انسانی کہانیاں عالمی تناظر

جنرل اسمبلی: روڈ سیفٹی پر اعلامیہ بھاری اکثریت سے منظور، امریکہ کی مخالفت

شنگھائی میں ایک کثیر لین ہائی وے پر رات کے وقت ٹریفک جام، متعدد کاریں ایک اوور پاس کے نیچے رک گئیں۔
UN News/Yun Zhao سال 2011 سے 2025 کے دوران دنیا کی سڑکوں پر ایک ارب سے زیادہ نئی گاڑیاں شامل ہوئیں۔

جنرل اسمبلی: روڈ سیفٹی پر اعلامیہ بھاری اکثریت سے منظور، امریکہ کی مخالفت

موسم اور ماحول

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سڑکوں پر تحفظ سے متعلق ایک جامع اعلامیہ کی منظوری دے دی ہے جس کا مقصد 2030 تک ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات کی تعداد میں نصف حد تک کمی لانا ہے۔

جنرل اسمبلی میں رائے شماری کے موقع پر موجود 163 ارکان میں سے 162 نے اعلامیہ کے حق میں ووٹ دیا اور صرف امریکہ نے اس کی مخالفت کی۔

Tweet URL

اس اعلامیہ میں حکومتوں نے عہد کیا ہے کہ وہ اپنے ممالک میں سڑکوں پر حفاظت کے نظام کو مضبوط بنائیں گی، گاڑیوں اور بنیادی ڈھانچے کے حفاظتی معیارات بہتر کریں گی اور محفوظ نظام کا اپنائیں گی جس کے تحت سڑکوں اور گاڑیوں کو اس انداز سے ڈیزائن کیا جاتا ہے کہ اگر ڈرائیور سے غلطی بھی ہو جائے تو جان لیوا حادثات سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل اسمبلی کی صدر اینالینا بیئربوک کا کہنا تھا کہ ہر سال ٹریفک حادثات میں تقریباً 12 لاکھ افراد کی موت واقع ہو جاتی ہے اور تقریباً 5 کروڑ افراد زخمی ہوتے ہیں۔ یہ تعداد جنگوں میں براہ راست مارے جانے والوں، قتل ہونے والوں یا ملیریا سے ہلاک والوں سے بھی زیادہ ہے۔ اسی لیے اقوام متحدہ کے لیے اس مسئلے کو دیکھنا ضروری ہے۔

امریکہ کا اعتراض

امریکہ کے نمائندے نے اس اعلامیے کو اقوام متحدہ کے دائرہ اختیار میں غیر ضروری توسیع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات سے ادارے کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے خاص طور پر ان نکات پر اعتراض کیا جن میں سڑکوں کی حفاظت کو موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی پالیسیوں سے جوڑا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں کی حفاظت بنیادی طور پر انجینئرنگ، ذمہ دارانہ ڈرائیونگ اور ذاتی ذمہ داری کا معاملہ ہے۔ اسے عالمی موسمیاتی معاہدوں یا ماحولیات کے نام پر نقل و حرکت کی آزادی پر بالا دستی قائم کرنے کے لیے خفیہ راستے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

ارجنٹائن کے نمائندے نے کہا کہ وہ اس اعلامیے پر اپنی قومی قانون سازی اور خودمختاری کے مطابق عملدرآمد کرے گا جبکہ اس نے عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے کردار کے حوالے سے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔

پیراگوئے نے زور دیا کہ اس اعلامیہ پر عملدرآمد اور اس کی نگرانی کا پورا عمل رضاکارانہ ہے اور اسے اپنانے کی کوئی قانونی پابندی نہیں ہو گی۔ 

نوجوانوں کی اموات

اعلامیہ کے ساتھ جاری ہونے والے 'ڈبلیو ایچ او' کے اعداد و شمار کے مطابق، 2011 سے 2025 کے درمیان دنیا بھر میں سڑکوں پر ہونے والی اموات کی شرح میں 21 فیصد کمی آئی حالانکہ اسی عرصہ میں دنیا کی سڑکوں پر ایک ارب سے زیادہ نئی گاڑیاں شامل ہوئیں۔ اس کے باوجود 2025 میں ٹریفک حادثات کے باعث 11 لاکھ 60 ہزار افراد کی ہلاکت ہوئی جبکہ حادثات 5 سے 29 سال کی عمر کے بچوں اور نوجوانوں میں اب بھی موت کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔

'ڈبلیو ایچ او' کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروز ایڈہانوم گیبریاسس نے اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سڑکوں پر ہونے والی ہر موت قابل تدارک ہے اور کسی ایک جان کا ضیاع بھی قابل قبول نہیں۔

علاقائی صورتحال 

'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں انسانی نقصان پر قابو پانے کے حوالے سے پیش رفت کی رفتار یکساں نہیں ہے۔

  • یورپ میں سڑکوں پر ہونے والی اموات میں 36 فیصد کمی آئی ہے۔
  • مغربی بحرالکاہل کے خطے میں 15 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
  • جنوب مشرقی ایشیا میں صرف 2 فیصد کمی واقع ہوئی۔
  • شمالی امریکہ میں صورتحال تقریباً جمود کا شکار رہی۔
  • افریقہ میں سڑکوں پر اموات کی شرح 17 فیصد بڑھ گئی ہے۔

'ڈبلیو ایچ او' کے مطابق، دنیا بھر میں موٹرسائیکل پر سفر کرنے والوں کی تعداد 2011 کے بعد تین گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے اور اب دنیا بھر میں سڑکوں پر ہونے والی تقریباً ایک تہائی اموات انہی کی ہوتی ہیں۔ تاہم، معیاری اور تصدیق شدہ ہیلمٹ پہننے سے موٹرسائیکل سوار کے حادثے میں ہلاک ہونے کا خطرہ چھ گنا سے بھی زیادہ کم ہو جاتا ہے۔

سڑکوں پر تحفظ سے متعلق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے ژاں ٹوڈ نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ اگر اس مسئلے کے حل پر توجہ نہ دی گئی تو یہ موت کے کاروبار کو جاری رکھنے کے مترادف ہو گا۔