انسانی کہانیاں عالمی تناظر

بنگلہ دیش: طوفانی بارشوں سے لاکھوں متاثر، یو این کی امدادی کارروائیاں

بنگلہ دیش کے شہر فینی میں ڈوبی ہوئی سڑک پر ایک ماں اور بیٹی سیلابی پانی سے گزر رہی ہیں۔
© UNICEF/Sultan Mahmud Mukut بنگلہ دیش میں مون سون کی حالیہ بارشوں سے ملک کے 10 اضلاع میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

بنگلہ دیش: طوفانی بارشوں سے لاکھوں متاثر، یو این کی امدادی کارروائیاں

موسم اور ماحول

بنگلہ دیش میں کئی ہفتوں سے جاری شدید بارشوں، سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان کی اطلاعات ہیں۔ عالمی ادارہ مہاجرت (آئی او ایم) نے ملک کے لیے ضروری امداد میں اضافہ کر دیا ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی برادری سے تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔

حالیہ مون سون کی بارشوں سے ملک کے 10 اضلاع میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں جن میں روہنگیا پناہ گزین اور ان کی میزبان آبادیاں بھی شامل ہیں۔ آئندہ ایام میں مزید بارشوں کے باعث خطرات میں اضافے کا خدشہ ہے۔

Tweet URL

حکومت کے مطابق موسمی شدت کے واقعات کے باعث 12 جولائی تک ملک بھر میں 51 افراد ہلاک ہو چکے تھے جبکہ 38,400 سے زیادہ لوگ ایک ہزار سے زیادہ عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔ متاثرین میں 52,000 سے زیادہ روہنگیا پناہ گزین اور 13,000 سے زیادہ معذور افراد بھی شامل ہیں۔

پناہ گاہوں اور تنصیبات کا نقصان

ایشیا اور الکاہل کے لیے ادارے علاقائی ڈائریکٹر ایوری کاتو نے کہا ہے کہ اس آفت میں لوگوں نے اپنے گھر، روزگار کے ذرائع اور اپنے عزیزوں کو کھو دیا ہے۔ یہ ہنگامی صورتحال موسمیاتی آفات کی بڑھتی ہوئی انسانی قیمت اور آفات آنے سے پہلے ان سے نمٹنے کی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔ 'آئی او ایم' بنگلہ دیش کی حکومت اور امدادی شراکت داروں کے ساتھ امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے۔

چٹاگانگ اور کاکس بازارسب سے زیادہ متاثر ہونے والے اضلاع میں شامل ہیں۔ موخر الذکر شہر میں دنیا کا سب سے بڑا پناہ گزین کیمپ بھی قائم ہیں جہاں لاکھوں روہنگیا مہاجرین مقیم ہیں۔ کیمپ میں شدید بارشوں نے کمزور پہاڑی ڈھلوانوں کو متاثر کیا ہے جس کے نتیجے میں اچانک آنے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے 5,000 سے زیادہ پناہ گاہوں کے علاوہ بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔

کیمپوں سے باہر بھی گھر، سڑکیں، پل، سکول اور دیگر عوامی تنصیبات شدید نقصان سے دوچار ہوئی ہیں جس کے باعث لوگوں کے روزگار متاثر ہوئے ہیں اور ضروری خدمات تک رسائی محدود ہو گئی ہے۔

'آئی او ایم' کے امدادی اقدامات

 بنگلہ دیش کی حکومت اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے 'آئی او ایم' نے متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں روانہ کی ہیں۔ نقصان زدہ پناہ گاہوں میں رہنے والے خاندانوں کو ہنگامی رہائشی سہولت فراہم کی جا رہی ہے اور لوگوں کو خطرناک پہاڑی ڈھلوانوں اور دیگر غیر محفوظ علاقوں سے منتقل ہونے میں مدد دی جا رہی ہے۔ متحرک طبی ٹیمیں اور صحت کی سہولیات فعال ہیں جبکہ تحفظ فراہم کرنے والی ٹیمیں بچوں اور دیگر کمزور افراد کو نفسیاتی امداد اور مخصوص معاونت فراہم کر رہی ہیں۔

بنگلہ دیش کو موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں آنے والی آفات سے شدید خطرہ لاحق ہے۔ 2025 میں ایسی آفات کے باعث 4.96 ملین افراد اندرون ملک بے گھر ہوئے جن میں بہت سے افراد طویل عرصے تک بے گھر رہے۔

رواں سال ایل نینو موسمی رجحان میں شدت آنے کے ساتھ 'آئی او ایم' اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایسا اجتماعی طریقہ کار وضع کر رہا ہے جس کا مقصد بے گھری کو روکنا، نقل مکانی پر مجبور ہونے والی آبادیوں کا تحفظ کرنا اور اس مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے۔