انسانی کہانیاں عالمی تناظر

شہروں کو خواتین و لڑکیوں کے لیے محفوظ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟

ایتھوپیا کے ادیس ابابا میں سائیکل سواروں کا ایک گروپ سرخ رنگ کے سائیکل کے راستے پر سوار ہے۔
© Courtesy Egre Menged خواتین صرف ایسی زندگی چاہتی ہیں جو سڑکوں، آن لائن ماحول، عوامی نقل و حمل، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر تشدد سے محفوظ ہوں۔

شہروں کو خواتین و لڑکیوں کے لیے محفوظ کیسے بنایا جا سکتا ہے؟

خواتین

محفوظ شہر کی پہچان صرف روشنیوں، نقل و حمل کے معیاری زرائع، صاف ستھری سڑکوں یا آسانی سے دستیاب عوامی سہولیات سے نہیں ہوتی۔ دنیا بھر کی خواتین اور لڑکیوں کے لیے کسی شہر میں حقیقی تحفظ کا اندازہ اکثر ان چھوٹے چھوٹے فیصلوں سے لگایا جاتا ہے جو انہیں روازانہ کرنا پڑتے ہیں۔

انہیں سوچنا پڑتا ہے کہ کون سا راستہ زیادہ محفوظ ہے؟ کیا اندھیرا ہونے کے بعد بس سٹاپ پر انتظار کیا جا سکتا ہے؟ کیا بازار، سکول یا عوامی مقامات پر جانے میں ہراسانی کا خطرہ تو نہیں؟ کیا عوامی بیت الخلا استعمال کیا جا سکتا ہے؟

یہ سوالات خواتین کی روزمرہ زندگی کے کئی پہلوؤں کو متاثر کرتے ہیں۔ عوامی مقامات پر جنسی ہراسانی اور تشدد کا خوف نہ صرف ان کی نقل و حرکت کو محدود کرتا ہے بلکہ تعلیم، روزگار، خدمات تک رسائی اور معاشرتی شرکت کے مواقع پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔

اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے، صنفی مساوات کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے یو این ویمن نے 2011 میں شہروں اور عوامی مقامات کو لڑکیوں کے لیے محفوظ بنانے کے عالمی اقدام کا آغاز کیا۔ اس اقدام کو ابتداً ہسپانوی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقیاتی تعاون کی مدد حاصل ہوئی اور بعد میں یورپی یونین، جنوبیکوریا، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، نیدرلینڈز، پولینڈ اور جرمنی کے ادارہ برائے بین الاقوامی تعاون و دیگر کا تعاون بھی ملا۔

15 برس کے بعد یہ اقدام 36 ممالک کے 75 شہروں تک پھیل چکا ہے جہاں حکومتیں، خواتین کے حقوق کی تنظیمیں، مقامی لوگوں کے گروہ، کاروباری ادارے اور دیگر شراکت دار مل کر ایسے ماحول کی تشکیل کے لیے کام کر رہے ہیں جہاں خواتین اور لڑکیاں عوامی مقامات پر خود کو محفوظ محسوس کر سکیں۔

اس تجربے نے واضح کیا ہے کہ محفوظ شہر بنانے کے لیے کوئی مخصوص نمونہ موجود نہیں جو ہر جگہ لاگو ہو سکے۔ کامیاب اقدامات وہی ہوتے ہیں جن میں مقامی حالات کو سمجھا جاتا ہے اور فیصلہ سازی میں خواتین کو شامل کیا جاتا ہے۔

لزبن، پرتگال میں کلاس روم کی ترتیب میں خواتین کا ایک گروپ، پرتگالی زبان کی کلاس کی سرگرمی میں حصہ لے رہا ہے جس میں ایک میز پر تحریر اور بحث شامل ہے۔
Academia CV.pt تجربات نے واضح کیا ہے کہ محفوظ شہر بنانے کے لیے کوئی مخصوص نمونہ موجود نہیں جو ہر جگہ لاگو ہو سکے۔

خواتین کے تجربات سے آگاہی

محفوظ شہر بنانے کے عمل میں پہلا قدم خواتین اور لڑکیوں کے تجربات کو جاننا ہے۔

شہر مختلف طریقوں سے معلومات جمع کرتے ہیں، جن میں دستاویزی تحقیق، انٹرویو، گروہی مباحثے اور خواتین کے مشاہداتی دورے شامل ہیں۔ ان کوششوں کے ذریعے یہ معلوم کیا جاتا ہے کہ ہراسانی کہاں ہوتی ہے، کون سے گروہ زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور خواتین اپنی حفاظت کے لیے کون سی تبدیلیوں کو ضروری سمجھتی ہیں۔

فاؤنڈیشن گوئٹے مالا کی مائیٹے روڈریگز بلینڈن کہتی ہیں کہ اس مقصد کے لیے نچلی سطح پر کام کرنے والی خواتین رہنماؤں اور دیگر سے یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ عوامی مقامات پر جنسی ہراسانی سے بچنے اور اسے روکنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہیں۔

ان کے مطابق خواتین صرف ایسی زندگی چاہتی ہیں جو سڑکوں، آن لائن ماحول، عوامی نقل و حمل، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر تشدد سے محفوظ ہو تاکہ وہ شہروں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے مواقع اور خدمات سے فائدہ اٹھا سکیں۔

ایکواڈور کے شہر کوئٹو میں لیے گئے ایک جائزے میں عوامی نقل و حمل اور سڑکوں پر خواتین اور لڑکیوں کو درپیش جنسی ہراسانی کے مسائل نمایاں ہو کر سامنے آئے۔ چنانچہ، جائزے کے نتائج کو مدنظر رکھتے ہوئے شہر میں خواتین کے آزادانہ سفر کے حق کے لیے نقل و حمل کے تحفظ کو اہم ترجیح دی گئی۔

تیونس میں خواتین کی تنظیموں، بلدیاتی رہنماؤں اور دیگر شراکت داروں نے محفوظ بازاروں، بہتر نقل و حمل اور مردوں اور لڑکوں کو تشدد کی روک تھام کے اقدامات میں شامل کرنےکی اہمیت سامنے آئی۔

کینیا میں میتھارے لیگل ایڈ اینڈ ہیومن رائٹس ایڈووکیسی کی این وانجرو بتاتی ہیں کہ جب خواتین ایسے ماحول میں ہوں جہاں جنسی ہراسانی نہ ہو تو وہ سماجی اور معاشی طور پر کہیں زیادہ بااختیار ہوتی ہیں۔

CoVID-19 وبائی امراض کے دوران میکسیکو سٹی میں ایک سب وے پلیٹ فارم پر دو خواتین چل رہی ہیں، ایک نے چہرے کا ماسک پہنا ہوا ہے۔
UN Mexico/Alexis Aubin محفوظ ماحول صرف عمارتوں، سڑکوں یا نقل و حمل کے نظام سے نہیں بنتا بلکہ اس مقصد کے لیے سماجی رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔

منصوبوں سے عملی تبدیلی تک

خواتین کے تجربات سے حاصل ہونے والی معلومات سے اس وقت موثر طور پر کام لیا جا سکتا ہے جب انہیں پالیسیوں، بجٹ، خدمات اور شہری منصوبہ بندی میں بھی شامل کیا جائے۔

سپین کے شہر میڈرڈ میں محفوظ شہر کے لائحہ عمل کے تحت صنعتی اور پیداواری مقامات پر خواتین کی رسائی اور تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اداروں کے درمیان تعاون قائم کیا گیا ہے۔ 

شہر نے صنفی اعتبار سے حساس صنعتی اور پیداواری مقامات کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دیا جس میں منصوبہ بندی، نقل و حمل، پولیس، مساوات اور ہنگامی خدمات سے متعلق ادارے شامل تھے۔ گروپ نے صنفی بنیادوں پر اعداد و شمار، اثرات کے جائزوں اور خواتین کے حقیقی تجربات کو شہر سے متعلق فیصلوں کا حصہ بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔

مراکش کے شہر اگادیر کے بلدیاتی کونسلر زکریا اولاد کہتے ہیں کہ شہروں کو اندازوں کے بجائے حقیقی اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے کرنا چاہئیں اور خواتین سے براہ راست جاننا چاہیے کہ وہ اپنے شہر کو کس نظر سے دیکھتی ہیں۔

خواتین اور بچوں سمیت مسافر، دہلی، انڈیا کے ایک اسٹریٹ اسٹاپ پر سبز پبلک بس میں سوار ہیں۔
UNIC India/Rohit Karan انڈیا میں خواتین دوست پبلک ٹرانسپورٹ کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔

خواتین کو تحفظ کی فراہمی 

بعض اوقات محفوظ شہر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات ان جگہوں پر سب سے زیادہ نمایاں ہوتے ہیں جہاں خواتین روزانہ جاتی ہیں۔

پاپوا نیوگنی کے دارالحکومت پورٹ مورس بے میں ایک جائزے سے معلوم ہوا کہ 90 فیصد سے زیادہ خواتین اور لڑکیوں نے عوامی نقل و حمل استعمال کرتے ہوئے کسی نہ کسی شکل میں تشدد کا سامنا کیا تھا۔

اس کے بعد شہر نے میری سیف بس سروس متعارف کرائی اور بسوں کا ٹائم ٹیبل جاری کیا تاکہ انتظار کا وقت کم ہو اور محفوظ سفر ممکن بنایا جا سکے۔ خواتین ڈرائیورز کو بھی تربیت دی گئی جس سے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے جبکہ بسوں میں صنفی مساوات، خواتین کے خلاف تشدد اور دستیاب مدد کے بارے میں آگاہی بھی فراہم کی گئی۔

تنزانیہ کے علاقے سیگیسے مارکیٹ میں محفوظ بازار اقدام کے ذریعے عوامی بیت الخلا، ہاتھ دھونے کی سہولیات، انتظامی منصوبہ اور صنفی حوالے سے حساس ضابطہ اخلاق متعارف کرایا گیا۔ خواتین تاجروں نے یو این ویمن کے ساتھ مل کر ہراسانی کے خلاف آگاہی اور شکایات کے اندراج کی حوصلہ افزائی کی۔

15 جنوری 2021 کو چین کے شہر ووہان میں سڑک عبور کرنے کا ایک اونچا منظر۔ پیدل چلنے والوں کا ایک گروپ، جن میں سے بہت سے ماسک پہنے ہوئے ہیں، ایک کراس واک پر دوڑ رہے ہیں۔ گیلی سڑک پر ایک سفید کار، ایک ٹیکسی اور کئی سکوٹر دکھائی دے رہے ہیں۔
Chen Liang عوامی مقامات پر جنسی ہراسانی اور تشدد کا خوف خواتین کی نقل و حرکت کو محدود کرتا ہے۔

رویے بدلنے کی ضرورت

محفوظ ماحول صرف عمارتوں، سڑکوں یا نقل و حمل کے نظام سے نہیں بنتا بلکہ اس مقصد کے لیے سماجی رویوں میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔

کینیڈا کے شہر مونٹریال میں مقامی حکام، پولیس اور نقل و حمل کے ادارے نے فعال شہری اقدامات کی مہم شروع کی تاکہ لوگ عوامی مقامات پر ہراسانی دیکھنے کی صورت میں مدد فراہم کر سکیں۔

کینیا کے علاقے کیریچو میں مردوں کے ساتھ مکالموں کے ذریعے جنسی ہراسانی، صنفی تشدد اور نقصان دہ سماجی رویوں پر بات کی گئی جبکہ نوجوانوں نے آگاہی کے لیے دیواری تصاویر کا استعمال کیا۔

ایتھوپیا میں ایسوسی ایشن فار ویمنز سینکچری اینڈ ڈویلپمنٹ کی ماریا منیر یوسف نے بتایا ہے کہ تبدیلی کے لیے اداروں، مقامی لوگوں، رہنماؤں اور ہر فرد کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔

15 برس بعد محفوظ شہروں کا یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ جب خواتین اور لڑکیوں کو شہر سے متعلق فیصلوں میں شامل کیا جاتا ہے تو عوامی مقامات زیادہ جامع اور قابل رسائی ہو جاتے ہیں۔

ایسے شہروں میں ہر فرد کے لیے آزادی، مواقع اور شرکت کے احکامات زیادہ ہوتے ہیں جہاں خواتین کو اپنی زندگی خوف کے زیراثر ترتیب نہ دینا پڑے۔

نوٹ: انگریزی میں شائع ہونے والے اس فیچر کا اردو ترجمہ یسال احمر نے کیا ہے۔