عالمی تعاون کے بغیر اے آئی سے عدم مساوات بڑھنے کا خطرہ، گوتیرش
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے دنیا بھر کی حکومتوں اور ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت(اے آئی) کو اس انداز میں فروغ دینے کے لیے مل کر کام کریں کہ اس کے فوائد تمام ممالک اور لوگوں تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس شعبے میں بین الاقوامی تعاون یقینی نہ بنایا گیا تو مصنوعی ذہانت پائیدار ترقی کو آگے بڑھانے کے بجائے عدم مساوات کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے چین کے شہر شنگھائی میں مصنوعی ذہانت پر عالمی کانفرنس (ڈبلیو اے آئی سی) کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس ٹیکنالوجی کو اکیسویں صدی میں انسانیت کے لیے سب سے بڑا موقع قرار دیا، تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ انسانیت کے لیے سب سے بڑا خطرہ بھی بن سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جو ٹیکنالوجی انسانیت کے مستقبل کا تعین کرے گی اس کی تشکیل میں پوری انسانیت کی شمولیت ضروری ہے۔ مصنوعی ذہانت کا نظم و نسق چند ممالک یا چند کمپنیوں کے ہاتھ میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہر ملک کو اس عمل میں مساوی نمائندگی ملنی چاہیے۔
مصنوعی ذہانت کا محفوظ انتظام
گزشتہ ایک سال کے دوران اقوام متحدہ نے مصنوعی ذہانت کے انتظام کے حوالے سے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں عالمی ڈیجیٹل معاہدے کی منظوری دی گئی اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے تحت مصنوعی ذہانت سے متعلق آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل قائم کیا گیا جو اس انقلابی ٹیکنالوجی پر اپنی نوعیت کا پہلا عالمی سائنسی ادارہ ہے۔
رواں ماہ جنیوا میں مصنوعی ذہانت کی ضابطہ بندی پر پہلا عالمی مکالمہ بھی منعقد ہوا جس میں حکومتوں اور دیگر متعلقہ فریقین نے مصنوعی ذہانت کے انتظام سے متعلق کھلے، شفاف اور جامع تبادلہ خیال میں حصہ لیا۔
ان اقدامات کا مقصد رکن ممالک کے مابین مہارت اور تجربات کا تبادلہ، مشترکہ معیارات کا فروغ اور ترقی پذیر ممالک کو اس ٹیکنالوجی کے مستقبل کی تشکیل میں موثر کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
ڈیجیٹل خلیج اور عدم مساوات
سیکرٹری جنرل نے کہا کہ مصنوعی ذہانت طبی میدان میں انقلابی پیش رفت، تعلیم میں بہتری لانے، غذائی نظام کو مضبوط بنانے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی بے پایاں صلاحیت رکھتی ہے جس سے پائیدار ترقی کے اہداف(ایس ڈی جی) کے حصول میں بھی مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ بہت سے ترقی پذیر ممالک اب بھی اس دوڑ میں پیچھے رہ جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
دنیا کی ایک تہائی آبادی اب بھی انٹرنیٹ سے محروم ہے، جبکہ کمپیوٹنگ کی صلاحیت، تکنیکی مہارت اور سرمایہ کاری چند ہی ممالک اور بڑی کمپنیوں تک محدود ہے۔ اگر اس فرق کو دور نہ کیا گیا تو مصنوعی ذہانت آمدنی، مواقع اور سلامتی کے حوالے سے عدم مساوات کو مزید بڑھا دے گی۔
سیکرٹری جنرل نے بتایا کہ اس خلا کو پر کرنے کے لیے چین سمیت 20 سے زیادہ ممالک اقوام متحدہ کی سرپرستی میں مصنوعی ذہانت کی استعداد سازی کے لیے تبادلہ و تعاون کے عالمی نیٹ ورک کے لیے اپنے مراکز نامزد کر چکے ہیں۔
انہوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ وہ جلد ہی عالمی فنڈ برائے مصنوعی ذیانت کے قیام سے متعلق سفارشات پیش کریں گے اور حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ ان دونوں منصوبوں کی بھرپور حمایت کریں۔
تین بنیادی ترجیحات
سیکرٹری جنرل نے مصنوعی ذہانت کے فوائد کو پوری دنیا تک پہنچانے کے لیے درج ذیل تین ترجیحات پیش کیں:
- ترقی پذیر ممالک کی استعداد اور صلاحیت میں اضافہ۔
- مصنوعی ذہانت کی سلامتی کے لیے بین الاقوامی معیارات کا قیام۔
- مصنوعی ذہانت کو ماحول دوست اور پائیدار بنانے کے اقدامات۔
انہوں نے کہا کہ ترقی پذیر ممالک کو ایسے وسائل اور مواقع فراہم کیے جائیں کہ وہ اپنے ڈیٹا، اپنی زبانوں اور مہارت کی بنیاد پر مصنوعی ذہانت کے نظام تیار کر سکیں۔ اسی طرح، حکومتوں کو چاہیے کہ وہ بین الاقوامی قانون کے تحت مصنوعی ذہانت کی جانچ، حفاظت اور خطرات کے انتظام کے لیے مشترکہ اصول اور ضابطے اختیار کریں۔
اہم اور فیصلہ کن سوال
انتونیو گوتیرش نے زور دیا کہ انسانی حقوق کا ہر صورت تحفظ کیا جانا چاہیے۔ زندگی اور موت سے متعلق ہر فیصلہ انسان ہی کے اختیار میں رہنا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت کے کسی بھی نظام کو اس وقت تک بچوں کے استعمال میں نہیں دینا چاہیے جب تک یہ ان کے لیے مکمل طور سے محفوظ نہ ہو۔
ماحولیاتی پائیداری کے حوالے سے انہوں نے مصنوعی ذہانت کی بڑی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ اپنے نظام کے ماحولیاتی اثرات لوگوں کے سامنے لائیں اور 2030 تک اپنی تمام سرگرمیوں کو قابل تجدید توانائی پر منتقل کریں۔ انہوں نے حکومتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ مصنوعی ذہانت کے لیے صاف اور قابل تجدید توانائی کو اپنی قومی منصوبہ بندی کا حصہ بنائیں۔
خطاب کے اختتام پر سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ اہم اور فیصلہ کن سوال یہ ہے کہ آیا یہ تبدیلی عدم مساوات کو کم کرے گی یا اسے مزید بڑھا دے گی اور کیا یہ طاقت کو چند ہاتھوں میں مرکوز کرے گی یا زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نئے مواقع لائے گی۔