پائیدار ترقی: رکن ممالک کا 4 کھرب ڈالر مہیا کرنے کے عزم کا اظہار
اقوام متحدہ کے رکن ممالک نے ایک اعلامیہ منظور کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جی) سے اپنی وابستگی کی توثیق اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ ان اہداف کو حاصل کرنے کی غرض سے درکار مالی وسائل میں 4 کھرب ڈالر کی کمی دور کرنے کے لیے اصلاحات نافذ کریں گے۔
یہ اعلامیہ پائیدار ترقی سے متعلق اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطحی سیاسی فورم (ایچ ایل پی ایف) کے اختتام پر منظور کیا گیا جو 7 جولائی سے نیویارک میں اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل (ایکوسوک) کے زیراہتمام جاری تھا۔ کونسل کے صدر لوک بہادر تھاپا نے کہا ہے، یہ اعلامیہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مکالمے، باہمی احترام اور مفاہمت کے ذریعے کثیرالفریقی تعاون ٹھوس نتائج دے سکتا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق، رکن ممالک کی جانب سے کی جانے والی اصلاحات کی بنیاد ان وعدوں پر ہو گی جو گزشتہ سال سپین کے شہر سیویل میں منعقدہ 'مالیات برائے ترقی کانفرنس' کے سربراہی اجلاس میں کیے گئے تھے۔ ان میں ترقیاتی مقاصد کے لیے سرکاری اور نجی سرمایہ کاری کو متحرک کرنے، ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں میں سہولت کے نظام کو وسعت دینے اور بدعنوانی کے خلاف موثر اقدامات کرنے کے وعدے شامل ہیں۔
حالیہ اعلامیہ میں رکن ممالک نے اقوام متحدہ کو درپیش مالی مشکلات کا بھی اعتراف کیا ہے اور عالمی تجارت و نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے خصوصاً بحری راستوں پر حملوں کی مذمت کی ہے، غربت کے خاتمے کو دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا ہے اور مصنوعی ذہانت کے جامع اور مشمولہ طرزانتظام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
کامیابیاں اور مسائل
اقوام متحدہ کی نائب سیکرٹری جنرل امینہ محمد نے گزشتہ 11 برسوں میں پائیدار ترقی کے اہداف سے حاصل ہونے والے تجربات کا جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان اہداف نے عالمی سطح پر کثیرالفریقی تعاون کو نئی جہت دی ہے تاہم حالیہ برسوں میں قومی مفادات کو اجتماعی تعاون پر ترجیح دینے کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اس عمل کو مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ 2030 کے ترقیاتی ایجنڈے کا کوئی متبادل تلاش نہیں کر رہا بلکہ مختلف امکانات پر غور کیا جا رہا ہے جن میں آئندہ ترقیاتی اہداف کا ایک نیا مجموعہ بھی شامل ہو سکتا ہے۔
امینہ محمد کا کہنا تھا کہ آئندہ پانچ برس میں اقوام متحدہ کا مقصد پائیدار ترقی کے اہداف سے متعلق وعدوں کو پورا کرنا اور 2030 کے بعد آنے والے ترقیاتی دور کی مضبوط بنیاد ڈالنا ہے۔
مالی وسائل کی قلت
'ایس ڈی جی' کو حاصل کرنے کے لیے درکار بیشتر مالی وسائل مقامی ذرائع سے حاصل کیے جاتے ہیں، تاہم اقوام متحدہ کے مطابق، غریب ترین ممالک میں پائیدار ترقی کے منصوبوں کے لیے سرکاری ترقیاتی امدادناگزیر حیثیت رکھتی ہے۔
اگرچہ سیویل اعلامیہ اور دیگر متعدد عالمی معاہدوں میں ان اہداف کے لیے مالی معاونت بڑھانے کے وعدے کیے گئے، لیکن اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے مطابق، 2024 سے 2025 کے درمیان سرکاری ترقیاتی امداد میں 23.1 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اس کی بڑی وجہ امریکہ، برطانیہ، جرمنی، فرانس اور جاپان کی جانب سے فراہم کی جانے والی امدادی رقوم میں آنے والی کمی ہے۔
حالیہ اعلامیہ پر دستخط کرنے والے ممالک نے ترقی یافتہ معیشتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے مقررہ ہدف کے مطابق اپنی مجموعی قومی آمدنی کا کم از کم 0.7 فیصد سرکاری ترقیاتی امداد کے لیے مختص کریں۔
مستقبل کی ترقیاتی حکمت عملی
اقوام متحدہ کے شعبہ اقتصادی و سماجی امور (ڈیسا) میں اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل نوید حنیف نے بتایا ہے کہ مربوط و مشترکہ اقدامات اور ڈیجیٹل تقسیم میں کمی لانے سے متعلق تصورات پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول میں نمایاں پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ترقیاتی پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ہوزے انتونیو اوکیمپو نے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے قرضوں کی بلند لاگت میں کمی اور کثیرالفریقی ترقیاتی بینکوں کی مالی استعداد میں اضافہ 'ایس ڈی جی' کے حصول کی رفتار تیز کرنے کے لیے نہایت اہم ہو گا۔
اعلیٰ سطحی سیاسی فورم کے دوران اقوام متحدہ کے حکام نے بارہا اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ موجودہ رفتار کے مطابق پائیدار ترقی کے متعدد اہداف 2030 تک مکمل طور پر حاصل ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر بھی غور شروع کر دیا ہے کہ 2030 کے بعد عالمی ترقیاتی پالیسی کی سمت کیا ہونی چاہیے۔