انسانی کہانیاں عالمی تناظر

سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے میتھین کے اخراج کا پتہ لگانا اب ممکن

روس کے شہر نوریلسک میں نیکل فیکٹری "نادزدہ" یا "امید" نیکل، غروب آفتاب کے آسمان کے خلاف دھواں کے بڑے نالے خارج کرتی ہے۔ ریڈ کراس ریڈ ہلال پروگرام کا مقصد شمالی خطے میں تنہائی میں امداد لانا ہے۔
© IFRC/Vladimir Filonov معدنی ایندھن سے چلنے والے کارخانے ماحولیاتی آلودگی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔

سیٹلائٹ ٹیکنالوجی سے میتھین کے اخراج کا پتہ لگانا اب ممکن

موسم اور ماحول

جدید سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے اب خلا سے زمین پر میتھین گیس کے بڑے اخراج کی چند ہی روز میں نشاندہی ممکن ہے، لیکن 13 فیصد حکومتیں یا کاروباری ادارے ہی ان اطلاعات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام(یونیپ) نے اس خلا کو پر کرنے کے لیے گزشتہ ماہ ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا ہے جسے 'بلوم برگ فلانتھروپیز' کی مالی معاونت حاصل ہے۔ اس منصوبے کے تحت 2030 تک سیٹلائٹ سے سامنے آنے والے میتھین کے 80 فیصد بڑے اخراج کی تحقیقات کی جائیں گی اور ان کا سدباب یقینی بنایا جائے گا۔

Tweet URL

ادارے کا کہنا ہے کہ اس وقت دنیا میں صرف 10 ممالک ایسے ہیں جو اس معاملے میں طے شدہ معیار کے مطابق کارروائی کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق، دنیا بھر میں میتھین کا 60 فیصد سے زیادہ اخراج انسانی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے۔ اس میں سب سے بڑا کردار زراعت، تیل و گیس اور کوئلے جیسے معدنی ایندھن اور فضلے کا ہے۔ معدنی ایندھن کا شعبہ ایسا میدان ہے جہاں نسبتاً کم لاگت اور کم وقت میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں موثر کمی لائی جا سکتی ہے۔

عالمی حدت میں میتھین کا کردار

سائنس دانوں کے مطابق، عالمی حدت بڑھنے میں تقریباً ایک تہائی حصہ میتھین گیس کا ہے۔ اگرچہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں میتھین زیادہ عرصہ فضا میں موجود نہیں رہتی، لیکن یہی خصوصیت اسے موسمیاتی تبدیلی کے خلاف فوری اقدامات کے لیے انتہائی اہم بنا دیتی ہے۔ اگر اس کے اخراج میں اب کمی کی جائے تو اس کے مثبت اثرات دہائیوں کے بجائے چند برسوں میں ظاہر ہو سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے کہا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ طویل المدتی عالمی حدت کی بنیادی وجہ ہے لیکن اب میتھین کے اخراج میں کمی کو بھی ترجیح دینا ہو گی۔

انہوں نے کہا ہے کہ میتھین کے اخراج پر قابو پا لیا جائے تو ایک ہی نسل کے دوران عالمی حدت میں واضح کمی لائی جا سکتی ہے۔

سیٹلائٹ سے میتھین کی نشاندہی

یونیپ نے میتھین الرٹ اینڈ رسپانس سسٹم(مارس) قائم کیا ہے جو سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی معلومات کی مدد سے تقریباً حقیقی وقت میں میتھین کے بڑے اخراج کی نشاندہی کر دیتا ہے۔ اس کے بعد متعلقہ حکومتوں اور کمپنیوں کو فوری اطلاع دی جاتی ہے تاکہ وہ موقع پر جا کر مسئلے کی تحقیقات کریں اور اخراج کو روکیں۔

2023 میں اس نظام کے آغاز کے بعد اب تک 33 ممالک میں پانچ ہزار سے زیادہ انتباہ جاری کیے جا چکے ہیں جن کی بدولت 40 سے زیادہ بڑے اخراج روکے گئے۔

الجزائر میں ایسی ہی ایک اطلاع کے نتیجے میں کئی دہائیوں سے جاری میتھین کی لیکیج بند کی گئی جس کے موسمیاتی فوائد کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ہر سال تقریباً پانچ لاکھ گاڑیوں کو سڑکوں سے ہٹانے کے برابر تھا۔

ٹیکنالوجی موجود، اقدامات ناکافی

یونیپ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن نے کہا ہے کہ اب تقریباً حقیقی وقت میں میتھین کی آلودگی کو وقوع پذیر ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔ جب دنیا کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے تو پھر کارروائی نہ کرنا محض غفلت نہیں بلکہ ایک شعوری انتخاب سمجھا جائے گا۔

اقوام متحدہ کے نئے منصوبے کے تحت حکومتوں کو اس مسئلے پر تکنیکی معاونت فراہم کی جائے گی، میتھین سے متعلق معلومات تک رسائی بہتر بنائی جائے گی اور متعلقہ اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ وہ اخراج کی نشاندہی کے بعد فوری تحقیقات اور بروقت کارروائی کر سکیں۔

'بلوم برگ فلانتھروپیز' کے بانی اور موسمیاتی عزائم و حل کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے مائیکل بلوم برگ نے کہا ہے کہ میتھین کے اخراج میں کمی لانا موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے اہم ترین اقدامات میں سے ایک ہے اور خوش آئند بات یہ ہے کہ یہ نسبتاً آسان اور کم خرچ بھی ہے۔ اب میتھین کے اخراج کی نشاندہی کے لیے ضروری معلومات موجود ہیں اور رکن ممالک کی مدد بھی کی جا رہی ہے تاکہ وہ ان معلومات کو تیز رفتار، موثر اور جراتمندانہ اقدامات میں بدل سکیں۔