امریکہ: امیگریشن ججوں کی برطرفی پر انسانی حقوق ماہرین کو تشویش
اقوام متحدہ کے ماہرینِ انسانی حقوق نے امریکہ پر زور دیا ہے کہ ملک میں امیگریشن ججوں کی ناجائز اور بڑے پیمانے پر برطرفیوں اور امیگریشن عدالتوں کو سیاست زدہ کرنے کا سلسلہ فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں یہ رجحانات اس حوالے سے سنگین خدشات کے حامل ہیں کہ امیگریشن ججوں کو ان کے بارے میں تصور کردہ سیاسی وابستگی، پیشہ وارانہ پس منظر یا ان کے عدالتی فیصلوں کے ریکارڈ کی بنیاد پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، جنوری 2025 سے اب تک کم از کم 135 ججوں کو برطرف کیا جا چکا ہے جن میں 113 امیگریشن جج، 13 اسسٹنٹ چیف امیگریشن جج اور 9 اپیلیٹ امیگریشن جج شامل ہیں۔ یہ برطرفیاں کسی معقول وجہ یا انفرادی وضاحت کے بغیر عمل میں لائی گئیں۔
برطرفیاں اور ججوں پر دباؤ
ماہرین نے کہا ہے کہ، جن 78 برطرف شدہ امیگریشن ججوں کے بارے میں معلومات دستیاب ہیں ان میں سے 65 ایسے تھے جنہوں نے ملکی اوسط یا اپنی متعلقہ عدالت کی اوسط کے مقابلے میں پناہ کی درخواستیں زیادہ تعداد میں منظور کی تھیں۔ اسی طرح، تارکین وطن کے دفاع یا امدادی شعبے میں کام کرنے کا تجربہ رکھنے والے ججوں کو بھی غیر متناسب طور پر برطرف کیا گیا جبکہ سابق صدارتی انتظامیہ کے دور میں تعینات کیے گئے جج بھی خاص طور پر اس کارروائی کا نشانہ بنے۔
اطلاعات کے مطابق، بورڈ آف امیگریشن اپیلز میں اب صرف ایک ہی ایسا جج باقی رہ گیا ہے جسے ڈیموکریٹک جماعت کی حکومت نے مقرر کیا تھا جبکہ اپریل اور جولائی 2023 میں آزمائشی مدت کے لیے تعینات کردہ نصف سے زیادہ ججوں کو بھی ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔
جب بڑے پیمانے پر برطرفیاں کی جا رہی تھیں تو اسی دوران امریکی محکمہ انصاف نے 50 سے زیادہ پالیسی یادداشتیںجاری کیں جن میں کئی ایسی تھیں جن میں ججوں کو سست یا جانبدار انداز میں مقدمات نمٹانے کی صورت میں تادیبی کارروائی کے ممکنہ نتائج سے خبردار کیا گیا ہے۔
ماہرین نے کہا ہے کہ ایک ہی جج کی جانب سے نصف دن کے سیشن میں سیکڑوں افراد کے مقدمات سننے سے مقدمے کی انفرادی اور منصفانہ سماعت عملاً ناممکن ہو جاتی ہے۔
نظام انصاف کی آزادی کا نقصان
ماہرین نے کہا ہے کہ یہ برطرفیاں نہ صرف امیگریشن عدالتوں بلکہ پورے نظام انصاف کی آزادی کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور ان کے اثرات فوری اور نہایت سنگین ہیں۔ امیگریشن جج ایسے مقدمات کا فیصلہ کرتے ہیں جن میں یہ بھی یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ کسی شخص کو ملک بدر کیے جانے کی صورت میں اسے مظالم، تشدد یا کسی اور ناقابل تلافی نقصان کا سامنا تو نہیں ہو گا۔
جب جج آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انداز میں اپنے فرائض انجام نہیں دے سکتے تو غیر ملکی شہری اپنے موقف اور ملک بدری کے خلاف اعتراضات کو موثر انداز میں پیش کرنے کے بنیادی حق سے محروم ہو جاتے ہیں۔
عالمی قانون اور امریکہ
ماہرین نے یاد دلایا ہے کہ امریکہ نے بین الاقوامی قانون کے تحت تارکین وطن اور پناہ گزینوں کی جبری واپسی کی ممانعت سے متعلق متعدد ذمہ داریاں قبول کر رکھی ہیں جن میں تشدد کے خلاف کنونشن کی شق 3، بین الاقوامی عہدنامہ برائے شہری و سیاسی حقوق کی شق 6 و 7، اور مہاجرین سے متعلق 1951 کے کنونشن کی شق 33 کے تحت عائد ہونے والی ذمہ داریاں بھی شامل ہیں ہیں۔
ماہرین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ امریکی انتظامیہ امیگریشن عدالتوں کے نظام کو آزادانہ اور ہر مقدمے کی انفرادی بنیاد پر سماعت کرنے والے عدالتی فورم کے بجائے ملک بدری کے اہداف کو نافذ کرنے کے ذریعے میں تبدیل کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے ماہرین نے امریکہ کی حکومت کو اس معاملے میں اپنی تشویش سے باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے۔
غیر جانبدار ماہرین و اطلاع کار
غیرجانبدار ماہرین یا خصوصی اطلاع کار اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت مقرر کیے جاتے ہیں جو اقوام متحدہ کے عملے کا حصہ نہیں ہوتے اور اپنے کام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کرتے۔