تنازعات اور بحرانوں سے آثار قدیمہ اور ہجرتی پرندوں کو خطرہ، یونیسکو
اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی، ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے خبردار کیا ہے جنگوں، بدامنی اور ماحولیاتی دباؤ کے باعث قدیم شہروں، تاریخی قلعوں اور جنگلی حیات کی سب سے بڑی موسمی ہجرت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
اسی تناظر میں ادارے نے چھ مقامات کو خطرے سے دوچار عالمی ثقافتی ورثےکی فہرست میں درج کر لیا ہے۔ یہ اقدام جنوبی کوریا کے شہر بوسان میں ہونے والے ادارے کے اجلاس میں اٹھایا گیا۔
یونیسکو کے مطابق، اس اندراج سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دنیا میں مسلح تنازعات، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر بحران ایسے بے مثال ثقافتی اور قدرتی ورثے کے لیے شدید خطرات پیدا کر رہے ہیں جس کا کوئی متبادل موجود نہیں۔
ثقافتی ورثے پر حملے
جنوبی لبنان کے علاقے جبل عمل میں صلیبی، اسلامی اور عثمانی ادوار کے پانچ قلعے بھی ان مقامات میں شامل ہیں۔ انہیں پہلے ہی بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت خصوصی تحفظ حاصل ہے تاہم حالیہ جنگ کے دوران انہیں شدید نقصان پہنچا ہے۔ یونیسکو کے مطابق، لبنان میں حالیہ جنگ اس مقام کے تحفظ کے لیے براہ راست خطرہ ہے اور انہیں بچانے کے لیے فوری اقدامات ناگزیر ہیں۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع سبسطیہ کا علاقہ بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے جہاں دو ہزار سال سے زیادہ پرانی تہذیبوں کے آثار محفوظ ہیں۔
یونیسکو کا کہنا ہے کہ فلسطین میں واقع یہ تاریخی مقام مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی حالات، بے ہنگم ترقیاتی سرگرمیوں اور ایک مجوزہ پارک کے منصوبے کے باعث بڑھتے ہوئے خطرات سے دوچار ہے کیونکہ یہ منصوبہ اس تاریخی مقام کو تقسیم کر سکتا ہے۔
جنگلی حیات کو خطرہ
جنوبی سوڈان کے علاقے بوما بادینگیلو کو بھی خطرے سے دوچار مقامات کی فہرست میں جگہ دی گئی ہے جہاں دنیا میں خشکی پر پائے جانے والے ممالیہ جانوروں کی سب سے بڑی موسمی ہجرت ہوتی ہے۔
یہ علاقہ نہ صرف قدرتی لحاظ سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے بلکہ یہاں آباد مختلف نسلی گروہ ہزاروں برس سے مویشی بانی، کھیتی باڑی اور ماہی گیری کے ذریعے اس خطے کے نگہبان چلے آ رہے ہیں جس سے اس کے ثقافتی اور لسانی تنوع کا اظہار بھی ہوتا ہے۔
یونیسکو کے مطابق، تجارتی بنیادوں پر غیر قانونی شکار، جنگلی حیات کی سمگلنگ، تعمیرات اور مسلسل بدامنی اس نازک ماحولیاتی نظام کو شدید دباؤ میں لے آئے ہیں اور تحفظ کی کوششوں میں بھی رکاوٹ بن رہے ہیں۔
ناقابل تلافی نقصان
ادارے نے ان تین جگہوں کے علاوہ پہلے سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیے گئے مزید تین مقامات کو بھی خطرے سے دوچار مقامات کی فہرست میں شامل کیا ہے۔
یوکرین میں واقع قدیم شہر تاورک کیرسونیز اور اس کا نواحی علاقہ چورا روس کی جانب سے کرائمیا پر عارضی قبضے کے دوران تیزی سے متاثر ہوا ہے۔ یونیسکو اور اقوام متحدہ کے سیٹلائٹ مرکز (یو این اوسیٹ) نے نئی تعمیرات اور وسیع پیمانے پر کھدائیوں کی نشاندہی کی ہے جو اس تاریخی مقام کی اصل شناخت اور تاریخی حیثیت کے لیے خطرہ بن رہی ہیں۔
لبنان کا قدیم شہر صور بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے جہاں حالیہ جنگ میں ہونے والے فضائی حملوں کے باعث آثار قدیمہ کو مسلسل خطرات کا سامنا ہے۔
سرینام کے تاریخی شہر پراماریبو کے قدیم اندرونی حصے کو بھی خطرے سے دوچار مقامات کی فہرست میں جگہ دی گئی ہے جہاں نئی تعمیراتی سرگرمیوں کے باعث اس کا تاریخی منظر نمایاں طور پر تبدیل ہو گیا ہے۔
یونیسکو کی جانب سے خطرے سے دوچار عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست تیار کرنے کا مقصد ایسے مقامات کے تحفظ کے لیے عالمی تعاون، مالی و فنی معاونت اور فوری اقدامات کو فروغ دینا ہے۔