یورپ میں گرمی سے ہلاکتیں ناگزیر نہیں، عالمی ادارہ صحت
یورپ کو گرمی کی ریکارڈ توڑ اور جان لیوا لہر کا سامنا ہے جہاں حالیہ موسم میں 10 ہزار اضافی اموات ریکارڈ کی جا چکی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس صورتحال کو صحت عامہ کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے رکن ممالک کو بڑھتی حدت سے نمٹنے کے لیے نئی رہنما ہدایات جاری کی ہیں۔
'ڈبلیو ایچ او' نے کہا ہے کہ اس وقت یورپ دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن گیا ہے جہاں درجہ حرارت عالمی اوسط کے مقابلے میں تقریباً دوگنا تیز رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ اس صورتحال کے باعث صحت کے نظام، نگہداشت کی خدمات اور آبادیوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
ادارے کے مطابق، یورپ کے پانچ ممالک سے حاصل ہونے والے ابتدائی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ صرف اس موسم گرما میں ہی بڑھتی حدت کے باعث تقریباً 10 ہزار اضافی اموات ہو چکی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ہر سال مزید سنگین ہوتے جائیں گے۔ شہری آبادی میں اضافہ اور معمر افراد کی بڑھتی تعداد بھی اس بحران کو مزید شدت دے رہے ہیں جس کے نتیجے میں بیماریوں اور اموات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یورپ کے لیے 'ڈبلیو ایچ او' کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر ہینز کلوگے نے کہا ہے کہ یورپی خطے میں گزشتہ چار برس کے دوران ہی شدید گرمی دو لاکھ سے زیادہ جانیں لے چکی ہے جبکہ گزشتہ 20 سال کے دوران گرمی سے ہونے والی اموات میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اموات ناگزیر نہیں ہیں۔ لوگوں کو محفوظ رکھنے کے موثر طریقے موجود ہیں جن کے ذریعے زندگی کو تحفظ دیا جا سکتا ہے۔
بڑھتی حدت اور نئی رہنمائی
ڈبلیو ایچ او نے پہلی مرتبہ 2008 میں ہیٹ ہیلتھ ایکشن پلانز سے متعلق جامع رہنما اصول جاری کیے تھے۔ حالیہ ہدایات میں رکن ممالک اور مقامی حکومتوں کے لیے آٹھ بنیادی اصول متعین کیے گئے ہیں، جن میں موثر انتظام و انصرام، گرمی سے متعلق بروقت انتباہی نظام، زیادہ خطرے سے دوچار آبادی کا تحفظ، موثر ابلاغ، صحت کے نظام کی مضبوطی، گرمی سے بچاؤ کے اقدامات، نگرانی اور اعداد و شمار کا جائزہ اور مسلسل جانچ، تجزیہ اور سیکھنے کا عمل شامل ہے۔
علاوہ ازیں، مختلف شعبوں کے لیے پانچ رہنما دستاویزات اور صحت عامہ سے متعلق ایک جامع پیغام نامہ بھی تیار کیا گیا ہے جس میں لوگوں کے لیے ایسی ہدایات شامل ہیں جن پر عمل کر کے وہ خود اور دوسروں کو شدید گرمی کے اثرات سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔
ہسپتالوں پر گرمی کا بوجھ
'ڈبلیو ایچ او' نے شدید گرمی کے خلاف رہنمائی میں زور دیا ہے کہ صحت کی سہولتوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور محفوظ بنایا جائے کیونکہ شدید گرمی کے دوران مریضوں کی تعداد بڑھنے سے ایسے ہسپتالوں پر غیر معمولی دباؤ آتا ہے جو بلند درجہ حرارت برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
یہ مسئلہ خاص طور پر شہری علاقوں میں زیادہ سنگین ہے جہاں عمارتوں اور سڑکوں کی کثرت گرمی کو جذب کر کے ماحول کو اردگرد کے دیہی یا مضافاتی علاقوں کے مقابلے میں زیادہ گرم رکھتی ہے۔
شدید گرمی کے باعث ہسپتالوں کی عمارتیں بھی حد سے زیادہ گرم ہو جاتی ہیں جس سے بجلی کی فراہمی، ٹھنڈک کے نظام، کمپیوٹر اور دیگر تکنیکی نظام متاثر ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ طبی عملہ اور مریض دونوں شدید گرمی کی وجہ سے جسمانی اور ذہنی دباؤ اور تھکن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
جائزہ، سرمایہ کاری اور پیشگی تیاری
ادارہ 'گرمی سے محفوظ ہسپتالوں کے اقدام' کے ذریعے یورپ بھر میں طبی مراکز کو حدت سے تحفط دینے میں معاونت فراہم کر رہا ہے۔ اس پروگرام کے ذریعے یہ جانچا جاتا ہے کہ ہنگامی حالات میں صحت کی سہولتیں خدمات جاری رکھنے کے قابل رہیں گی یا نہیں۔
ماضی میں اس طریقہ کار کا استعمال عموماً زلزلوں اور سیلاب جیسی قدرتی آفات کے لیے کیا جاتا تھا تاہم اب اس کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے خطرات، خصوصاً شدید گرمی کا جائزہ بھی لیا جا رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں آرمینیا، جارجیا، قازقستان، پولینڈ اور یوکرین نے 'ڈبلیو ایچ او' کے تعاون سے مختلف جائزے اور تربیتی پروگرام مکمل کیے ہیں جس سے متعلقہ حکام کو سرمایہ کاری کی ترجیحات طے کرنے اور ہنگامی تیاریوں کو بہتر بنانے میں مدد ملی ہے۔
برطانیہ کا موثر نظام
برطانیہ اس بات کی نمایاں مثال ہے کہ طبی سہولیات کو گرمی سے تحفظ دینے کا نظام کس طرح فائدہ مند ہوتا ہے۔
ملک میں شدید موسمی حالات سے متعلق طبی منصوبے کے تحت محکمہ موسمیات کے اشتراک سے رنگوں پر مبنی انتباہی نظام نافذ کیا گیا ہے جس میں ہر درجے کے انتباہ کے ساتھ طبی اداروں، مقامی حکومتوں، تنظیموں اور عوام کے لیے واضح ہدایات دی جاتی ہیں۔
مئی میں 35.1 ڈگری سینٹی گریڈ تک ریکارڈ درجہ حرارت کی پیش گوئی پر ایمبر الرٹ جاری کیا گیا جبکہ اگلے ماہ جب ملک کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت غیر معمولی طور پر 37.7 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا تو ریڈ الرٹ نافذ کر دیا گیا۔