انسانی کہانیاں عالمی تناظر

ایران سے 12 نوجوانوں کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کا مطالبہ

پیش منظر میں کانٹے دار تار کی باڑ اور پس منظر میں دھندلی عمارت
© UNICEF/Josh Estey ایران میں اس سال جنوری کے احتجاجی مظاہروں سے متعلقہ مقدمات میں اب تک کم از کم 24 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔

ایران سے 12 نوجوانوں کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کا مطالبہ

انسانی حقوق

انسانی حقوق پر اقوام متحدہ کے ماہرین نے ایران میں حکومت مخالف احتجاج میں شرکت کرنے والے 12 نوجوانوں کو سزائے موت سنائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی سزاؤں پر عملدرآمد روکا جائے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ بند کمرہ عدالت میں ایک ہی سماعت کے ذریعے اور ہر ملزم کی انفرادی ذمہ داری کو واضح کیے بغیر سزائے موت دینا منصفانہ قانونی کارروائی کے تسلیم شدہ بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

Tweet URL

اطلاعات کے مطابق، ان نوجوانوں کی عمر 18 سے 20 سال کے لگ بھگ ہے جن پر 8 جنوری 2026 کو اصفہان کے شہید علیخانی سکوائر میں ہونے والے مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کے چار اہلکاروں کے قتل، آتشزنی اور توڑ پھوڑ میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے گئے۔ یہ الزامات سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے اعترافی بیانات کی بنیاد پر لگائے گئے۔ سزا سنانے والی انقلابی عدالت کی سماعتیں بند کمرے میں ہو رہی ہیں جن کے فیصلے عوام کے لیے جاری نہیں کیے جاتے۔

19 جولائی 2026 کو ان میں سے دو نوجوانوں کو پھانسی دے دی گئی تھی جس کے بعد باقی 10 افراد کی زندگی کے بارے میں شدید خدشات ہیں۔

قانونی اصولوں کی خلاف ورزی

سزائے موت پانے والوں میں شروین باقریان جبلی بھی شامل ہیں جو گرفتاری سے صرف چند روز قبل ہی 18 برس کی عمر کو پہنچے تھے۔ گرفتاری کے ایک ہفتہ بعد اور مقدمے کی سماعت شروع ہونے سے پہلے ہی، سرکاری ٹیلی ویژن نے ان کی ایک ویڈیو نشر کی جس میں وہ دوران تفتیش سکیورٹی اہلکاروں پر تشدد کا اعتراف کرتے دکھائی دیے۔

ویڈیو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے خلاف عائد کیے گئے سزائے موت کے جرم 'محاربہ' کے مفہوم سے بھی پوری طرح واقف نہیں تھے۔ اس سے یہ خدشہ بھی ابھرتا ہے کہ اعترافی بیان نشر کیے جانے کے وقت انہیں اپنی پسند کے وکیل تک رسائی حاصل نہیں تھی۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ شروین جبلی کا مقدمہ اس تشویش ناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں ایسے عدالتی عمل کے بعد سزائے موت سنائی جا رہی ہے جو بظاہر منصفانہ قانونی کارروائی کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔ جبر کے تحت حاصل کیے گئے اعترافی بیانات کو کبھی بھی بطور ثبوت قبول نہیں کیا جانا چاہیے اور مقدمے سے پہلے انہیں نشر کرنا بے گناہی کے قانونی اصول کی خلاف ورزی ہے۔

تبدیلی کا مطالبہ اور پرامن احتجاج

جنوری کے احتجاجی مظاہروں سے منسلک مقدمات میں اب تک کم از کم 24 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔ ان میں سے بہت سے نوجوان ایسے تھے جو آزادی اظہار، پرامن اجتماع اور عوامی زندگی میں شرکت کے اپنے بنیادی حقوق استعمال کر رہے تھے۔

ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ خطرات کے باوجود ایرانی عوام اب بھی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ قیدی 'منگل کو پھانسی نہیں' نامی مہم اور قزل حصار جیل میں دھرنے اور ہڑتال کے ذریعے پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایرانی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ان مطالبات کو سنجیدگی سے لیں اور سزائے موت کے خاتمے تک تمام پھانسیاں روک دیں۔

اقوام متحدہ کے ماہرین اس معاملے پر ایران کی حکومت سے مسلسل رابطے میں ہیں۔

غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار

غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔