قیام کا مطالبہ کر رہے ہیں جہاں جنگ، تشدد یا ظلم کے باعث نقل مکانی پر مجبور افراد کو محفوظ پناہ مل سکے، مہاجرین کو معاشروں میں خوش آمدید کہا جائے اور حکومتیں میزبان ممالک کی بروقت معاونت کرتے ہوئے نقل مکانی کے مسئلے کا پائیدار حل تلاش کریں۔

برہم صالح نے کہا ہے کہ 75 سال قبل دنیا نے وعدہ کیا تھا کہ جب لوگ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوں گے تو ان کا تحفظ کیا جائے گا۔ آج سب کی ذمہ داری ہے کہ آنے والی ہر نسل کے لیے اس وعدے کو زندہ رکھا جائے۔

مہاجرت کے مسائل کا دیرپا حل

1951 میں دوسری عالمی جنگ کے بعد منظور کیے جانے والے مہاجرین سے متعلق کنونشن نے ان کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قانونی بنیاد فراہم کی۔ اسی کنونشن نے یہ بنیادی اصول بھی طے کیا کہ تشدد و مظالم سے بچنے کے لیے فرار ہونے والے افراد کو دوبارہ کسی ایسے مقام پر واپس نہیں بھیجا جائے گا جہاں ان کی جان یا آزادی خطرے میں ہو۔

'یو این ایچ سی آر' کے مطابق، اس کنونشن کے اصول آج بھی اسی قدر اہم ہیں۔ خصوصاً ایسے وقت میں ان کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی ہے جب دنیا بھر میں نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے اور انسانی امداد کے نظام شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

ہائی کمشنر کا کہنا ہے کہ مہاجرین کے میزبان ممالک اور مقامی آبادیوں کی بھرپور مدد کرنا ہو گی۔ مہاجرین کے لیے تعلیم، روزگار اور دیگر مواقع میں اضافہ کرنا چاہیے اور ایسے حالات پیدا کرنے کی ضرورت ہے جن کی بدولت وہ اپنی مرضی سے محفوظ انداز میں وطن واپس جا سکیں یا ان کے لیے دیگر دیرپا حل ممکن ہو سکیں۔

'یو این ایچ سی آر' کو امید ہے کہ یہ مہم ایسے وقت مہاجرین سے متعلق کنونشن کے دیرپا اصولوں کو مزید مضبوط کرے گی جب کروڑوں لوگ بے گھر ہیں اور ان کے لیے امداد کی ضرورت بڑھتی جا رہی ہے۔