انسانی کہانیاں عالمی تناظر

یوکرین: روسی حملوں میں امدادی سامان کے گودام بری طرح متاثر

یوکرین میں اینٹوں سے بنی تباہ شدہ عمارت کے ملبے کے درمیان ایک عورت اور ایک مرد سامان تلاش کر رہے ہیں۔
© UNICEF/Oleksii Fili انیس جولائی کو کیئو کے ایک رہائشی علاقے پر روسی میزائل حملے کے بعد لوگ اپنے گھروں کے ملبے کو دیکھ رہے ہیں۔

یوکرین: روسی حملوں میں امدادی سامان کے گودام بری طرح متاثر

امن اور سلامتی

ہنگامی امدادی امور کے لیے اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر (اوچا) نے بتایا ہے کہ ملک پر روس کے حالیہ حملوں میں دو بچے ہلاک اور درجنوں افراد زخمی ہو گئے ہیں جبکہ امدادی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہونے والے تین گودام بھی بری طرح متاثر ہوئے۔

ادارے کے مطابق، گزشتہ چند روز میں دارالحکومت کیئو، اوڈیسا کے علاقے میں واقع ایک تفریحی مقام پر اور زیپوریژیا میں ہونے والے ان حملوں میں شہری تنصیبات کو نقصان پہنچا اور ریڈ کراس کی ایک گاڑی بھی تباہ ہو گئی۔ یوکرین میں اقوام متحدہ کے امدادی رابطہ کار میتھیاس شمل نے کہا ہے کہ ملک بھر میں ان حملوں کے نتیجے میں ہونے والا جانی و مالی نقصان نہایت افسوس ناک ہے۔

Tweet URL

اقوام متحدہ کے ترجمان سٹیفن ڈوجیرک نے نیویارک میں صحافیوں کو بتایا کہ ہفتے اور اتوار کو ہونے والے مہلک حملوں میں نیپرو میں عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) اور کیئو میں عالمی ادارہ صحت(ڈبلیو ایچ او) کے گودام کو نشانہ بنایا گیا۔ 'ڈبلیو ایف پی' کے مطابق، گزشتہ تین ماہ کے دوران یوکرین میں ادارے کے واضح طور پر نشان زدہ اثاثوں پر یہ ساتواں حملہ ہے جبکہ گزشتہ دو برسوں میں ایسے حملوں کی تعداد 90 سے تجاوز کر چکی ہے۔

اتوار کو بیلوہوریودکا میں عالمی ادارہ اطفال (یونیسف) کے گودام پر بھی حملہ ہوا جہاں 39 لاکھ ڈالر مالیت کی ایک لاکھ سے زیادہ امدادی اشیا موجود تھیں۔ ان میں بجلی پیدا کرنے والے جنریٹر، پینے کا صاف پانی، صفائی کا سامان، پانی ذخیرہ کرنے کے ٹینک اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔ 

بچوں کو امن کی ضرورت

اقوام متحدہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ کیرسون میں محاذ جنگ کے قریبی علاقوں میں 11 میٹرک ٹن امدادی سامان پہنچایا گیا ہے جس میں صاف پانی، ادویات، صحت و صفائی کی اشیا اور خواتین کی ضرورت کا سامان بھی شامل ہے۔

یونیسف نے گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یوکرین مین حملوں کے نتیجے میں بچوں کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ ماہ سات بچے ہلاک اور 116 زخمی ہوئے جو 2022 کے بعد کسی ایک ماہ میں سب سے بڑی تعداد ہے۔ 

یونیسف نے خبردار کیا پے کہ مسلسل حملوں کے باعث امدادی سرگرمیاں بھی متاثر ہو رہی ہیں اور امدادی گوداموں کو نقصان پہنچنے اور کارکنوں کو نشانہ بنانے سے بچوں اور خاندانوں تک ضروری امداد کی بروقت فراہمی میں رکاوٹیں آ رہی ہیں۔

ادارے کا کہنا ہے کہ حملے فوری طور پر بند ہونے چاہییں، امدادی تنصیبات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے اور یوکرین کے بچوں کو پائیدار امن کی ضرورت ہے۔