ماحول دوست توانائی میں کارآمد اہم معدنیات کی ذمہ دارانہ کان کنی کا چیلنج
دنیا بھر میں ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی کے عمل نے لیتھیم، نکل، کوبالٹ اور تانبے جیسی معدنیات کی طلب میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ یہ معدنیات برقی گاڑیوں، بیٹریوں اور قابل تجدید توانائی کے نظام کی اہم ضرورت ہیں۔
ان معدنیات کا زمین سے حصول اس عمل کا صرف ابتدائی مرحلہ ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان معدنی وسائل کی بڑھتی ہوئی طلب سے پیدا ہونے والے معاشی مواقع مقامی آبادیوں، کارکنوں اور کاروباری اداروں تک بھی پہنچیں جبکہ ماحول کا تحفظ اور کان کنی کے شعبے میں بہتر معیار یقینی بنایا جائے۔
اس ضمن میں اقوام متحدہ رکن ممالک کو ضروری مدد فراہم کر رہا ہے تاکہ ان معدنی وسائل سے حاصل ہونے والے فوائد صرف ان کی عالمی سپلائی چین تک محدود نہ رہیں بلکہ مقامی معیشتوں، روزگار اور لوگوں کے لیے بھی ترقی کے دیرپا مواقع پیدا کریں۔
ارجنٹائن: لیتھیم کی کان کنی اور فوائد
دنیا میں لیتھیم کے ذخائر کی بڑی مقدار ارجنٹائن میں پائی جاتی ہے جو برقی گاڑیوں اور قابل تجدید توانائی کے لیے استعمال ہونے والی بیٹریوں کی عالمی طلب کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
اقوام متحدہ ایسے اقدامات کر رہا ہے کہ لیتھیم کے شعبے کی ترقی کے بارے میں کیے جانے والے فیصلوں میں مقامی لوگوں کی رائے بھی شامل ہو۔ اس مقصد کے لیے حکومت، کمپنیوں، کارکنوں اور مقامی و قدیمی مقامی آبادیوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ ماحولیاتی تحفظ اور معاشی ترقی سے متعلق مسائل پر مل کر کام کیا جا سکے۔
اقوام متحدہ ارجنٹائن میں صوبوں کو مالی منصوبہ بندی بہتر بنانے میں بھی مدد دے رہا ہے تاکہ لیتھیم سے حاصل ہونے والے فوائد کا زیادہ حصہ مقامی آبادیوں تک پہنچ سکے۔ اس کے ساتھ متعلقہ شعبے میں مہارتوں کی تربیت اور خواتین کی شمولیت بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کانگو: معدنی دولت سے معاشی ترقی
دنیا میں 70 فیصد کوبالٹ جمہوریہ کانگو میں ملتا ہے۔ یہ معدن برقی گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کے نظام میں استعمال ہونے والی بہت سی ری چارج ایبل بیٹریوں کی تیاری کے لیے اہم سمجھی جاتی ہے۔
اقوام متحدہ کانگو کو یہ معدنی دولت وسیع تر معاشی ترقی سے جوڑنے میں مدد دے رہا ہے۔ اس تعاون میں عوامی پالیسیوں کو مضبوط بنانا، کاروباری اداروں میں ذمہ دارانہ طرز عمل کو فروغ دینا اور مقامی کاروباروں کو بیٹریوں اور برقی گاڑیوں کی ابھرتی ہوئی سپلائی چین میں شمولیت کے قابل بنانا شامل ہے۔
ایسے اقدامات کا مقصد یہ ہے کہ ملک کے معدنی وسائل سے پیدا ہونے والی معاشی سرگرمیوں کے فوائد وسیع تر معیشت اور مقامی کاروباروں تک بھی پہنچیں۔
انڈونیشیا: نکل کی پیداوار سے ترقی
انڈونیشیا نکل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ نکل برقی گاڑیوں میں استعمال ہونے والی بیٹریوں کی تیاری میں اہم جزو ہے۔
ملک میں اب صرف خام معدنیات برآمد کرنے کے بجائے ان سے زیادہ قدر کی حامل مصنوعات کی تیاری کو فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ صنعتی پیداوار کے معیار بہتر بنانے، ماحول دوست صنعت کو فروغ دینے اور اہم معدنیات کی پوری سپلائی چین میں ملک کے اندر زیادہ سے زیادہ معاشی قدر پیدا کرنے کے لیے ان کوششوں میں مدد دے رہا ہے۔
کان کنی کے شعبے میں کارکنوں کی صحت اور حفاظت بہتر بنانے، بدلتی ہوئی معیشت کے لیے ضروری ماحول دوست مہارتیں پیدا کرنے اور پائیدار کان کنی و ذمہ دارانہ وسائل کے انتظام سے متعلق انڈونیشیا کے تجربات کے اہم معدنیات پیدا کرنے والے دیگر ممالک کے ساتھ تبادلے میں بھی معاونت کی جا رہی ہے۔
قازقستان: ذمہ دارانہ کان کنی کی کوشش
عالمی سطح پر اہم معدنیات کی طلب میں اضافے کے ساتھ قازقستان اپنے معدنی وسائل کے شعبے کے انتظام اور نگرانی کو مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔
اقوام متحدہ اہم معدنیات کی سپلائی چین کی نگرانی بہتر بنانے کے لیے قومی نظام کو بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ کرنے اور جرائم، بدعنوانی اور کمزور احتساب سے پیدا ہونے والے خطرات کی نشاندہی میں مدد دے رہا ہے۔
تعاون کے دیگر شعبوں میں کانوں کے ادنر حفاظتی اقدامات اور محنت کے معیار بہتر بنانا، کاروباری اداروں کو ذمہ دارانہ طرز عمل کی طرف راغب کرنا اور کاروبار و انسانی حقوق سے متعلق اقوام متحدہ کے رہنما اصولوں کے مطابق کام کو فروغ دینا شامل ہے۔
ملک میں الیکٹرانک کچرے سے قیمتی خام مال دوبارہ حاصل کرنے کے امکانات پر بھی کام کیا جا رہا ہے تاکہ نئی کان کنی کی ضرورت کو کم کیا جا سکے۔
زیمبیا: معدنی وسائل سے روزگار کے مواقع
زیمبیا کے وسیع معدنی وسائل دنیا بھر کو ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی میں مدد دے سکتے ہیں۔ اقوام متحدہ اس حوالے سے ملک کو ضروری معاونت فراہم کر رہا ہے تاکہ کان کنی سے کارکنوں، مقامی کاروباروں اور برادریوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔
اس سلسلے میں قومی سطح پر کان کنی سے متعلق مہارتوں کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے، کارکنوں کو کان کنی اور بیٹریوں کی ویلیو چین میں حصول روزگار کے لیے تیار کیا جا رہا ہے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں کو برقی گاڑیوں کی ابھرتی ہوئی سپلائی چین کا حصہ بننے میں مدد دی جا رہی ہے۔
چھوٹے پیمانے پر کان کنی کرنے والے کارکنوں کے کے لیے کام کی جگہ پر حفاظتی انتظامات کو بہتر بنانے، ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات مضبوط کرنے اور اس شعبے کو نظام کا حصہ بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
مقامی آبادیوں کو حکومت، یونیورسٹیوں اور کان کن کمپنیوں کے ساتھ مل کر معدنی استخراج کے ماحولیاتی اثرات کی نگرانی میں بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ اس شمولیت سے کان کنی کے منصوبوں کے بارے میں اعتماد پیدا کرنے اور مقامی لوگوں کو ان منصوبوں پر عملدرآمد میں حصہ دار بنانے میں بھی مدد مل رہی ہے۔