انسانی کہانیاں عالمی تناظر

امریکہ اور ایران جنگ میں شہری ڈھانچے کے بھاری نقصان پر تشویش

ایرانی ریڈ کرسنٹ سوسائٹی کے امدادی کارکن، جنہوں نے سرخ یونیفارم پہنا ہوا ہے، تہران، ایران میں امدادی کارروائی کے دوران ملبے اور ایک متاثرہ عمارت کے درمیان ایک ایکسکیویٹر کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
© IRCS ایرانی ہلال احمر کے کارکن ایک شہری علاقے پر امریکی بمباری کے بعد امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں (فائل فوٹو)۔

امریکہ اور ایران جنگ میں شہری ڈھانچے کے بھاری نقصان پر تشویش

امن اور سلامتی

امریکہ اور ایران کے درمیان مہلک عسکری کشیدگی دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے جبکہ اقوام متحدہ نے فریقین سے جنگ بندی کی اپیل کرتے ہوئے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کو ہونے والے نقصان پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہر تنازع کی طرح اس جنگ میں بھی شہریوں اور شہری تنصیبات کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ ہسپتالوں، پانی کی فراہمی کے نظام اور دیگر بنیادی سہولتوں کو ہر صورت محفوظ رکھا جانا چاہیے جن پر لوگوں کی زندگیوں کا انحصار ہوتا ہے۔

Tweet URL

انہوں نے امریکہ اور ایران پر زور دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کا پاس کریں جن میں عسکری اور شہری اہداف میں واضح فرق کرنا، طاقت کا متناسب استعمال اور جنگی کارروائیوں میں ہر ممکن احتیاط برتنا شامل ہے۔

بحیرہ احمر میں خطرات

ترجمان نے بتایا کہ اقوام متحدہ کو یمن میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب اور یمن کے ساحل کے ساتھ بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی آزادی کے خلاف دی جانے والی نئی دھمکیوں پر بھی سخت تشویش ہے۔ اس سے خطے میں کشیدگی پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

انہوں نے تنازع کے تمام فریقین سے فوری طور پر کشیدگی میں کمی لانے اور اور اپنے اختلافات کو مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

جوہری تنصیب پر مبینہ حملہ

جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے (آئی اے ای اے) نے بتایا ہے کہ وہ ایران میں زیر تعمیر دارخوین جوہری بجلی گھر پر مبینہ حملے کی اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ منصوبہ ابتدائی مرحلے میں ہے اور معائنہ کاروں کے آخری دورے کے وقت وہاں جوہری مواد موجود نہیں تھا۔

اگرچہ اس حملے سے تابکاری خارج ہونے کا کوئی خدشہ نہیں، تاہم ادارے کے ڈائریکٹر جنرل رافائل میریانو گروسی نے تمام جوہری تنصیبات کے قریب عسکری کارروائیوں سے گریز کرنے پر زور دیا ہے۔

خوف اور غیر یقینی کی فضا

مشرق وسطیٰ میں عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر حنان بلخی نے کہا ہے کہ خطے میں شہریوں کو ایک مرتبہ پھر مسلسل حملوں کے خوف اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے جبکہ صحت کے نظام پر شدید دباؤ آ چکا ہے۔ 

انہوں نے ایرانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکہ کے حملوں میں رواں ماہ اب تک 50 افراد ہلاک اور 500 سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں جبکہ اہم بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

جنوبی صوبہ ہرمزگان میں سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے والے پلانٹ پر مبینہ حملے کے باعث ہزاروں افراد کے لیے صاف پانی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے۔ گزشتہ ہفتے ایک ہسپتال کے قریب ہونے والے دھماکوں کے بعد وہاں سرطان کے مریض بچوں کو احتیاطاً دوسری جگہ منتقل کرنا پڑا۔

پانی اور تیل کی تنصیبات کا نقصان

'ڈبلیو ایچ او' نے بتایا ہے کہ قطر میں حملوں کے نتیجے میں پانچ شہری زخمی ہوئے ہیں۔ کویت کے حکام نے تیل کی ایک تنصیب پر حملے کے نتیجے میں لوگوں کے زخمی ہونے اور بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاع دی ہے۔ بجلی گھروں اور سمندری پانی کو میٹھا بنانے والے پلانٹ بھی حملوں کی زد میں آئے ہیں جن میں ایک شخص زخمی ہوا جبکہ بجلی پیدا کرنے والے کئی یونٹ بند کرنا پڑے۔

ڈاکٹر بلخی نے کہا ہے کہ ان واقعات کے باعث نہ صرف شہریوں بلکہ ماحولیاتی صحت کو بھی بڑھتے ہوئے خطرات لاحق ہیں۔

ادارے نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے، شہریوں اور طبی مراکز کے تحفظ کو یقینی بنانے اور بین الاقوامی انسانی قانون کی مکمل پاسداری کرنے کی اپیل کو دہرایا ہے۔