انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بھوک کی شرح میں مسلسل کمی لیکن پیش رفت سست اور ناہموار، رپورٹ

سوڈان میں ایک نوجوان لڑکی ایل اوبید، شمالی کورڈوفن میں WFP کے تعاون سے چلنے والے کلینک میں Plumpy'Sup، ایک مضبوط کھانا کھا رہی ہے۔
© WFP/Muna Abdelhakim سوڈان کا شمار ان پانچ علاقوں میں ہوتا ہے جہاں وسیع پیمانے پر لوگوں کو بھوک کا سامنا ہے۔

بھوک کی شرح میں مسلسل کمی لیکن پیش رفت سست اور ناہموار، رپورٹ

پائیدار ترقی کے اہداف

دنیا میں مسلسل تیسرے سال بھوک کی شرح کم ہوئی ہے لیکن یہ پیش رفت اس قدر سست رفتار ہے کہ 2030 تک پائیدار ترقی کے اہداف(ایس ڈی جی) کے تحت بھوک کے خاتمے کا مقصد حاصل ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔

اقوام متحدہ کے پانچ اداروں کی جانب سے 'دنیا میں غذائی تحفظ اور غذائیت کی صورتحال' پر جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 میں 7.8 فیصد آبادی یا 64 کروڑ 50 لاکھ افراد خوراک کی کمی شکار رہے جبکہ یہ شرح 2024 میں 8.1 فیصد اور 2022 میں 8.6 فیصد تھی۔

Tweet URL

پائیدار ترقی کے اہداف کے تحت 2030 تک دنیا بھر سے بھوک اور غذائی قلت کا خاتمہ کیا جانا ہے، لیکن اس حوالے سے مختلف خطوں میں پیش رفت یکساں نہیں ہے۔ ایشیا، لاطینی امریکہ اور غرب الہند میں بھوک پر قابو پانے کے حوالے سے حالیہ برسوں میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے لیکن پہلی مرتبہ افریقہ دنیا کا ایسا خطہ بن گیا ہے جہاں بھوک کا شکار افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ 

گزشتہ سال اس براعظم میں 30 کروڑ 90 لاکھ افراد کو مناسب خوراک میسر نہ آ سکی جبکہ ایشیا میں یہ تعداد 29 کروڑ 20 لاکھ رہی۔ 2024 میں افریقہ میں بھوک کی شرح 20.3 فیصد تھی جو 2025 میں کم ہو کر 20 فیصد رہ گئی لیکن آبادی میں تیز رفتار اضافے کے باعث بھوک کا شکار لوگوں کی مجموعی تعداد بڑھ گئی ہے۔

یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت (ایف اے او)، زرعی ترقی کے بین الاقوامی فنڈ (آئی ایف اے ڈی)، عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ای پی) اور عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے مشترکہ طور پر جاری کی ہے۔

اربوں لوگ کی محرومی

رپورٹ کے مطابق، گزشتہ سالدنیا بھر میں تقریباً دو ارب 10 کروڑ افراد درمیانے یا شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہیں بعض اوقات خوراک کی مقدار یا معیار پر سمجھوتہ کرنا پڑا۔

اگرچہ یہ صورتحال 2024 اور 2020 کے درمیانی عرصہ کے مقابلے میں قدرے بہتر ہوئی ہے، تاہم کووڈ وبا سے پہلے کی سطح سے موازنے میں یہ اب بھی کہیں زیادہ خراب ہے۔

گزشتہ سال افریقہ میں 56.6 فیصد آبادی درمیانے یا شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا شکار رہی جبکہ ایشیا میں یہ شرح 20.3 فیصد، لاطینی امریکہ اور غرب الہند میں 22.9 فیصد اور شمالی امریکہ و یورپ میں صرف 8.7 فیصد تھی۔ 

بحرانی حالات

پانچوں اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری مسلح تنازعات، شدید موسمی حالات اور ترقیاتی و انسانی امداد میں کمی کے باعث عالمی سطح پر بھوک کے خاتمے کی حالیہ پیش رفت کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

'ایف اے او' کے اعلیٰ سطحی ماہر اقتصادیات میکسیمو توریرو کے مطابق، آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والا بحران زرعی پیداوار اور بھوک کی صورتحال پر منفی اثرات مرتب کرے گا۔ اگر اس بحران کے باعث توانائی اور کھاد کی قیمتوں میں اضافے سے غذائی مہنگائی طویل عرصے تک برقرار رہی تو 2030 تک بھی دنیا میں تقریباً 52 کروڑ افراد بھوک کا شکار ہوں گے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2026 اور 2027 میں متوقع ایل نینو جیسے شدید موسمی اثرات کو ان تخمینوں میں شامل نہیں کیا گیا جبکہ یہ حالات صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں۔

غذائیت کا شعبہ

غذائیت سے متعلق عالمی اہداف کے حصول کی رفتار بھی تسلی بخش نہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچوں میں بڑھوتری کی کمی، شدید جسمانی کمزوری، زائد الوزنی، کم وزن پیدائش اور ماں کا دودھ پلانے سے متعلق اشاریوں میں قدرے بہتری آئی ہے جبکہ 15 سے 49 سال کی خواتین میں خون کی کمیکا مسئلہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔

بالغ افراد میں موٹاپا بھی بڑھ رہا ہے جو 2012 میں 12.1 فیصد تھا اور 2024 میں بڑھ کر 16.2 فیصد ہو گیا۔ دنیا بھر میں 6 سے 23 ماہ کی عمر کے صرف 30.8 فیصد بچوں کو متنوع غذا مل رہی ہے جبکہ پانچ سال سے کم عمر کے ڈیڑھ کروڑ بچے اب بھی بڑھوتری کے مسائل کا شکار ہیں۔

صحت بخش خوراک

جسمانی ضروریات پوری کرنے کے لیے کم از کم اوسط لاگت پر دستیاب مناسب خوراک کے حصول کی استطاعت نہ رکھنے والے افراد کی تعداد 2021 میں 2 ارب 97 کروڑ تھی جو گزشتہ سال کم ہو کر دو ارب 69 کروڑ رہ گئی۔ اس بہتری کے باوجود مختلف خطوں کے درمیان بڑے پیمانے پر عدم مساوات برقرار ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اس مسئلے پر قابو پانے کے لیے خوراک کی قیمتوں میں کمی لانا کافی نہیں ہو گا کیونکہ صارفین کی ادا کردہ قیمت کا 70 سے 75 فیصد حصہ غذائی اجناس کے کھیت سے منڈی تک پہنچنے کے بعد شروع ہونے والے مراحل، جیسا کہ پراسیسنگ، ترسیل، ذخیرہ، تھوک تجارت اور سپلائی چین کے اخراجات پر مشتمل ہوتا ہے۔

رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ ہر ملک اپنے حالات کے مطابق بنیادی ڈھانچے، زرعی تحقیق و ترقی، آبپاشی، اجناس کو ٹھنڈا رکھنے کے نظام، زرعی امدادی قیمتوں، تجارتی سہولتوں اور ضابطہ جاتی اصلاحات پر کام کرے تاکہ ہر فرد کو صحت بخش غذا دستیاب ہو سکے۔