ماحول دوست توانائی کے انقلاب میں کارفرما اہم معدنیات
ہر برقی گاڑی، ہر ونڈ ٹربائن، ہر شمسی پینل اور ہر سمارٹ فون کی تیاری میں زمین سے نکالی جانے والی معدنیات استعمال ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے یہ آج یہ معدنیات عالمی سیاست کا مرکز بن گئی ہیں۔
دنیا معدنی ایندھن پر انحصار کم کرتے ہوئے تیزی سے ماحول دوست توانائی کی جانب بڑھ رہی ہے جس کے ساتھ لیتھیم، کوبالٹ، نکل، تانبا اور گریفائٹ جیسی معدنیات کی مانگ میں بھی غیر معمولی رفتار سے اضافہ ہو رہا ہے۔
بہت سے ممالک کے لیے یہ ایک بے مثال معاشی موقع ہے۔ لیکن بعض علاقوں میں انہی وسائل پر قبضے کی دوڑ نے مسلح تنازعات، بدعنوانی، ماحولیاتی تباہی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کو بھی جنم دیا ہے۔
اسی تناظر میں رواں ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ایک بنیادی سوال پر غور کر رہی ہے کہ آیا ماحول دوست توانائی کے عالمی انقلاب کو مہمیز دینے والی معدنیات امن اور پائیدار ترقی کی بنیاد بھی بن سکتی ہیں؟
پانچ اہم سوالات
اہم معدنیات کیا ہیں؟
اہم معدنیات وہ بنیادی خام مال ہیں جن کے بغیر جدید ٹیکنالوجی کا تصور ممکن نہیں۔ ان کا استعمال درج ذیل شعبوں میں ہوتا ہے:
- برقی گاڑیوں کی بیٹریاں
- ونڈ ٹربائن
- سولر پینل
- بجلی فراہم کرنے کی تنصیبات (گرڈ)
- سمارٹ فون اور دیگر الیکٹرانک آلات
ان معدنیات کے بغیر ماحول دوست توانائی کی بیشتر جدید ٹیکنالوجی کا وجود ممکن نہیں۔
قیمتی معدنیات کے ذخائر
ان معدنیات کے بڑے ذخائر افریقہ، لاطینی امریکہ اور ایشیا کے مختلف حصوں میں موجود ہیں۔ ان ممالک کے لیےیہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے، معیشت کو متنوع بنانے اور سرکاری آمدنی میں اضافہ کرنے کا سنہری موقع فراہم کرتی ہیں۔ تاہم اس معاملے میں کامیابی کا انحصار اس بات پر ہے کہ ان وسائل کا انتظام اور استعمال کس حد تک شفاف، موثر اور ذمہ دارانہ طور سے کیا جاتا ہے۔
تیزی سے بڑھتی طلب
دنیا بھر میں ماحول دوست توانائی کی جانب منتقلی تیزی سے جاری ہے۔ ایک برقی گاڑی کی تیاری میں روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑی کے مقابلے میں تقریباً چھ گنا زیادہ معدنیات درکار ہوتی ہیں۔
سمندر میں نصب ہوائی توانائی کے منصوبوں (آف شور ونڈ فارمز) کو گیس سے چلنے والے بجلی گھروں کے مقابلے میں تقریباً 13 گنا زیادہ معدنی وسائل کی ضرورت پڑتی ہے۔
توقع ہے کہ 2030 تک کئی اہم معدنیات کی عالمی طلب تقریباً تین گنا بڑھ جائے گی۔ اسی لیے ماہرین آج ان معدنیات کو وہی تزویراتی اہمیت دے رہے ہیں جو 20ویں صدی میں تیل کو حاصل تھی۔
ماحول دوست کان کنی
کان کنی ناگزیر ہے، لیکن یہ مناسب ضابطوں اور ذمہ دارانہ طریقے سے نہ کی جائے تو ماحول پر اس کے سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
غیر منظم یا ناقص نگرانی میں ہونے والی کان کنی کے نتیجے میں جنگلات کی کٹائی، آبی آلودگی، حیاتیاتی تنوع میں کمی، ارضی زرخیزی کے نقصان، زمینی انحطاط اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافے جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
علاوہ ازیں، ان معدنیات کے بہت سے ذخائر قدیمی مقامی آبادیوں اور ماحولیاتی لحاظ سے نہایت حساس علاقوں کے قریب واقع ہیں۔ اسی لیے، اصل سوال یہ نہیں کہ کان کنی ہونی چاہیے یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ اسے ماحول، مقامی آبادی اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے کس طرح ذمہ داری سے انجام دیا جائے۔
سلامتی کونسل کی تشویش
قدرتی وسائل ماضی میں بھی تنازعات اور جنگوں کا سبب بنتے رہے ہیں۔
سلامتی کونسل کو تشویش ہے کہ:
- بعض مسلح گروہ قیمتی معدنی ذخائر پر قابض ہیں۔
- غیر قانونی کان کنی سے حاصل ہونے والی آمدنی مسلح تنازعات کو ہوا دے رہی ہے۔
- جرائم پیشہ نیٹ ورک معدنیات کی سمگلنگ سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
- انتظامی کمزوری سے سے عدم استحکام میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا اہم معدنیات کی بڑھتی ہوئی عالمی طلب مستقبل میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھائے گی یا یہی وسائل امن و استحکام اور پائیدار ترقی کے فروغ میں بھی مدد دے سکتے ہیں۔